وزیر احمد عطاری (درجہ سادسہ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان
مدینہ کراچی، پاکستان)
اسلام ایک
ایسا دین ہے جو اپنے ماننے والوں کو نہ صرف اللہ عزوجل کے حقوق کی ادائیگی کا حکم
دیتا ہے بلکہ بندوں کے ساتھ حسن سلوک ، ہمدردی اور خیر خواہی کی تعلیم بھی دیتا ہے
۔ حضور سید عالم صلی اللہ علیہ والہ وسلم
کی پوری زندگی مبارک ذات انسان کے لیے مشعل راہ ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے جہاں عبادات کی
ترغیب دی ہے ، وہیں معاشرتی مسائل پر بھی راہنمائی فرمائی ہے ۔ انہی اہم مسائل میں
ایک " مسئلہ" قرض لینے ، دینے کا ہے " ۔ بعض اوقات انسان مجبوری یا ضرورت کے تحت قرض لینے
پر مجبور ہوتا ہے ۔ تو مقروض افراد پر سختی برتنا ، ان پر بے جا دباؤ ڈالنا یا ذلت
امیز سلوک اختیار کرنا سراسر تعلیمات اسلام کے خلاف ہے ۔ بلکہ دین اسلام نے ان کمزور اور محتاج طبقے کے
لوگوں کے ساتھ نرمی ، مہربانی اور سہولت برتنے کا حکم دیا ہے ۔ قارئین کے سامنے اس بارے میں چند احادیث اور ایک واقعہ پیش خدمت ہے ۔
قیامت کے
دن تکلیفوں سے نجات : حضرت سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ،
حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا " جو شخص یہ چاہتا ہو
کہ اللہ تعالیٰ اس کو قیامت کے دن کی تکلیفوں سے نجات دے وہ کسی مفلس کو مہلت دے یا
اس کا قرض معاف کردے ۔ ( صحیح مسلم ، جلد 5 ، ص 33 ، حدیث نمبر : 1563 )
اللہ عزوجل
اسے عرش کے سائے میں رکھے گا : حضرت سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ،
نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس نے تنگ دست کو مہلت دی یا
اس کا قرض معاف کردیا اللہ عزوجل قیامت کے دن اسے عرش کے سائے میں رکھے گا جبکہ اس
کے سوا کوئی سایہ نہ ہوگا ۔ ( جامع الترمذی
، جلد 2 ، ص 575 ، حدیث نمبر : 1306 )
حضرت سیدنا
جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت
ہے ، حضور پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ عزوجل اس شخص پر رحم کرے جو بیچنے اور خریدنے
اور تقاضا کرنے میں آسانی کرے ۔ ( صحیح
البخاری ، جلد 3 ، ص 57 ، حدیث نمبر : 2076 )
مالدار کو
مہلت دیتا تھا اور تنگدست سے در گزر کرتا تھا : حضرت سیدنا حذیفہ رضی
اللہ عنہ فرماتے ہیں ، حضور خاتم النبیین صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا
" گزشتہ زمانے میں ایک شخص کی روح قبض کرنے جب فرشتہ آیا تو مرنے والے سے
سوال کیا کہ ، کیا تجھے اپنا کوئی اچھا کام یاد ہے ؟ اس نے کہا ، میرے علم میں کوئی
اچھا کام نہیں ہے ، اس سے کہا گیا : غور کر کے بتا ، اس نے کہا : صرف یہ عمل تھا
کہ دنیا میں لوگوں سے تجارت کرتا تھا اور ان کے ساتھ اچھی طرح پیش آتا تھا ، اگر
مالدار بھی مہلت مانگتا تو اسے مہلت دے دیتا تھا اور تنگدست سے در گزر کرتا یعنی
معاف کر دیتا تھا ۔ اللہ عزوجل نے ( فرشتے
سے ) فرمایا : تم اس سے در گزر کرو ۔
( صحیح
مسلم ، جلد 5 ، ص 32 ، حدیث نمبر : 1560 )
امام اعظم
ابو حنیفہ رحمہ اللہ اور مجوسی قرضدار : امام فخر الدین رازی
رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ۔ ’’منقول ہے
کہ ایک مجوسی پر امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا کچھ مال قرض تھا ۔ آپ رحمہ اللہ اپنے
قرض کی وصولی کے لئے ا س مجوسی کے گھر کی طرف گئے ۔ جب اس کے گھر کے دروازے پر پہنچے تو
(اتفاق سے) آپ رحمہ اللہ کے جوتے
پر نجاست لگ گئی ۔ آپ رحمہ اللہ نے (نجاست چھڑانے کی غرض سے) آپنے جوتے کو جھاڑا
تو آپ رحمہ اللہ کے اس عمل کی وجہ سے کچھ
نجاست اڑ کر مجوسی کی دیوار کو لگ گئی ۔ یہ
دیکھ کر آپ پریشان ہو گئے اور فرمایا کہ
اگر میں نجاست کو ایسے ہی رہنے دوں تو اس سے اُس مجوسی کی دیوار خراب ہو رہی ہے
اور اگر میں اسے صاف کرتا ہوں تو دیوار کی مٹی بھی اکھڑے گی ۔ اسی
پریشانی کے عالم میں آپ رحمہ اللہ نے دروازہ بجایا تو ایک لونڈی باہر نکلی ۔ آپ رحمہ اللہ نے اس
سے فرمایا: اپنے مالک سے کہو کہ ابو حنیفہ دروازے پر موجود ہے ۔ وہ مجوسی آپ رحمہ اللہ کے پاس
آیا اور اس نے یہ گمان کیا کہ آپ آپنے قرض کا مطالبہ کریں گے، اس لئے اس نے آتے
ہی ٹال مٹول کرنا شروع کر دی ۔ امام ابو
حنیفہ رحمہ اللہ نے اس سے فرمایا: مجھے یہاں
تو قرض سے بھی بڑا معاملہ در پیش ہے، پھر آپ رحمہ اللہ نے دیوار پر نجاست لگنے والا واقعہ بتایا اور
پوچھا کہ اب دیوار صاف کرنے کی کیا صورت ہے؟ (یہ سن کر) اس مجوسی نے عرض کی :میں
(دیوارکی صفائی کرنے کی) ابتداء آپنے آپ کو پاک کرنے سے کرتا ہوں اور اس مجوسی نے
اسی وقت اسلام قبول کر لیا ۔ ( تفسیر کبیر ، الفصل الرابع فی تفسیر قوله : مالک یوم
الدین ، جلد 1 ، ص 204 )
مقروض کے
ساتھ نرمی برتنا نہ صرف انسانیت ہے بلکہ یہ تعلیم نبوی بھی ہے ۔ موجودہ دور میں جبکہ مالی دباؤ عام ہے ، ہمیں
چاہیے کہ ہم دوسروں کی مجبوری کو سمجھیں ، ان پر مہربانی کریں ، اور اگر ممکن ہو
تو قرض معاف کردیں یا کم از کم نرمی اختیار کریں ۔ یہی وہ طرزِ عمل ہے جو معاشرے میں محبت ، رحم و
انصاف کو فروغ دیتا ہے ۔ اگر ہم حضور صلی
اللہ علیہ والہ وسلم کی تعلیمات کو اپنائیں تو ہمارا معاشرہ ایک بہترین اسلامی
معاشرہ بن سکتا ہے ۔
Dawateislami