دنیا کے مختلف خطوں میں آج امتِ مسلمہ پر جو ظلم و ستم ڈھائے جا رہے ہیں، وہ انسانی تاریخ کے بدترین مظالم میں شمار ہوتے ہیں۔ کہیں مسلمان اپنے وطن سے بے دخل کیے جا رہے ہیں، کہیں ان کے گھروں کو مسمار کیا جا رہا ہے، اور کہیں ان کے بچوں پر گولیاں برسائی جا رہی ہیں۔ مگر افسوس! ان مظلوموں کے لیے امت کا بڑا حصہ خاموش ہے، یہ خاموشی مجرمانہ ہے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: وَ مَا لَكُمْ لَا تُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ الْمُسْتَضْعَفِیْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَ النِّسَآءِ وَ الْوِلْدَانِ (پ 4، النساء: 75) ترجمہ کنز الایمان: اور تمہیں کیا ہوا کہ نہ لڑو اللہ کی راہ میں اور کمزور مردوں اور عورتوں اور بچوں کے واسطے۔

یہ آیت مسلمانوں کو یاد دلاتی ہے کہ ظلم کے خلاف آواز بلند کرنا ایمان کا تقاضا ہے۔ ظلم پر خاموش رہنا گویا ظالم کے ساتھ کھڑا ہونا ہے۔ حضورِ اکرم ﷺ نے فرمایا: جو تم میں کسی برے کام کو دیکھے تو اسے ہاتھ سے روکے، اگر اس کی طاقت نہ ہو تو زبان سے، اور اگر یہ بھی نہ ہو تو دل میں برا جانے، اور یہ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے۔ (مسلم، ص 44، حديث: 49)

آج ہمارے بہت سے مسلمان بھائی اور بہنیں فلسطین، کشمیر، برما، شام اور دیگر علاقوں میں ظلم کی چکی میں پس رہے ہیں، مگر ہم میں سے اکثر صرف خبریں دیکھ کر آگے بڑھ جاتے ہیں۔ ہمیں سوچنا چاہیے کہ کیا یہ رویہ اسلامی غیرت و حمیت کے مطابق ہے؟

خاموشی صرف ظالم کو جری بناتی ہے۔ امتِ مسلمہ کا ہر فرد اپنی وسعت کے مطابق ظالم کے خلاف اور مظلوم کے حق میں آواز اٹھانے کا ذمہ دار ہے۔ اگر ہم عملی مدد نہیں کر سکتے تو کم از کم دعا، مالی تعاون، یا تحریری اور اخلاقی حمایت ضرور کریں۔

اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا: مومن مومن کے لیے ایک عمارت کی طرح ہے جس کا ایک حصہ دوسرے کو مضبوط کرتا ہے۔ (بخاری،2/127، حديث:2446)

آج وقت کا تقاضا ہے کہ ہم امتِ مسلمہ کے دکھ درد کو اپنا دکھ سمجھیں، ظالموں کے خلاف پرامن مگر پُرعزم انداز میں جدوجہد کریں، اور اپنی دعاؤں، تحریروں اور کردار سے مظلوموں کی پشت پناہی کریں۔

اللہ تعالیٰ ہمیں ظلم کے خلاف کھڑا ہونے اور مظلوموں کی مدد کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔