مسلمانوں پر ظلم
اور امت مسلمہ کی خاموشی از بنت عمران،عبدالغفار منزل حیدرآباد
دین اسلام ہر
شخص کو تحفظ فراہم کرتا ہے اور کسی بھی طبقہ پر ظلم اور زیادتی کرنے کی اجازت نہیں
دیتا چاہے ایک غیر مسلم شخص ہی کیوں نہ ہو۔ اس وقت مسلمانوں پر ظلم اور ستم کی وہ آندھیاں
چھائی ہوئی ہیں۔ جن کی مثال نہیں ملتی جو حالات آج مسلمانوں کو پیش آرہے ہیں وہ ہر
بیدار دل کے لیے اذیت ناک ہیں کہ آج مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کسی بھی آنکھ سے
مخفی نہیں ہیں۔ کون ہوگا جس نے برما میں مسلمانوں کے کٹتے جسم اور ان پر ہونے والے
کربناک مظالم کے واقعات نہ سنے ہوں۔ کشمیر میں یتیم بچوں اور بیواؤں کی آہ وفغاں
نہ سنی ہو۔ اور کون ایسا شخص ہوگا جس نے فلسطین پر ہونے والے درد ناک مظالم کی
المناک داستان نہ سنی ہو۔ اور ان مظلوم مسلمانوں کی اڑتی لاشیں اور ان کے جلتے گھر
نہ دیکھیں ہوں۔
مگر ان سب کے
باوجود صاحب طاقت اور صاحب اقتدار لوگوں کا اس پر کوئی ہ بھی رد عمل نہ دینا اور
بحیثیت مسلمان اپنے دوسرے مظلوم مسلمان بھائیوں پر ہونے والے مظالم کے خلاف آواز
نہ اٹھانا۔ بلکہ ایک خاموش تماشائی بن کر ان پر ہونے والے مظالم کو دیکھتے رہنا یہ
اس بات کی طرف واضح اشارہ ہے کہ مسلمان اپنی قوت ایمانی کو بھلا بیٹھے ہیں۔
مسلمان جنگ
بدر میں ان تین سوتیرہ صحابہ کو بھول گئے جنہوں نے ہزار کافروں سے مقابلہ کیا تھا
جو تعداد اور جنگی سامان میں ان سے زیادہ تھے۔ جبکہ مسلمانوں کے پاس فقط چھ زرہ
آٹھ تلواریں اور چند گھوڑے تھے۔ تو یہ کیسے ممکن ہوا کہ مسلمان ان سے فتح پاگئے فتح
پانے کے اسباب تو نہیں تھے۔ تو بے شک ان حضرات کے ساتھ اللہ کی مدد شامل حال تھی
جس کے ذریعے وہ فتح پاگئے۔ مگر اس کے ساتھ جس نے انہیں آگے بڑھنے کا حوصلہ دیا وہ
ان مسلمانوں کی ایمانی قوت تھی۔
یہ وہ ایمان
تھا جس نے دنیا کوحیران کردیا یہ اس عقیدہ کی طاقت ہے جس نے دشمن کے قلعوں کی
بنیادیں ہلا دیں۔ وہ عقیدہ جو محمد عربی ﷺ سے محبت، وفاداری اور آپ ﷺ کی سنت کی
پیروی کرنے سے حاصل ہوتا ہے۔ مگر آج مظلوم اور بے بس مسلمانوں کا حال دیکھ کر دل
خون کے آنسو روتا ہے کہ یہ تو وہ مسلمان ہے جو فتح مکہ میں قیدیوں کی بھی رسیوں کو
اس خیال سے مضبوط نہیں باندھتا کہ انہیں تکلیف نہ ہو مگر آج خود مسلمانوں پر اتنے
ظلم ہورہے ہیں اور دوسرے مسلمان ان پر خاموش ہیں۔
مگر اب ضرورت
ہے کہ مسلمانوں کو ان کے اسلاف کی تاریخ یاد دلائی جائے کہ اسلام تو اپنی روشن
تاریخ میں صلاح الدین ایوبی، نور الدین زنگی اور عمر بن خطاب جیسے بے شمار شیر دل
مجاہد رکھتا ہے۔ جن کے فقط نام سے ہی آج بھی کفر کے ایوان لرز جاتے ہیں۔ یہ مرد
مجاہد کبھی بھی ظلم پر خاموش نہ رہتے تھے۔بلکہ بڑی بہادری سے ظلم کے خلاف آواز
اٹھاتے رہے۔ چاہے ظلم کسی بھی طبقہ پر ہوتا یہ مرد مجاہد پیچھے نہ ہٹتے۔جبھی آج تک
ان کے دور حکومت کی تعریف ہر خاص، عام زبان پر ہے اور آج پھر تاریخ دہرائی جائے کہ
لایا جائے ان جیسا کوئی بہادر اور دلیر شخص جو مسلمانوں کو ان کا کھویا ہوا وقار
اور کھوئی ہوئی طاقت لوٹائے اور جو اپنی ایمانی طاقت سے مظلوم مسلمانوں کو آزاد
کرائے۔
مظلوم مسلمان
آج پھر اپنے عمر بن عبد العزیز کی راہ دیکھتے ہیں۔ وہ تو انتظار میں ہیں کہ شاید
کوئی محمد بن قاسم آئے اور انہیں ان اذیتوں اور تکلیفوں سے نجات حاصل ہو۔مگر آج مسلمان
مختلف قومی و لسانی جھگڑوں میں محصور ہو کر رہ گئے۔
یوں
تو سید بھی ہو مرزا بھی ہو افغان بھی ہو تم
سبھی کچھ ہو بتاؤ تو مسلمان بھی ہو
اے علاقائی
تعصبات اور ملکی سرحدوں میں قید ہو کر رہ جانے والے مسلمانو! لہذا اب تمہیں بحیثیت
مسلمان ہو کر سوچنا پڑے گا۔ اے مسلمانوں یہ وقت خاموش رہنے کا نہیں یہ وقت مظلوم
مسلمان کا ساتھ دینے کا ہے۔
تم اسلام دشمن
عناصر کو پہچانو اور اپنے مظلوم مسلمان بھائیوں پر ہونے والے مظالم کے خلاف آواز
اٹھاؤ۔مسلمان تو کبھی بھی کافروں کی تعداد سے نہیں ڈرے ہیں۔ بلکہ وہ تو ہمیشہ
ایمانی قوت سے لڑے ہیں۔ میدانوں میں ایٹمی طاقت سے نہیں بلکہ ایمان کی طاقت سے لڑا
جاتا ہے۔
اے غیرت مند
مسلمانو! اب اٹھو اپنے مظلوم مسلمان بھائیوں کی مدد کرو! کیا فلسطین میں مسلمانوں
کے جلتے گھر دیکھ کر تمہارا دل نہیں روتا۔ ان کے پورے خاندان بم دھماکوں کی نذر
ہوجائیں۔ ان کی لاشوں کے ٹکڑے ہوجائیں تو کیا اس پر تمہاریں آنکھیں نم نہیں ہوتیں۔
کیا کشمیر کی ماں اور بیٹیوں کی پکار سے تمہارا دل لرزتا نہیں ہے۔ اورتم کیسے سکون
کی نیند سو سکتے ہو جبکہ برما میں مسلمانوں کو ذبح کردیا جائے اور ان کے جسموں سے
کھال اتار لی جاتی ہو۔
خدارا توڑ دو
اپنی یہ مجرمانہ خاموشی! حضرت صالح علیہ السلام کی اونٹنی کو صرف چار لوگوں نے
شہید کیا تھا مگر اللہ پاک نے پوری قوم کو غرق کردیا کیوں کہ باقیوں کا جرم خاموش
رہنا تھا۔ لہذا تم اپنی ایمانی سےقوت لڑو اور اپنے مظلوم مسلمان بھائیوں پر کیے
جانے والے مظالم کے خلاف آواز اٹھاؤ!
اے مسلمانو!
تم تو اپنے ہر دور میں کامیابی سے ہمکنار ہوتے رہے ہو۔ اور اے مسلمانو! تم تو اپنے
ہر دور میں بلند رہے ہواور آج بھی اسلام پر چل کر خود کو بلند کرلو۔
بازو
تیرا توحید کی قوت سے قوی ہے اسلام
تیرا دیس ہے تو مصطفوی ہے
Dawateislami