(1) قرض معاف کرنا : عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: كَانَ الرَّجُلُ يُدَايِنُ النَّاسَ، فَكَانَ يَقُولُ لِفَتَاهُ: إِذَا أَتَيْتَ مُعْسِرًا فَتَجَاوَزْ عَنْهُ، لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يَتَجَاوَزَ عَنَّا، قَالَ: فَلَقِيَ اللَّهَ فَتَجَاوَزَ عَنْهُ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ایک شخص لوگو ں کو قرض دیا کرتا تھا اور اپنے نوکر کو اسے اس نے کہہ رکھا تھا کہ جب تو کسی تنگ دست کے پاس تقاضا کو جائے توا سے معاف کردے ہوسکتا ہے کہ اللہ ہم کو معافی دے دے فرمایا کہ وہ اللہ سے ملا تو رب نے اس سے در گزر فرمائی ۔ ( مشکوٰۃ المصابیح ، جلد 1 ، کتاب البیوع ، باب الافلاس والانظار ،صفحہ 257 ، حدیث : 2772)

شرح: سارا قرض معاف کردے یا کچھ قرض یا مہلت دے دے کہ جلدی تقاضا نہ کرے،معافی میں یہ سب کچھ داخل ہے ۔ (مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:4 ، حدیث نمبر:2901)

(2) مقروض پر نرمی کرنا: عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: أُصِيبَ رَجُلٌ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثِمَارٍ ابْتَاعَهَا، فَكَثُرَ دَيْنُهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَصَدَّقُوا عَلَيْهِ، فَتَصَدَّقَ النَّاسُ عَلَيْهِ، فَلَمْ يَبْلُغْ ذَلِكَ وَفَاءَ دَيْنِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِغُرَمَائِهِ: خُذُوا مَا وَجَدْتُمْ، وَلَيْسَ لَكُمْ إِلَّا ذَلِكَ،روایت ہے حضرت ابو سعید سے فرماتے ہیں کہ ایک شخص نبی کریم ﷺ کے زمانہ میں کچھ پھلوں میں جو اس نے خریدے تھے گھاٹے میں پڑگیا تو اس پر بہت قرض ہوگیا رسول الله ﷺ نے فرمایا اس پر صدقہ کرو لوگوں نے اسے صدقہ دیا مگر صدقہ اس کے ادائے قرض تک نہ پہنچ سکا تب رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے اس کے قرض خواہوں سے فرمایا جو پاؤ وہ لے لو تو تمہیں اس کے سواء کچھ نہ ملے گا ۔ ( مشکوٰۃ المصابیح ، جلد 1 ، کتاب البیوع ، باب الافلاس والانظار ، ص :257 ، حدیث: 2771)

شرح : یعنی اس وقت زیادہ نہ ملے گا اور نہ تم مقروض کو قید و بند کرسکتے ہو،اسے مہلت دو جب اس کے پاس مال ہوجائے لے لو،یہ مطلب نہیں کہ اب تمہارا بقیہ قرض ملے گا ہی نہیں،مارا گیا یا معاف ہوگیا ۔ خیال رہے کہ اس مقروض کو قید کرایا جاسکتا ہے جس کے متعلق شبہ ہو کہ اس کے پاس مال تو ہے مگر چھپالیا ہے پھر جب اس کی ناداری معلوم ہوجائے تو اسے قید نہیں کیاجاسکتا ۔ ( مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:4 ، حدیث نمبر:2900 )

(3) اللہ رحم فرمائے گا : حضرت جابر بن عبد اللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضورِ اقدس ﷺ نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم کرے جو بیچنے اور خریدنے اور تقاضا کرنے میں آسانی کرے ۔ (بخاری، کتاب البیوع، باب السہولۃ والسماحہ فی الشراء والبیع، 2/ 12، الحدیث: 2076)

(4) عرش اعظم کا سایہ : وَعَنْ أَبِي الْيُسْرِ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَنْ أَنْظَرَ مُعْسِرًا أَوْ وَضَعَ عَنْهُ أَظَلَّهُ اللّٰهُ فِي ظِلِّهٖ ،

روایت ہے حضرت ابوالیسر سے فرماتے ہیں میں نے نبی کریم ﷺ کو فرماتے سنا کہ جو کسی تنگدست کو مہلت یا معافی دے تواللہ اسے اپنے سایہ میں جگہ دے گا ۔ (مشکوٰۃ المصابیح، جلد 1 ، کتاب البیوع ، باب الافلاس والانظار ، ص : 257 ، حدیث : 2775)

شرح: اپنے سایہ سے مراد عرش اعظم کا سایہ ہے کہ قیامت میں صرف اسی کا سایہ ہوگا،وہاں ہی دھوپ اور تپش سے امان ہوگی،مقروض پر آسانی کرنے والا تنہائی میں اپنے گناہ یاد کرکے رونے والا،گناہ کرنے کے ارادہ پر رب کو یاد کرکے ہٹ جانے والا وغیرہ اس کے سایہ میں ہوں گے ۔ ( کتاب:مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:4 ، حدیث نمبر:2904 )

(5) موت کے وقت در گزر : حضرت حذیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ، حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:’’ گزشتہ زمانے میں ایک شخص کی روح قبض کرنے جب فرشتہ آیا تو مرنے والے سے سوال کیا کہ کیا تجھے اپنا کوئی اچھا کام یاد ہے؟ اس نے کہا، میرے علم میں کوئی اچھا کام نہیں ہے ۔ اس سے کہا گیا :غور کر کے بتا ۔ اُس نے کہا: صرف یہ عمل تھا کہ دنیا میں لوگوں سے تجارت کرتا تھا اور ان کے ساتھ اچھی طرح پیش آتا تھا، اگر مالدار بھی مہلت مانگتا تو اسے مہلت دے دیتا تھا اور تنگدست سے درگزر کرتا یعنی معاف کر دیتا تھا ۔ اللہ تعالیٰ نے (فرشتے سے ) فرمایا:تم اس سے در گزر کرو ۔

( مسلم،کتاب المساقاۃ والمزارعۃ، باب فضل انظار المعسر، ص843، الحدیث: 26(1560))