اسلام اپنی جامع تعلیمات کے ذریعے نہ صرف عبادات بلکہ معاملات میں بھی عدل، احسان اور انسان دوستی کا کامل درس دیتا ہے ۔  دینِ اسلام نے انسانیت کے ہر طبقے کے حقوق کو واضح کیا ہے، خاص طور پر اُن افراد کے لیے جو مالی تنگی اور پریشانی کا شکار ہوں ۔

قرآن مجید اس سے متعلق ارشاد باری تعالٰی ہے:

وَ اِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ اِلٰى مَیْسَرَةٍؕ-وَ اَنْ تَصَدَّقُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۸۰)

ترجمہ کنز الایمان:اور اگر قرضدار تنگی والا ہے تو اسے مہلت دو آسانی تک اور قرض اس پر بالکل چھوڑ دینا تمہارے لیے اور بھلاہے اگر جانو ۔ (البقرۃ:280)

تفسیر صراط الجنان:وَ اِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ:اور اگر مقروض تنگدست ہو: یعنی تمہارے قرضداروں میں سے اگر کوئی تنگ دستی کی وجہ سے تمہارا قرض ادا نہ کر سکے تو اسے تنگ دستی دور ہونے تک مہلت دو اور تمہارا تنگ دست پر اپنا قرض صدقہ کر دینا یعنی معاف کردینا تمہارے لئے سب سے بہتر ہے اگر تم یہ بات جان لو کیونکہ اس طرح کرنے سے دنیا میں لوگ تمہاری اچھی تعریف کریں گے اور آخرت میں تمہیں عظیم ثواب ملے گا ۔ (خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: 280، پارہ1 / 218صفحہ)

قرضدار کو مہلت دینے اور قرضہ معاف کرنے کے فضائل: اس آیت سے معلوم ہوا کہ قرضدار اگر تنگ دست یا نادار ہو تو اس کو مہلت دینا یاقرض کا کچھ حصہ یا پورا قرضہ معاف کردینا اجرِ عظیم کا سبب ہے ۔ احادیث میں بھی اس کے بہت فضائل بیان ہوئے ہیں ، چنانچہ اس کے فضائل درجہ ذیل ہیں:

(1)قیامت کے دن نجات: حضرت ابو قتادہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ َ نے ارشاد فرمایا:جو شخص یہ چاہتا ہو کہ اللہ تعالیٰ اس کو قیامت کے دن کی تکلیفوں سے نجات دے وہ کسی مُفلِس کو مہلت دے یا اس کا قرض معاف کردے ۔ (مسلم،کتاب المساقاۃ والمزارعۃ، باب فضل انظار المعسر، ص845، الحدیث: 32(1543)

(2)سایہ عرش کس کس کو ملے گا:حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی اکرم ﷺ َ نے ارشاد فرمایا ’’جس نے تنگ دست کو مہلت دی یا اس کا قرض معاف کر دیا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے عرش کے سائے میں رکھے گا جبکہ اس کے سوا کوئی سایہ نہ ہو گا ۔ (ترمذی، کتاب البیوع، باب ما جاء فی انظار المعسرالخ،3 / 52، الحدیث: 1310)

قرض دار کو مہلت دینے کی کئی فوائد ہیں:

(1)اسے قیامت کے دن عرش کا سایہ عطاء کیا جائے گا ۔

(2)لوگوں کے دل میں عزت اور محبت بڑھتی ہے ۔

(3)برکت اور اطمینان قلب حاصل ہوتا ہیے ۔