شہزاد رضا عطاری (درجۂ سابعہ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان
مدینہ کراچی، پاکستان)
اللہ پاک
کے آخری نبی محمد عربی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے زندگی کے ہر ہر گوشے کے
متعلق ہماری رہنمائی فرمائی ہے ۔ ظلم و بربریت، قطع رحمی، بدسلوکی، بداخلاقی اور بےجا غصہ کرنے سے بچنے حسن اخلاق، صلہ رحمی،حلم وبردباری اور نیک سلوک اختیار کرنے کا درس دیا ۔
عبادات و اخلاقیات کے ساتھ ساتھ معاملات میں بھی بھلائی و خیر خواہی والا معاملہ
کرنے کو دارین کی سعادت قرار دیا ۔ مقروض کے ساتھ نرمی کرنا بھی انہی امور میں سے ایک ہے ۔ نبی کریم رؤف الرحیم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نہ صرف خود مقروض کے ساتھ نرمی و خیرخواہی والا برتاؤ فرمایا بلکہ اس حوالے سے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم
اجمعین کی تربیت بھی فرمائی،پوری امت کو اس کی تعلیم بھی دی حتیٰ کہ مقروض کو ادائے قرض میں آسانی کےلئے
دعائیں بھی تعلیم فرمائی ۔ خصوصا جب مقروض
تنگدست ہو تو مہلت دینا واجب ہے اللہ پاک قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے :
وَ اِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ اِلٰى مَیْسَرَةٍؕ-وَ
اَنْ تَصَدَّقُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۸۰)
ترجمہ کنز
العرفان: اور اگر مقروض تنگدست ہو تو اسے آسانی تک مہلت دو اور تمہارا قرض کوصدقہ
کردینا تمہارے لئے سب سے بہتر ہے اگر تم جان لو ۔ (پارہ3 سورۃ البقرہ آیت نمبر 280)
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، تَقُولُ: سَمِعَ رَسُولُ اللَّهِ
صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَوْتَ خُصُومٍ بِالْبَابِ عَالِيَةٍ
أَصْوَاتُهُمَا، وَإِذَا أَحَدُهُمَا يَسْتَوْضِعُ الآخَرَ، وَيَسْتَرْفِقُهُ فِي
شَيْءٍ، وَهُوَ يَقُولُ: وَاللَّهِ لاَ أَفْعَلُ، فَخَرَجَ عَلَيْهِمَا رَسُولُ اللَّهِ
صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَيْنَ المُتَأَلِّي عَلَى اللَّهِ،
لاَ يَفْعَلُ المَعْرُوفَ، فَقَالَ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَلَهُ أَيُّ ذَلِكَ
أَحَبَّ
ترجمہ:اُمّ المؤمنین
حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں کہ حضور نبی کریم ﷺ نے
دروازے کے باہر دو لڑنے والوں کی بلند آواز سنی جن میں سے ایک دوسرے سے قرض کم
کرنے کا مطالبہ کر رہا تھا اور قرض میں نرمی چاہ رہا تھا جبکہ دوسرا آدمی کہہ رہا
تھا کہ خدا کی قسم! میں ایسا نہیں کروں گا ۔ ‘‘ آپ ﷺ اُن کے پاس تشریف لائے اور فرمایا : ’’کون ہے
جو اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم کھاکر کہتا ہے کہ میں نیکی نہیں کروں گا؟‘‘ تو اُن میں
سے ایک نے عرض کی : ’’یارسولَ اللہ ﷺ !وہ میں ہوں ، اور اب اِس
(مقروض) کے لیے وہی ہے جو یہ چاہتا ہے ۔ ‘‘(بخاری)
پیارے پیارے
اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے کہ حضور نبی کریم رؤف رحیم ﷺ نے
دو جھگڑنے والے اَفراد میں فقط ایک مبارک جملے سے صلح کروادی ۔ اس مناسبت سے امام بخاری علیہ رحمۃ اللہ الھادی
اس حدیث کو باب الصلح کے تحت لائے ۔
مقروض کے ساتھ نرمی و حسن سلوک کا حکم : عَلَّامَہ
اَبُو الْحَسَن اِبْنِ بَطَّال رَحْمَۃُ
اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : ’’اس
حدیث میں قرض دار کے ساتھ نرمی برتنے ، اچھا سلوک کرنے اور قرضے میں کمی کرنے پر
اُبھارا گیا ہے ۔
( شرح بخاری
لابن بطال ، کتاب الصلح ، باب ھل یشیر الامام بالصلح ، ج8 ،ص98 ۔ )
نیکی سے مراد: حدیث پاک میں نیکی سے مراد اپنے
بھائی کے ساتھ نرمی والا معاملہ اور قرض میں کمی کرنا ہے ۔ (دلیل الفالحین ،باب فی اصلاح بین الناس، ج 2،
ص50،تحت الحدیث 251،دارالمعرفہ بیروت1431ھ )
قرضدار کے ساتھ
نرمی اور بھلائی کیجئے : پیارے پیارے اسلامی بھائیو!تنگ دست مقروض تو قابل رحم ہےمگر دیکھا گیا ہے کہ آج کل لوگ
مجبور وتنگدست قرض دار کے ساتھ بھی بہت ہی نازیبا سلوک کرتے ہیں ، اس کے ساتھ نرمی
کرنے کے لیے بالکل تیار نہیں ہوتے ، سب کے سامنےاُس کی عزت پامال کرتے، معاذاللہ
طرح طرح کے طعنے دیتے ،آئے دن اُس کے گھر کے چکر لگاتے ، اُسے باتیں سناتے ، بلکہ بعض بے باک لوگ تو گالیاں
تک بَک جاتے اور اس لاچار غریب اور بے بس
شخص کی عزت کا جنازہ نکال دیتے ہیں ۔ حالانکہ کثیر احادیث طیبہ میں تنگدست قرض دار کے ساتھ نرمی کرنے کی ترغیب دلائی گئی
ہے ۔
فرامین آخری
نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم:
(1) جو دنیامیں تنگ دست کو آسانی فراہم کرےگا ،
اللہ عَزَّوَجَلَّ دنیا وآخرت میں اُس کے لئے آسانیاں پیدا فرمائےگا ۔ ( صحیح المسلم،کتاب الذکروالدعا،باب فضل
الاجتماع علی تلاوۃ القرآن،ص1447حدیث2699 ، دارالمغنی عرب شریف 1419ھ)
(2) جس نے تنگدست کو مہلت دی یااُس کے قرض میں
کمی کی ، اللہ عَزَّوَجَلَّ قیامت کے دن اُسے اپنے عرش کے سائے میں جگہ دے گا جس
دن اُس سائے کے علا وہ کوئی سایہ نہ ہوگا ۔ ( جامع الترمذی ، کتاب البیوع، باب ماجاء فی انظار المعسروالرفق بہ، ج3،
ص52، حدیث 1310،دارالمعرفہ بیروت1414ھ)
اللہ پاک
ہمیں آخری نبی محمد عربی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے قرض دار کے ساتھ حسن سلوک کرنے ،نرمی کرنے ،
مہلت دینے اور معاف کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین بجاہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم ۔
Dawateislami