بحمد اللہ اللہ پاک کا کرم ہے کہ جس ذات نے ہمیں اسلام کی دولت سے مالا مال فرمایا جہاں اسلام کے اندر شریعت کے احکامات نافذ کرنے کا حکم دیا گیا ہے وہیں معاشرتی امور کے حوالے سے بھی ہماری رہنمائی کی گئی ہے  ۔ ہمارے معاشرے کے اندر بہت سارے لوگ رہتے ہیں کچھ مسائل کے مدنظر وہ مقروض ہو جاتے ہیں اور قرض خواہ حضرات ان پر سختیاں اور شدت کرتے ہیں حالانکہ بانی اسلام ﷺ نے مقروض پر نرمی کرنے کی ترغیب دی ہے کئی ایسی حدیثیں ہیں جن میں مقروض پر نرمی کرنے کی ترغیب دی گئی ہے اس مناسبت سے میں آپ کے یہاں کچھ احادیث پیش کرتا ہوں تاکہ معلوم ہو جائے کہ اس حوالے سے تعلیم نبوی ﷺ کیا ہے ۔

(1)نبی کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمان عالیشان ہے: جو کسی تنگدست (مقروض) پر آسانی کرے گا اللہ تعالیٰ دنیا و آخِرت میں اس پر آسانی فرمائے گا ۔ (ابن ماجہ،ج 3،ص147، حديث: 2417)

(2) جو کسی تنگدست کو مہلت دے یا اس کا قرض مُعاف کر دے تو اللہ تعالیٰ اسے اس دن عَرْش کے سائے میں جگہ عطا فرمائے گا کہ جس دن عرش کے سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا ۔ (ترمذی،ج3،ص 52، حديث:1310)

(3) حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ اللہ پاک کے پیارے رسول صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ’’جواس بات کو پسند کرتا ہے کہ اس کی دعائیں قبول ہوں اور پر یشانیاں دور ہوں تو اسے چاہیے کہ تنگدست کومہلت دیاکرے ۔ (مجمع الزوائد، کتا ب البیوع ،با ب فی من فرج عن معسرالخ ، ۴/ ۲۳۹، حدیث:۶۶۶۴)

(4)حضرت سیِّدُنا بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ پاک کے سب سے آخری نبی، محمد عربی صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: جس نے قرض کی ادائیگی کے وقت سے پہلے تنگدست کو مہلت دی اسے روزانہ اتنا مال صدقہ کرنے کا ثواب ملے گا اور جس نے وقْتِ ادائیگی کے بعد مہلت دی تو اسے روزانہ اس سے دُگنا مال صدقہ کرنے کا ثواب ملے گا ۔ (مجمع الزوائد، کتاب البیوع، با ب فی من فر ج عن معسرالخ، ۴/ ۲۴۲، حدیث:۶۶۷۶)

ان تمام احادیث نبویہ ﷺ سے معلوم ہوا کہ مقروض پر نرمی کی جائے اس کو مہلت دی جائے تاکہ اس کے پاس اسباب ہوجائے جس سے وہ قرض ادا کرسکے اور تعلیم نبوی سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جو مقروض کے قرض کو معاف کر دے تو اللہ پاک اسے عرش کا سایہ نصیب فرمائے گا اور اس سے اس مسلمان بہائی کی دل میں خوشی پیدا ہوگی اور کسی مسلمان کے دل میں خوشی ڈالنا اس حوالے سے ہمارے آقا ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ عَزَّوَجَلّ کے نزدیک فرائض کی ادائیگی کے بعد سب سے افضل عمل مسلمان کے دل میں خوشی داخل کرنا ہے ۔ (معجم کبیر،ج11،ص59،حدیث:11079)

اللہ پاک ہمیں مقروض پر نرمی و آسانی کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین