اسلام وہ دینِ رحمت ہے جو عدل، انصاف اور بھائی چارے کی تعلیم دیتا ہے۔ ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ دوسرے مسلمان کے ساتھ بھلائی کرے، مظلوم کا ساتھ دے اور ظلم سے نفرت کرے۔ لیکن افسوس! آج وہی امت، جسے خیرُ الامم کہا گیا، خود ظلم و ستم کا نشانہ بنی ہوئی ہے۔ دنیا کے مختلف حصوں میں مسلمانوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ ٹوٹ رہے ہیں۔ کہیں بم برس رہے ہیں، کہیں ماؤں کی گودیں اُجڑ رہی ہیں، کہیں نوجوانوں کے جسم لہو لہان ہو رہے ہیں۔ یہ سب دیکھ کر دل تڑپ اٹھتا ہے، مگر دکھ کی بات یہ ہے کہ امتِ مسلمہ کی اکثریت خاموش ہے۔ نہ کسی کے دل میں درد، نہ زبان پر فریاد، نہ عمل میں کوشش! آخر کیوں؟

اللہ تعالیٰ قرآنِ کریم میں ارشاد فرماتا ہے: وَ لَا تَرْكَنُوْۤا اِلَى الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُۙ- (پ 12، ہود: 113) ترجمہ: اور ظالموں کی طرف نہ جھکو، ورنہ تمہیں آگ چھولے گی۔

اسی طرح سورۃ النساء آیت نمبر 75 میں تفسیرِ صراط الجنان میں ہے کہ جہاد فرض ہے اور اس کے ترک کا تمہارے پاس کوئی عذر نہیں۔ تو تمہیں کیا ہوا کہ تم اللہ کی راہ میں جہاد نہیں کرتے؟ حالانکہ دوسری طرف مسلمان مرد، عورتیں اور بچے ظلم کی چکی میں پس رہے ہیں اور ان کا کوئی پرسانِ حال نہیں۔ تم ان کی مدد کرنے کی طاقت رکھتے ہو تو کیوں ان کی مدد کے لیے نہیں اٹھتے؟ جہاد فرض ہے، بلا وجہ جہاد چھوڑنے والا ایسا ہی گناہگار ہے جیسا کہ نماز چھوڑنے والا۔ (صراط الجنان، 2/250)

آج دنیا کے کئی خطوں میں امتِ مسلمہ پر ظلم کی انتہا ہو چکی ہے۔ فلسطین کی سرزمین پر مائیں اپنے جگر گوشوں کو کھو رہی ہیں۔

اسی طرح شام، یمن اور کشمیر میں ویران بستیاں اور بھوک سے تڑپتے معصوم بچے امتِ مسلمہ کی غفلت کا منظر پیش کر رہے ہیں۔

کوئی سیاسی مصلحت کے نام پر خاموش ہے، کوئی دنیاوی مفاد کے خوف سے بول نہیں رہا، اور کوئی اپنی عبادتوں میں مگن ہو کر سمجھتا ہے کہ یہ میرا مسئلہ نہیں۔

قرآنِ کریم میں واضح ارشاد ہے: وَ اِنِ اسْتَنْصَرُوْكُمْ فِی الدِّیْنِ فَعَلَیْكُمُ النَّصْرُ (پ 10، الانفال: 72) ترجمہ: اگر وہ تم سے دین کے معاملے میں مدد مانگیں تو تم پر مدد کرنا لازم ہے۔

ہم سوشل میڈیا پر ظلم کی تصاویر دیکھ کر چند لمحے افسوس تو کرتے ہیں مگر دل میں امت کا درد پیدا نہیں ہوتا۔ نہ دعا کرتے ہیں، نہ مالی مدد، نہ آواز بلند کرتے ہیں۔ یہی خاموشی ظلم کی تقویت کا باعث ہے۔

سوچئے! اگر ہمارا اپنا گھر جل رہا ہو، ہمارے پیارے ملبے تلے ہوں اور دنیا تماشائی بنی بیٹھی ہو تو ہم پر کیا گزرے گی؟ آج فلسطینی، کشمیری اور یمنی بھی یہی فریاد کر رہے ہیں، کوئی تو ہماری مدد کو آئے! لہٰذا یہ وقت فیصلہ کا ہے: ہم مظلوموں کا ساتھ دیں یا خاموش رہ کر ظلم کو مضبوط کریں؟

یاد رکھیں! خاموشی بھی جرم ہے اور یہ جرم اُمت کو کمزور کر رہا ہے۔

لیکن آج بھی کچھ امت کا درد رکھنے والے لوگوں نے مسلمانوں کی مدد کی ہے جس کی سب سے بڑی مثال دعوتِ اسلامی کے فلاحی شعبہ FGRF (فیضان گلوبل ریلیف فاؤنڈیشن) نے فلسطین میں مظلوم مسلمانوں کی مدد کے لیے لاکھوں ڈالرز مالیت کی امداد، خوراک، طبی سہولتیں اور دیگر سامان بھیجا ہے۔ یہ عمل اس بات کی واضح دلیل ہے کہ اگر امتِ مسلمہ چاہے تو آج بھی ایک آواز ہو کر ظلم کے خلاف کھڑی ہو سکتی ہے۔