اسلام ایک ایسا دین ہے جس نے معاشرتی تعلقات میں نرمی ،درگزر ، خیر خواہی اور اخلاق حسنہ کے ساتھ پیش آنے کا حکم دیا ہے ۔ دنیا میں کوئی بھی شخص تنہا اپنی ضرورتیں پوری نہیں کر سکتا، اسی لیے لوگ ایک دوسرے سے لین دین کرتے ہیں، کوئی قرض دیتا ہے اور کوئی لیتا ہے ۔ مگر بعض اوقات حالات ایسے آ جاتے ہیں کہ مقروض اپنی استطاعت کے باوجود قرض ادا کرنے سے عاجز ہو جاتا ہے ۔ ایسے موقع پر اسلام ہمیں سختی یا بدکلامی کے بجائے نرمی، مہربانی اور آسانی کا حکم دیتا ہے ۔ بہت سی ایسی احادیث مبارکہ ہیں جن میں مقروض پر نرمی، آسانی اور قرض معاف کرنے کی تعلیم دی گئی ہے آئیے چند احادیث مبارکہ پڑھنے کی سعادت حاصل کرتے ہیں ۔

(1)سایہ رحمت پانے والا:جو شخص دنیا میں کسی مقروض پر آسانی کرتا ہے، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس پر اپنی خاص رحمت اور سایہ عطا فرمائے گا، جب کوئی اور سایہ نہ ہوگا ۔ جیسا کہ حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی اکرم نے ارشاد فرمایا ’’جس نے تنگ دست کو مہلت دی یا اس کا قرض معاف کر دیا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے عرش کے سائے میں رکھے گا جبکہ اس کے سوا کوئی سایہ نہ ہو گا ۔ (ترمذی، کتاب البیوع، باب ما جاء فی انظار المعسر ۔ ۔ ۔ الخ، 3 / 52، الحدیث: 1310)

(2) قیامت کی تکالیف سے نجات پانے والا:مقروض کے قرض معاف کر دینے والا شخص قیامت کی تکالیف وہولناکیوں سے محفوظ ہوجاتا ہےجیساکہ حضرت ابو قتادہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ َ نے ارشاد فرمایا’’جو شخص یہ چاہتا ہو کہ اللہ تعالیٰ اس کو قیامت کے دن کی تکلیفوں سے نجات دے وہ کسی مُفلِس کو مہلت دے یا اس کا قرض معاف کردے ۔ (مسلم،کتاب المساقاۃ والمزارعۃ، باب فضل انظار المعسر، ص845 الحدیث:32(1563)

(3)دنیا و آخِرت کی آسانیاں پانے والا:مقروض پر جو شخص آسانیاں پیدا کر دیتا ہےیعنی اس کو مہلت دے یا اس کا قرض معاف کرے تو اللہ عزوجل ایسے شخص پر دنیا و آخرت میں آسانیاں فرمائے گا ۔ جیساکہ نبی کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا:جو کسی تنگدست (مقروض) پر آسانی کرے گا اللہ تعالیٰ دنیا و آخِرت میں اس پر آسانی فرمائے گا ۔ (ابن ماجہ،ج 3،ص147، حديث: 2417)

(4)قرض کا ثواب: قرض واپس ملنے میں تاخیر پر قرض خواہ کو چاہئے کہ صبر کرے اور اس حدیث شریف میں بیان کردہ ثواب کا مستحق بنے ، چنانچہ رسول اکرم ﷺ َ نے ارشاد فرمایا : جب کسی کا دوسرے پر دَین (یعنی قرض )ہو اور اس کی مِیعاد گزر جائے تو ہر روز اسی قدر روپیہ کی خیرات کا ثواب ملتا ہے جتنا دَین (یعنی قرض) ہے ۔ (شعب الایمان7/538، حدیث : 11261)

(5)قرض معاف کرنے کا صلہ:جوشخص مقروض کا قرض معاف کر دیتا ہے تو اس شخص کے مرنے کے بعد اللہ عزوجل اس کو کیسا بدلہ عطاء فرمائے گا آئیے اس حدیث شریف میں پڑھتے ہیں ۔ حضرت حذیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ، حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:’’ گزشتہ زمانے میں ایک شخص کی روح قبض کرنے جب فرشتہ آیا تو مرنے والے سے سوال کیا کہ کیا تجھے اپنا کوئی اچھا کام یاد ہے؟ اس نے کہا، میرے علم میں کوئی اچھا کام نہیں ہے ۔ اس سے کہا گیا :غور کر کے بتا ۔ اُس نے کہا: صرف یہ عمل تھا کہ دنیا میں لوگوں سے تجارت کرتا تھا اور ان کے ساتھ اچھی طرح پیش آتا تھا، اگر مالدار بھی مہلت مانگتا تو اسے مہلت دے دیتا تھا اور تنگدست سے درگزر کرتا یعنی معاف کر دیتا تھا ۔ اللہ تعالیٰ نے (فرشتے سے ) فرمایا:تم اس سے در گزر کرو ۔ (مسند امام احمد، حدیث حذیفۃ بن الیمان، 98/9 الحدیث: 23413 مسلم،کتاب المساقاۃ والمزارعۃ، باب فضل انظار المعسر، ص843، الحدیث: 26(1560)

پیارے پیارے اسلامی بھائیو!مذکورہ بالا احادیث مبارکہ میں مقروض پر نرمی درگزر کرنے کی ترغیب دلائی گئی ہے جبکہ افسوس! ہمارے ہاں ایک تعداد سُودی قرضے دینے پر تو آمادہ نظر آتی ہے مگر بغیر نفع کےقرضِ حَسَنہ دیتے ہوئے ان کی جان جاتی ہے حالانکہ سُودی لین دین دنیا و آخرت کی تباہی کا سبب ہے ۔ بعض لوگ مقروض کی بے بسی کا فائدہ اس طرح سے اٹھاتے ہیں کہ اسے اپنا زَرخرید غلام سمجھ لیتے ہیں خصوصاً گاؤں وغیر ہ میں یہ صورتحال زیادہ ہے کہ مقروض کے پورے کنبے کو اپنا غلام تصور کیا جاتا ہے ۔ انہیں بلیک میل کرنا، ڈرانا دھمکانا عام ہے ۔ بعض لوگ مقروض کی عزّتِ نفس کو مَجْروح کرتے نظر آتے ہیں،اس طرح کہ ادائیگی میں تاخیر ہونے پر مقروض کی بے عزّتی کرنے میں ذرا بھی نہیں ہچکچاتے ۔ مکان یا دکان کاکرایہ مانگتے ہوئے جان بوجھ کر شور مچاکر پڑوسیوں کو جمع کرتے ہیں اور پھر سب کے سامنے مقروض کی عزت کی دھجّیاں بَکھیرتے اور اِیذائےمسلم جیسے کبیرہ گناہ میں مُلَوَّث نظر آتے ہیں ۔ ایسوں کو بھی مقروض سے نرمی اور آسانی کا مُظاہرہ کرنا چاہئے ۔ برخلاف اگر قرض دار مالدار ہے اور ادائیگی پر قادر ہونے کے باوجود قرض ادا نہ کرے تو قرض خواہ سختی کے ساتھ آپنے قرض کا مطالبہ کرسکتا ہے امام اہلِ سنّت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرَّحمٰن فرماتے ہیں: جو دے سکتاہے اور بلاوجہ لیت ولعل کرے وہ ظالم ہے اور اس پر تشنیع وملامت جائز ۔ (فتاویٰ رضویہ ،ج 23،ص286)اللہ عزوجل ہمیں عمل کرنے کی توفیق عطاء فرمائے آمین بجاہ خاتم النبین ۔