فیضان
حیدر (درجۂ رابعہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور، پاکستان)
مقروض سے ہمیشہ نرمی اور حسن سلوک سے پیش آنا چاہیے ضرورت مندوں کو
قرض دینا اور قرض کی بہترین ادائیگی کرنا اسلام میں جہاں اس کی ترغیب ہے وہاں
تنگدست مقروض سے شفقتوں مہربانی اور نرمی سے پیش آنا بھی اسلامی تعلیمات کا روشن
باب ہے۔ اس سوچ کے تحت اچھی اچھی نیتوں کے ساتھ دیے جانے والا قرض ثواب کا ذریعہ
بنتا ہے مقروض پر نرمی کرنے کے بارے میں نبی پاک صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی تعلیمات
کی روشنی میں چند احادیث پیش خدمت ہیں ۔
(1) قرض میں کمی کرنا: حضرت سیدنا ابو ہریرہ
رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ حضور پاک صاحب کو لاک، سیاح افلاک صلی اللہ
تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا : جس نے تنگدست کو مہلت دی یا اس کے قرض میں کمی کی،
اللہ عز وجل اسے قیامت کے دن اپنے عرش کے سائےمیں جگہ دے گا جس دن اس سائے کے
علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا“ (ترمذی، کتاب البیوع ، باب ما جاء فی انظار المعسر ، رقم
۱۳۱۰، ج ۳ ص ۵۲)
(2)دوگنامال
صدقہ کرنے کا ثواب:ایک روایت میں ہے کہ جس نے قرض کی ادائیگی کے وقت سے پہلے تنگدست کو مہلت دی
اسے روزانہ اتنا مال صدقہ کرنے کا ثواب
ملے گا اور جس نے وقت ادائیگی کے بعد مہلت دی اسے روزانہ اس سے دُگنا مال صدقہ
کرنے کا ثواب ملے گا ۔ “ ( مجمع الزوائد،
كتاب البيوع، باب فی من فرج عن معسر ، رقم ۲۶۷۶، ج ۴، ص ۲۴۲)
(3)تنگدست
کو مہلت دینا : حضرت ابن عباس رضی
اللہ تعالی عنہا سے روایت ہے کہ شہنشاہ خوش خصال، پیکرِ حُسن و جمال، دافع رنج و
ملال، صاحب جو دونوال، رسول بے مثال ، بی بی آمنہ کے لال صلی اللہ تعالیٰ علیہ
والہ وسلم مسجد میں تشریف لائے تو زمین کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرما رہے تھے، جس
نے تنگدست کو مہلت دی یا اس کے قرض میں کمی کی اللہ عز وجل اسے جہنم کی گرمی سے
بچائے گا ۔ ( مجمع الزوائد، كتاب البيوع ، باب فی من فرج عن معسر ، رقم ۶۶۶۶ ، جلد ۴، ص ۲۴۰ )
(4)قرض دینے
کا انعام: سیدنا حذیفہ رضی اللہ
تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سر ور، دو جہاں کے جانور،
سلطان بحر و بر صلی اللہ علی علیہ والہ وسلم نے فرمایا تم سے پہلی امتوں کے ایک
شخص کی روح سے فرشتوں کی ملاقات ہوئی تو انہوں نے اس سے پوچھا کیا تو نے کوئی اچھا
کام کیا ہے؟ اس نے جواب دیا نہیں ۔ فرشتوں نے کہا، یاد کرو ۔ اس نے کہا میں لوگوں کو قرض دیا کرتا تھا اور اپنے
خادم سے کہہ دیا کرتا تاکہ تھا کہ تنگ دست کو مہلت دیا کرو اور اور مالدار سے چشم
پوشی کروں توار تو اللہ عزوجل نے فرمایا ، اسے
معاف کر دو
۔ “(جنت میں لے جانے والے امال،ص، 247 حدیث 663)
(5) مقروض پر نرمی کے صدقے بخشش:ایک روایت
میں ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا : ایک شخص جس نے کبھی کوئی اچھا عمل نہ
کیا تھا، لوگوں کو قرض دیا کرتا تو اپنے قاصد سے کہا کرتا " قرض دار جو کچھ
آسانی سے دے اسے لیا کرو اور جس میں قرضدار کو دشواری ہوا سے چھوڑ دیا کرو اور چشم
پوشی کرو شاید اللہ عزوجل ہمیں معاف فرما فرمادے دے ۔ جب اس کا انتقال ہوا تو اللہ عزوجل نے اس سے فرمایا
کیا تو نے کبھی کوئی اچھا عمل کیا ؟ تو اس نے عرض کیا نہیں، مگر میرا ایک غلام تھا
اور میں لوگوں کو قرض دیا کرتا تھا، جب میں اسے قرض کا تقاضا کرنے کے لئے بھیجا تو
اسے کہتا جو آسانی سے ملے وہ لے لو اور جس میں قرضدار کو دشواری ہوا سے چھوڑ دو
اور چشم پوشی ۔ کرو، شاید الله عز وجل ہم
سے چشم پوشی فرمائے ۔ تو اللہ عزو جل نے اس سے فرمایا ” بے شک میں نے
تجھے معاف کر دیا ۔ ( سنن النسائی، کتاب
البیوع، باب حسن المعاملۃ والرفق فی المطالبۃ، ج ۷، رقم ۱۵۶۲ ص ۸۴۵)
اللہ تعالی
ہمیں ان تمام احادیث مبارکہ پر عمل کرنے کی توفیق توفیق عطا فرمائے اور مقروض پر
نرمی کرنے کی توفیق عطا فرمائے امین ۔
Dawateislami