مسلمانوں پر
ظلم اور امت مسلمہ کی خاموشی از بنت اسلم،جلال پور پیر والا ضلع ملتان
دشمن
اسلام: یہودیوں
کی تاریخ کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ شروع ہی سے اسلام کے سخت مخالف ہیں اور
مسلمانوں کے دشمن ہیں۔ یہودی ظاہری اور باطنی طور پر عالم اسلام کو نقصان پہنچانے
کی سر طور کوشش میں لگے رہتے ہیں وہ اعلانیہ اور پوشیدہ ہر طرح سے مسلمانوں سے
دشمنی کرتے آئے ہیں۔ یہودیوں نے ہمیشہ ہی مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کی ہر ممکن
کوشش کی اور مسلمانوں کی نسل کشی کرنے کی مذموم حرکت کی۔ یہودی چاہتے ہیں کہ اسلام
دین ختم ہو جائے اور ان کا مذہب قائم ہو۔
مسلمانوں
پر ظلم: یہودی
اپنے نا پاک عزائم کے ساتھ اپنی فطرت سے بد اخلاق، شریر، غیر انسانی اوصاف کے حامل،
بلکہ درندہ صفت واقع ہوئے ہیں، وہ انسانیت کے لئے نا سور ہیں، وہ دنیا کے جس خطے
میں رہے اپنی شرارتوں سے انہوں نے مسلمانوں کا جینا حرام کر دیا۔
اس وقت بھی
بیت المقدس اور فلسطین کے ایک بڑے حصے پرنا جائز قبضہ کر کے انہوں نے وہاں کے بے
قصور اور نہتے فلسطینیوں پر ظلم و ستم کی حد پار کر لی۔
انہوں نے
مسلمانوں کی زندگیاں تباہ و برباد کر دیں۔ تقریبا کئی سالوں سے انہوں نے پاگل
ہاتھی کی طرح وہاں اندھا دھند کیمیکل بموں، توپ کے دہانوں اور بندوق کی گولیوں سے
غزہ کے معصوم بچوں، خواتین، بوڑھوں اور دیگر شہریوں کے خون کی ندیاں بہا دیں۔
جس سے محلات
کھنڈرات میں تبدیل ہو گئے۔ عمارتیں زمین بوس ہو گئیں۔ زندگی وہاں سسک سسک کر رو
رہی ہے۔ ماؤں کے معصوم بچوں کو ان کے سامنے کھڑے کھڑے قتل کر دیا گیا۔
کئی ہزار سے
زائد معصوموں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ لاکھوں سروں سے گھروں کا سایہ چھین لیا
گیا۔ وہاں درندگی کا ننگا ناچ اور انسانی بحران اپنی خوف ناک شکل اختیار کر چکا ہے۔
امتِ
مسلمہ کی مجرمانہ خاموشی: پیارے نبی کریم ﷺ کی وہ امت جن کی
شفاعت کے لئے آپ سجدوں میں روئے۔ہر دُعا میں یا ربی امتی پکارنے والے مہربان محمد
مصطفی ﷺ کی وہ امت بے وفا نکلی بے حس نکلی۔
امتِ مسلمہ آج
غزہ کے معصوم مسلمانوں کی درد پر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے یوں جیسا کوئی واسطہ
ہی نہیں۔ نہ خوف خدا ہے نہ لاج مصطفیٰ ہے، بس اپنے آپ کا پتا ہے۔
مسلم شریف میں
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہُ عنہما سے روایت ہے کہ رسولِ پاک ﷺ نے فرمایا: مومنوں
کی مثال ایک دوسرے کے ساتھ محبت، رحمت اور شفقت کرنے میں جسم کی طرح ہے، جب اس کا
ایک حصہ بیماری میں مبتلا ہوتا ہے تو سارا جسم بےخوابی اور بخار میں اس کے ساتھ
شریک ہوجاتا ہے۔ (بخاری،4/103، حدیث: 6011)
ہم
تو ایک جسم کی طرح تھے پھر کیوں معصوم غزہ کے مسلمانوں کا درد محسوس نہیں ہوتا اس
امت کو جن کی مثالیں پیارے محبوب عالم مصطفیٰ ﷺ نے بار بار دیں کیا یہی امتِ مسلمہ
ہے جن کا درد سانجھا تھا جن کے دکھ سکھ سانجھے سمجھے جاتے تھے؟
مسلمانوں
کی موجودہ حالت اور امتِ مسلمہ کی بے حسی: فلسطین کے معصوم مسلمانوں کے
حالات اس وقت پوری دنیا کے مسلم ممالک کے سامنے ہیں۔مگر بے حسی کی آخری حد ہے کہ
مسلمان ممالک تعداد میں زیادہ ہونے کے باوجود بھی اپنے اسلامی بھائیوں کی مدد نہیں
کرتے۔ان معصوم مسلمانوں کے لئے حق کی آواز بلند نہیں کرتے۔کیوں کہ آج کے مسلمانوں
کو اپنا مفاد عزیز ہے۔
آج کے جدید
دور میں غزہ کے معصوم مسلمانوں کے ناحق خون بہانے پر امتِ مسلمہ خاموش تماشائی بنی
ہوئی ہے۔
مسلمانوں
پر اقوم عالم کا چڑھ آنا: امتِ مسلمہ کی یہ حالت دیکھ کر آپ ﷺ کی
وہ حدیث مبارک یاد آ گئی۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قریب ہے کہ دیگر قومیں تم
پر ایسے ہی ٹوٹ پڑیں جیسے کھانے والے پیالوں پر ٹوٹ پڑتے ہیں تو ایک کہنے والے نے
کہا: کیا ہم اس وقت تعداد میں کم ہوں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں، بلکہ تم اس وقت
بہت ہو گے، لیکن تم سیلاب کی جھاگ کے مانند ہو گے، اللہ تعالیٰ تمہارے دشمن کے
سینوں سے تمہارا خوف نکال دے گا، اور تمہارے دلوں میں وہن ڈال دے گا تو ایک کہنے
والے نے کہا: اللہ کے رسول! وہن کیا چیز ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: یہ دنیا کی محبت اور
موت کا ڈر ہے۔ (ابوداود، 4/150، حدیث: 4297)
آج بالکل
فلسطین کے معصوم مسلمان ایسی حالت سے گزر رہے ہیں جس کا ذکر چالیس سال پہلے محمد
مصطفی ﷺ نے حدیث مبارک میں فرمایا۔
آج مسلمان
تعداد میں اسرائیل سے زیادہ ہیں مگر ان کے دلوں میں تو دنیا کی محبت آباد ہو چکی
ہے۔ یہ امتِ مسلمہ کیسے اسرائیل کے خلاف کھڑی ہو یہ تو اسرائیلی پروڈکٹس پر عیش و
عشرت کرتے ہیں۔
اسرائیلی
منصوعات پر تو اس امتِ مسلمہ کے کاروبار چلتے ہیں تو کیسے وہ اس دشمن اسلام کے
خلاف کھڑی ہو۔
وہن کی بیماری
نے امتِ مسلمہ کو کہیں کا نہیں چھوڑا یوں کہ دنیا کے تھوڑے سے نفع کے بدلے آخرت کی
ہمیشہ کی زندگی کو بھلا دیا۔
دوسری بڑی وجہ
موت کا ڈر ہے یہ لوگ یوں دنیا کی چیزیں جمع کرتے ہیں جیسے ساری زندگی بس دنیا میں
ہی بسر کرنی ہے اور مرنا تو بالکل نہیں۔اِس لئے دوسرے مسلمانوں کے مرنے پر شکر
کرتے ہیں کہ ہم تو بچ گئے۔
امتِ مسلمہ کو
دنیا کی محبت لے ڈوبی۔ایسی دنیا کی محبت جس کی حقیقت اللہ تعالیٰ کے نزدیک ایک
مچھر برابر بھی نہیں ہے۔
دوسرا امتِ
مسلمہ اپنے مقصد کو بھلا چکی ہے اور یہاں سے ہی بربادی شروع ہوتی ہے۔
Dawateislami