اللہ عزوجل نے جو دین اپنے محبوب آقائے دو جہاں مصطفیٰ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کو عطا فرمایا ہے اس میں مظلوموں، تنگدستوں غریبوں اور مقروضوں کی مدد کا حکم دیا گیا ہے تاکہ وہ بھی پر سکون زندگی گزار سکے ۔  آئیں اس کے متعلق حضور علیہ الصلاۃ والسلام کی تعلیمات کا مطالعہ کرے ۔

عرش کا سایہ اور مقروض کو مہلت دینے والا :حضور جان عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا:جو کسی تنگدست کو مہلت دے یا اس کاقرض مُعاف کر دے تو اللہ تعالیٰ اسے اس دن عَرْش کے سائے میں جگہ عطا فرمائے گا کہ جس دن عرش کے سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا ۔ (ترمذی، 3/ 52، حديث:1310)

یعنی جس دن سوائے عرش کے سائے کے کوئی سایہ نہیں ہوگا اور شدید گرمی کی حالت میں رب العالمین کے عرش کا سایہ ملنا رب العزت کا بہت بڑا فضل ہے جو چند لوگوں کو ہی ملے گا اب میں سے قرض دار کو مہلت دینے والا بھی ہے ۔

دنیا و آخرت کی آسانی :حضور نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو کسی تنگدست (مقروض) پر آسانی کرے گا اللہ تعالیٰ دنیا و آخِرت میں اس پر آسانی فرمائے گا ۔ (ابن ماجہ،ج 3،ص147،رقم: 2417)

اس حدیث مبارکہ میں ہے کہ اللہ اس کی دنیا کی بھی اور آخرت کی بھی مشکلات کو دور فرمائے گا ۔

قرض میں مہلت اور بخشش:رسولِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا:ایک شخص نے کبھی کوئی نیک کام نہ کیا تھا، البتہ! وہ لوگوں کو قرض دیا کرتا اور اپنے نوکروں سے کہا کرتا مقروض کے لئے جتنا قرضہ ادا کرنا آسان ہو اتنا لے لینا اور جتنا ادا کرنا مشکل ہو اتنا چھوڑ دینا، اے کاش! ہمارا ربّ بھی ہم سے درگزر فرمائے ۔ جب اس کا اِنتقال ہوگیا تو اللہ پاک نے دریافت فرمایا:کیا تو نے کبھی کوئی نیکی بھی کی؟ اس نے عرض کی:نہیں، البتہ! میں لوگوں کو قرض دیا کرتا تھا اور جب آپنے خادِم کو قرض کی وصولی کے لئے بھیجتا تو اسے کہا کرتا تھا کہ جتنا آسان ہو اتنا لے لینا جتنا مشکل ہو اتنا چھوڑ دینا، ہو سکتا ہے کہ اللہ پاک ہم سے بھی درگزر فرمائے ۔ تو اللہ پاک نے ارشاد فرمایا: میں نے تمہیں بخش دیا ۔ (مسند امام احمد، 3/285، حدیث:8738)

ہمیں بھی چاہیے کہ اگر رب العالمین نے ہمیں مال و دولت دیا ہے تو اس سے لوگوں کی مدد کرے اور انھیں بغیر صود کے قرض دیں ۔ اگر کوئی قرض واپس کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا تو اسے اللہ کی رضا کے لیے معاف کردے یا اس مہلت دیں ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں خدمت خلق کی توفیق عطا فرمائے آمین ۔ یارب العالمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم ۔