اسلام ظلم کو ناپسند کرتا ہے اور ظالم کے خلاف ڈٹ کر کھڑے ہونے کا حکم دیتا ہے۔ امتِ مسلمہ کو خیرِ امت کا درجہ اسی لیے دیا گیا کہ وہ نیکی کا حکم دے اور برائی سے روکے۔ لیکن جب یہی امت ظلم دیکھ کر خاموش ہو جائے تو اس کی یہ خاموشی مجرمانہ غفلت شمار ہوتی ہے، اور قرآن و حدیث میں اس پر سخت وعیدیں آئی ہیں۔

قرآنِ مجید میں ظالموں کی حمایت سے ممانعت: وَ لَا تَرْكَنُوْۤا اِلَى الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُۙ- (پ 12، ہود: 113) ترجمہ: اور ظالموں کی طرف نہ جھکو، ورنہ تمہیں آگ چھولے گی۔

یہ آیت مکی دور میں نازل ہوئی۔ مفسرین فرماتے ہیں کہ کفارِ مکہ کے ظلم کے وقت کچھ مسلمان ان سے مصلحتاً نرمی برتتے تھے۔ اللہ نے تنبیہ فرمائی کہ ظالموں کی طرف جھکنا بھی عذاب کا باعث ہے۔ (تفسیر کبیر، 8/66)

امتِ مسلمہ کا اصل فریضہ: كُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ تَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِؕ- (پ 4، آل عمران: 110) ترجمہ: تم بہترین امت ہو جو لوگوں کے لیے نکالی گئی ہے، تم نیکی کا حکم دیتے ہو، برائی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔

یہ آیت مدینہ میں یہود کے مقابلے میں مسلمانوں کی فضیلت ظاہر کرنے کے لیے نازل ہوئی۔ مفسرین کے مطابق امتِ مسلمہ کی خیر و برکت اسی وقت باقی رہتی ہے جب وہ امر بالمعروف و نہی عن المنکر پر قائم رہے۔ (تفسیر ابن کثیر، 2/92)

ظلم دیکھ کر خاموش رہنے پر سخت وعید: حدیث پاک ہے: جب لوگ برائی کو دیکھیں اور اسے نہ بدلیں تو قریب ہے کہ اللہ ان سب کو اپنے عذاب میں مبتلا کر دے۔ (ابو داود، 4/123، حدیث: 4338)

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے برائی کے سامنے خاموش رہنے کو اجتماعی عذاب کا سبب قرار دیا۔ (عون المعبود، 11/345)

ظالم کے خلاف خاموشی قیامت میں خسارے کا باعث: ارشاد فرمایا: تم میں سے جو کوئی برائی دیکھے تو اسے اپنے ہاتھ سے بدلے، اگر ہاتھ سے نہ ہو سکے تو زبان سے، اور اگر یہ بھی نہ ہو سکے تو دل سے برا جانے، اور یہ ایمان کا سب سے کمزور درجہ ہے۔ (مسلم، ص 44، حديث: 49)

ظلم پر اللہ کی گرفت: ارشاد خداوندی ہے: وَ لَا تَحْسَبَنَّ اللّٰهَ غَافِلًا عَمَّا یَعْمَلُ الظّٰلِمُوْنَ۬ؕ -(پ 13، ابراہیم: 42) ترجمہ: اور ہرگز گمان نہ کر کہ اللہ ظالموں کے عمل سے بے خبر ہے۔

مفسرین نے اس آیت کا پس منظر بیان کیا ہے کہ ظالموں کو مہلت ضرور ملتی ہے مگر پکڑ بڑی سخت ہوتی ہے۔ (تفسیر ابن کثیر، 2/532)

ظلم کرنے والا اور ظلم سہنے والا دونوں پر پکڑ: جب لوگ ظالم کو دیکھیں اور اس کا ہاتھ نہ پکڑیں تو قریب ہے کہ اللہ سب کو عذاب میں مبتلا کر دے۔ (ترمذی، 4/85، حدیث: 2168)

ظلم کے خلاف آواز اٹھانا امتِ مسلمہ کا دینی و ایمانی فریضہ ہے۔ ظالم کی حمایت یا خاموشی اللہ کے عذاب کا سبب بنتی ہے۔ قرآن نے امت مسلمہ کو خیرِ امت اسی لیے قرار دیا کہ وہ نیکی کو عام اور برائی کو مٹانے والی ہو۔ ظلم کے مقابلے میں خاموش رہنا صرف غفلت نہیں بلکہ جرم ہے۔