احمد
رضا (درجہ خامسہ مدنی مرکزی جامعۃُ المدینہ فیضان مدینہ کراچی، پاکستان)
انسانی
معاشرہ باہمی تعاون، ہمدردی اور خیر خواہی کے جذبے سے قائم رہتا ہے ۔ ہر انسان کی زندگی میں فراخی کے ساتھ کبھی تنگی
کا وقت بھی آتا ہے، اور ایسے وقت میں قرض لینا بعض اوقات مجبوری بن جاتا ہے ۔ شریعتِ مطہرہ نے جہاں قرض کی ادائیگی کو لازم
قرار دیا ہے، وہیں مقروض کے ساتھ نرمی، مہلت اور شفقت برتنے کی بارہا تاکید بھی
فرمائی ہے ۔ نبی کریم ﷺ کی سیرتِ طیبہ ہمیں
یہ سکھاتی ہے کہ محتاجوں، مقروضوں اور مجبوروں کے ساتھ حسنِ سلوک کیا جائے، ان پر
سختی نہ کی جائے، بلکہ ان کی آسانی کے لیے مہلت دینا، معاف کرنا یا سہولت فراہم
کرنا باعثِ اجر ہے ۔ ایسے اخلاقی اصول
اسلامی تعلیمات کی روشن مثال ہیں جو ایک پرامن، رحم دل اور فلاحی معاشرے کی بنیاد
فراہم کرتے ہیں ۔
اس ضمن میں
چند احادیث کریمہ ملاحظہ ہوں جس میں تاجدارِ رسالت ﷺ نے
بھی اپنے اقوال و افعال و کردار سے نرمی برتنی کی تعلیم دی چانچہ:
(1)اُمّ
المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں کہ
حضور نبی کریم ﷺ نے دروازے کے باہر دو لڑنے والوں کی بلند آواز
سنی جن میں سے ایک دوسرے سے قرض کم کرنے کا مطالبہ کر رہا تھا اور قرض میں نرمی
چاہ رہا تھا جبکہ دوسرا آدمی کہہ رہا تھا کہ خدا کی قسم! میں ایسا نہیں کروں گا
۔ ‘‘ آپ ﷺ اُن کے پاس تشریف لائے اور فرمایا
: ’’کون ہے جو اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم کھاکر کہتا ہے کہ میں نیکی نہیں کروں
گا؟‘‘ تو اُن میں سے ایک نے عرض کی : ’’یارسولَ اللہ ﷺ !وہ میں ہوں ، اور اب اِس (مقروض) کے لیے وہی
ہے جو یہ چاہتا ہے ۔ ‘‘(فیضان ریاض الصالحین جلد:3 ، حدیث نمبر:250)
عَلَّامَہ
اَبُو الْحَسَن اِبْنِ بَطَّال رَحْمَۃُ
اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : ’’اس
حدیث میں قرض دار کے ساتھ نرمی برتنے ، اچھا سلوک کرنے اور قرضے میں کمی کرنے پر
اُبھارا گیا ہے ۔
میٹھے میٹھے
اسلامی بھائیو! دیکھا گیا ہے کہ آج کل لوگ مجبور وتنگدست قرض دار کے ساتھ بھی بہت
ہی نارَوا سلوک کرتے ہیں ، اس کے ساتھ نرمی کرنے کے لیے بالکل تیار نہیں ہوتے ، وہ
جہاں مل جائے اُس کی عزت پامال کرکے رکھ دیتے ہیں ، آئے دن اُس کے گھر کے چکر
لگاتے ، دروازہ بجاتے ، گھر کے باہر کھڑے ہوکر اُسے باتیں سناتے ، بلکہ بعض بے باک
لوگ تو گالیاں تک بَک جاتے اور اُس بے چارے ، لاچار ، غریب اور بے بس شخص کی عزت
کا جنازہ نکالتے نظر آتے ہیں ۔ حالانکہ احادیث مبارکہ میں تنگدست ومجبور قرض
دار کے ساتھ نرمی کرنے کی ترغیب دلائی گئی ہے:
(2) حضرت
ابو قتادہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا’’جو شخص یہ چاہتا
ہو کہ اللہ تعالیٰ اس کو قیامت کے دن کی
تکلیفوں سے نجات دے وہ کسی مُفلِس کو مہلت دے یا اس کا قرض معاف
کردے ۔
(مسلم،کتاب المساقاۃ والمزارعۃ، باب فضل انظار المعسر، ص۸۴۵، الحدیث: ۳۲(۱۵۶۳)
(3)حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ
سے روایت ہے، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’جس نے تنگ دست کو مہلت دی یا اس کا قرض معاف کر دیا اللہ
تعالیٰ قیامت کے دن اسے عرش کے سائے میں رکھے گا جبکہ اس کے سوا کوئی سایہ نہ ہو
گا ۔ (ترمذی، کتاب البیوع، باب ما جاء فی انظار المعسرالخ، ۳ / ۵۲، الحدیث: ۱۳۱۰)
اللہ عَزَّوَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں بھی ، تنگدست
قرض دار کو مہلت دینے ، یا قرض میں کمی کرنے یا معاف کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمِیْنْ
بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ ﷺ
Dawateislami