ظلم ایک ایسا بدترین فعل ہے جس سے انسان اپنے بنیادی حق سے محروم ہو کر اَذِیَّت اور کَرب کی زندگی گزارنے پر مجبور ہو جاتا ہے اوریہ وہ عمل ہے جس سے جھگڑے اور فسادات جنم لیتے، لوگ بغاوت اور سرکشی پر اتر آتے اور اصول و قوانین ماننے سے انکار کر دیتے ہیں جس کے نتیجے میں انسانی حقوق تَلف ہوتے اور معاشرے کاا من و سکون تباہ ہو کر رہ جاتا ہے،دینِ اسلام چونکہ انسانی حقوق کا سب سے بڑا محافظ اور معاشرتی امن کو برقرار رکھنے کاسب سے زیادہ حامی ہے اسی لئے اس دین نے انسانی حقوق تَلف کرنے اور معاشرتی امن میں بگاڑ پیدا کرنے والے ہر فعل سے روکا ہے اوران چیزوں میں ظلم کا کردار دوسرے افعال کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے اس لئے اسلام نے ظلم کے خاتمے کیلئے بھی انتہائی احسن اِقدامات کئے ہیں تاکہ لوگوں کے حقوق محفوظ رہیں اور وہ امن و سکون کی زندگی بسر کریں، ان میں سے ایک اِقدام لوگوں کو یہ حکم دینا ہے کہ وہ ظالم کو روکیں اور دوسرا اِقدام ظالم کو وعیدیں سنانا ہے تاکہ وہ خوداپنے ظلم سے باز آجائے، جیسا کہ درج ذیل احادیث سے واضح ہے،چنانچہ

1۔ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا: اپنے بھائی کی مدد کرو خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم۔ کسی نے عرض کی: یا رسولَ اللہ! اگر وہ مظلوم ہو تو مدد کروں گا لیکن ظالم ہو تو کیسے مدد کروں؟ ارشاد فرمایا: اس کو ظلم کرنے سے روک دے یہی (اس کی)مدد کرنا ہے۔ (بخاری، 4/389، حدیث: 6952)

2۔ حضرت علی المرتضیٰ سے روایت ہے، رسولُ اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: مظلوم کی بددعا سے بچو، وہ اللہ سے اپنا حق مانگتا ہے اور اللہ تعالیٰ کسی حق والے کا حق اس سے نہیں روکتا۔ (شعب الایمان،6/49، حدیث: 7464)

امتِ مسلمہ جو کبھی دنیا کی قیادت کرتی تھی، آج بے بسی، زوال، غلامی اور ظلم کا شکار ہے۔ دنیا کے ہر کونے میں مسلمان محکوم، مظلوم، پسماندہ اور منتشر نظر آتے ہیں۔ کیا یہ وہی امت ہے؟ مسئلہ فلسطين بہت اہم ہے جہاں مسلمانوں پربہت ظلم ستم کیے جارہے ہیں اس ظلم میں زیاده تر بچے شامل ہیں تقریبا چھ ہزار معصوم بچے ہیں۔ غزہ کے مسلمان بےسرو سامان کھلے آسمان کے نیچے آواز حق بلند کیے ہوئے ہیں اس طرح مسئلہ کشمیر جہاں مسلمانوں پراس طرح کی مجرمانہ خاموشی مسئلہ کشمیر سے عدم دلچسپی اور مظلوم کشمیری مسلمانوں کی جدوجہد آزادی کو کمزور کرنیکی عکاسی کرتی ہے۔ اگر مسلمان بھی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول قرآن مجید اور عام مسلمانوں کے ساتھ خیرخواہی اور وفاداری نہیں کرتا۔ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کے لیے وہی چاہے جو اپنے لیے اور اپنے اہل و عیال کے لیے چاہتا ہو۔حضور نے فرمایا:تم میں سے کوئی اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک وہ اپنے دوسرے مسلمان بھائی کے واسطے وہی بات نہ چاہے جو وہ اپنے لیے چاہتا ہو۔ (بخاری،1/16، حدیث:13) مسلمانوں پر ظلم بے شمار ہوتے ہیں اس لیے جب کبھی بھی مسلمانوں پر ظلم ہو تو مسلمان کا ساتھ دے گا اس ظلم کے خلاف آواز اٹھائیں ظالم جب اتنی ہولناک وعیدیں سنے گا تواس کے دل میں خوف پیدا ہو گا اور یہی خوف ظلم سے باز آنے میں اس کی مدد کرے گا، یوں معاشرے سے ظلم کا جڑ سے خاتمہ ہو گا اور معاشرہ امن و سکون کا پرلطف باغ بن جائے گا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں دینِ اسلام کے احکامات اور تعلیمات کو صحیح طریقے سے سمجھنے اور ان پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین