پیارے پیارے اسلامی بھائیو! اللہ پاک کا ہم پر لاکھ احسان ہے کہ اس نے ہیں مسلمان پیدا فرمایا ہے  ۔ اور مسلمانوں کو آپس میں نرمی اور محبت سے رہنے کا درس دیا ہے ۔ لیکن آج کے اس دور میں یہ دیکھا گیا ہے کہ آج کل لوگ مجبور وتنگدست قرض دار کے ساتھ بہت ہی نارَوا سلوک کرتے ہیں ، اس کے ساتھ نرمی کرنے کے لیے بالکل تیار نہیں ہوتے ، وہ جہاں مل جائے اُس کی عزت پامال کرکے رکھ دیتے ہیں ، آئے دن اُس کے گھر کے چکر لگاتے ، دروازہ بجاتے ، گھر کے باہر کھڑے ہوکر اُسے باتیں سناتے ، بلکہ بعض بے باک لوگ تو گالیاں تک بَک جاتے اور اُس بے چارے ، لاچار ، غریب اور بے بس شخص کی عزت کا جنازہ نکالتے نظر آتے ہیں ۔ حالانکہ احادیث مبارکہ میں تنگدست ومجبور قرض دار کے ساتھ نرمی کرنے کی ترغیب دلائی گئی ہے ۔

(1)مقروض پر نرمی کا درس دیا:اُمّ المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں کہ حضور نبی کریم ﷺ نے دروازے کے باہر دو لڑنے والوں کی بلند آواز سنی جن میں سے ایک دوسرے سے قرض کم کرنے کا مطالبہ کر رہا تھا اور قرض میں نرمی چاہ رہا تھا جبکہ دوسرا آدمی کہہ رہا تھا کہ خدا کی قسم! میں ایسا نہیں کروں گا ۔ ‘‘ آپ ﷺ اُن کے پاس تشریف لائے اور فرمایا : ’’کون ہے جو اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم کھاکر کہتا ہے کہ میں نیکی نہیں کروں گا؟‘‘ تو اُن میں سے ایک نے عرض کی : ’’یارسولَ اللہ ﷺ !وہ میں ہوں ، اور اب اِس (مقروض) کے لیے وہی ہے جو یہ چاہتا ہے ۔ ‘‘(فیضان ریاض الصالحین جلد:3 ، حدیث نمبر:250)

عَلَّامَہ اَبُو الْحَسَن اِبْنِ بَطَّال رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : ’’اس حدیث میں قرض دار کے ساتھ نرمی برتنے ، اچھا سلوک کرنے اور قرضے میں کمی کرنے پر اُبھارا گیا ہے ۔ نیز اِس حدیث میں حضور ﷺ نے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم کھانے سے منع فرمایا کیونکہ اِس میں بندے کا خود مختار اور اپنے اِرادے پربذاتِ خود قادر ہونے کا معنیٰ پایا جارہا ہے گویا کہ اُس نے حتمی طور پر فیصلہ کر لیا کہ میں یہ کام نہیں کروں گااور یہ فرقہ قدریہ کے عقائد کے مشابہ ہے جو کہ بندے کے خود مختار ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں کہ بندہ آپنے اَفعال کے بارے میں خود مختار ہے ، اس لیے رسولُ اللہ ﷺ نے اُنہیں اِس پر تنبیہ فرمائی اور وہ فورا ًسمجھ گئے اور اپنی قسم سے رُجوع کرلیا اور کہا کہ اِس مقروض کے لیے وہی ہے جو یہ چاہےیعنی قرضے میں کمی اور نرمی(جو چاہے میں اُس کے لیے کردوں گا) ۔

(2) آخرت میں آسانیاں :جو دنیامیں تنگ دست کو آسانی فراہم کرےگا ، اللہ عَزَّوَجَلَّ دنیا وآخرت میں اُس کے لئے آسانیاں پیدا فرمائے گا ۔ (مسلم کتاب الذکر والدعا،باب فضل الاجتماع علی تلاوةالقرآن، ص1447،حدیث2699)

(3)عرش کے سائے میں جگہ:جس نے تنگد ست کو مہلت دی یااُس کے قرض میں کمی کی ، اللہ عَزَّوَجَلَّ قیامت کے دن اُسے اپنے عرش کے سائے میں جگہ دے گا جس دن اُس سائے کے علا وہ کوئی سایہ نہ ہوگا ۔

(ترمذی، کتاب البیوع، باب ماجاءفی انظار المعسروالرفق بہ3/52،حدیث1310)

(4) دو بار مال صدقہ کرنے کا ثواب :جس نے کسی تنگ دست کو مہلت دی تو اُس کے لئے ہر روز اُس قرض کی مثل صدقہ کرنے کا ثواب ہے ۔ “ راوی کہتے ہیں کہ پھر میں نے سرکارِ مدینہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : “ جس نے کسی تنگ دست کو مہلت دی تو اُسے روزانہ اتناہی مال دو مرتبہ صدقہ کرنے کا ثواب ملے گا ۔ “ میں نے عرض کی : ’’یارسولَ اللہ ﷺ !پہلے تو میں نے آپ کویہ فرماتے ہوئے سناتھا کہ جس نے کسی تنگدست کو مہلت دی اُس کے لئے ہر روز اس قر ض کی مثل صدقہ کرنے کاثواب ہے پھر آپ ﷺ نے یہ فرمایاکہ جس نے کسی تنگد ست کو مہلت دی اُس کے لئے ہر روز اس قرض سے دوگنا صدقہ کرنے کا ثواب ہے ۔ ‘‘ آپ ﷺ نے ارشادفرمایا : اُسے روزانہ قر ض کی مقدار کے برابر مال صدقہ کرنے کا ثو اب تو قر ض کی ادا ئیگی کا وقت آنے سے پہلے ملے گااور جب ادائیگی کاوقت ہوگیا پھر اُس نے قرض دار کو مہلت دی تو اُسے روزانہ اتنا مال دو مرتبہ صدقہ کرنے کاثوا ب ملے گا ۔ (مسند احمد،حدیث بریداسلمی9/32،ح 23107)

ان چند احادیث کریمہ سے یہ معلوم ہو کہ نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی علیہ وسلم نے ہمیں مقروض پر نرمی کی تعلیم فرمائی ہے ۔ اے کاش کہ ہم پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات اور سنتوں پر عمل کرنے میں کامیاب ہو جائیں ۔