مسلمانوں پر
ظلم اور امت مسلمہ کی خاموشی از بنت عبدالمجید، شفیع کا بھٹہ سیالکوٹ
ظلم ایک ایسا
بدترین فعل ہے جس سے انسان اپنے بنیادی حق سے محروم ہو کر اَذِیَّت اور کَرب کی
زندگی گزارنے پر مجبور ہو جاتا ہے اوریہ وہ عمل ہے جس سے جھگڑے اور فسادات جنم
لیتے، لوگ بغاوت اور سرکشی پر اتر آتے اور اصول و قوانین ماننے سے انکار کر دیتے
ہیں جس کے نتیجے میں انسانی حقوق تَلف ہوتے اور معاشرے کاا من و سکون تباہ ہو کر
رہ جاتا ہے،دینِ اسلام چونکہ انسانی حقوق کا سب سے بڑا محافظ اور معاشرتی امن کو
برقرار رکھنے کاسب سے زیادہ حامی ہے اسی لئے اس دین نے انسانی حقوق تَلف کرنے اور
معاشرتی امن میں بگاڑ پیدا کرنے والے ہر فعل سے روکا ہے اوران چیزوں میں ظلم کا
کردار دوسرے افعال کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے اس لئے اسلام نے ظلم کے خاتمے
کیلئے بھی انتہائی احسن اِقدامات کئے ہیں تاکہ لوگوں کے حقوق محفوظ رہیں اور وہ
امن و سکون کی زندگی بسر کریں، ان میں سے ایک اِقدام لوگوں کو یہ حکم دینا ہے کہ
وہ ظالم کو روکیں اور دوسرا اِقدام ظالم کو وعیدیں سنانا ہے تاکہ وہ خوداپنے ظلم
سے باز آجائے، جیسا کہ درج ذیل احادیث سے واضح ہے،چنانچہ
1۔ حضور ﷺ نے
ارشاد فرمایا: اپنے بھائی کی مدد کرو خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم۔ کسی نے عرض کی: یا
رسولَ اللہ! اگر وہ مظلوم ہو تو مدد کروں گا لیکن ظالم ہو تو کیسے مدد کروں؟ ارشاد
فرمایا: اس کو ظلم کرنے سے روک دے یہی (اس کی)مدد کرنا ہے۔ (بخاری، 4/389، حدیث: 6952)
2۔ حضرت علی
المرتضیٰ سے روایت ہے، رسولُ اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: مظلوم کی بددعا سے بچو، وہ
اللہ سے اپنا حق مانگتا ہے اور اللہ تعالیٰ کسی حق والے کا حق اس سے نہیں روکتا۔ (شعب
الایمان،6/49، حدیث: 7464)
Dawateislami