(1)نبیِّ
کریم علیہ الصلوۃ و السَّلام کاارشاد ہے: تم سے پہلے لوگوں میں ایک شخص تھا جس کے
پاس اس کی روح قَبْض کرنے فِرِشْتہ آیا تو اُس سے کہا گیاکہ کیا تو نے کوئی نیکی کی
ہے؟ وہ بولا: میں نہیں جانتا ۔ اس سے کہا
گیا:غور تو کر ۔ اس نے کہا: اس کے سِوا
اور کچھ نہیں جانتا کہ میں دنیا میں لوگوں سے تجارت کرتا تھا اور ان پر تقاضا کرتا
تھا تو امیر کو مہلت دے دیتا اور غریب کو مُعافی ۔ پس اللہ تعالیٰ نے اسے جنّت میں
داخل فرما دیا ۔ (بخاری،ج2،ص460،حدیث:3451)
(2)اُمّ
المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں کہ
حضور نبی کریم ﷺ نے دروازے کے باہر دو لڑنے والوں کی بلند آواز
سنی جن میں سے ایک دوسرے سے قرض کم کرنے کا مطالبہ کر رہا تھا اور قرض میں نرمی
چاہ رہا تھا جبکہ دوسرا آدمی کہہ رہا تھا کہ خدا کی قسم! میں ایسا نہیں کروں گا
۔ ‘‘ آپ ﷺ اُن کے پاس تشریف لائے اور فرمایا
: ’’کون ہے جو اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم کھاکر کہتا ہے کہ میں نیکی نہیں کروں گا؟‘‘
تو اُن میں سے ایک نے عرض کی : ’’یارسولَ اللہ ﷺ !وہ میں ہوں ، اور اب اِس (مقروض) کے لیے وہی ہے جو یہ چاہتا ہے ۔ ‘‘(بخاری، کتاب الصلح ، باب ھل یشیر الامام
بالصلح ،2 / 214 ، حدیث : 2705)
مزکورہ حدیث سے حاصل ہونے والے مدنی پھول:
(1)حتی
المقدور تنگدست اور مجبور قرض دار کے ساتھ نرمی کرنی چاہیے ۔
(2)قرض خواہ اگر بہت ضرورت مند نہیں تو اُسے قرض دار کے قرض میں
کمی بھی کرنی چاہیے ۔
(3)قرض خواہ اگر مال دار ہے اور قرض دار بہت
نادار ہےتو اُس مال دار کو چاہیے کہ قرض معاف کر دے کہ یہ نہایت ہی اجر وثواب کا
باعث ہے ۔
(4)نیک کام کو ترک کرنے کی قسم کھانے والے کو
تنبیہ کرنا سنت سے ثابت ہے ۔
(5)صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان حضور نبی
کریم رؤف رحیم ﷺ کی مراد کو بہت جلد سمجھ جایا کرتے تھے اور
اشارہ ملتے ہی اُس پر عمل پیرا ہوجاتے ، نیز نیکیوں پر بہت حریص ہوا کرتے تھے ۔
(6)یہ بھی معلوم ہوا کہ قرض خواہ سے مقروض کے
لیے سفارش کرنی چاہیے ۔ (فیضانِ ریاض
الصالحین جلد 3 صفحہ 370 تا 371 )
میٹھے میٹھے
اسلامی بھائیو! دیکھا گیا ہے کہ آج کل لوگ مجبور وتنگدست قرض دار کے ساتھ بھی بہت
ہی نارَوا سلوک کرتے ہیں ، اس کے ساتھ نرمی کرنے کے لیے بالکل تیار نہیں ہوتے ، وہ
جہاں مل جائے اُس کی عزت پامال کرکے رکھ دیتے ہیں ، آئے دن اُس کے گھر کے چکر
لگاتے ، دروازہ بجاتے ، گھر کے باہر کھڑے ہوکر اُسے باتیں سناتے ، بلکہ بعض بے باک
لوگ تو گالیاں تک بَک جاتے اور اُس بے چارے ، لاچار ، غریب اور بے بس شخص کی عزت
کا جنازہ نکالتے نظر آتے ہیں ۔ حالانکہ احادیث مبارکہ میں تنگدست و مجبور قرض
دار کے ساتھ نرمی کرنے کی ترغیب دلائی گئی ہے ۔ چنانچہ اِس ضمن میں تین فرامین مصطفےٰ ﷺ ملاحظہ کیجئے :
(1) جو دنیامیں تنگ دست کو آسانی فراہم کرےگا ،
اللہ عَزَّوَجَلَّ دنیا وآخرت میں اُس کے لئے آسانیاں پیدا فرمائے گا ۔ (مسلم، كتاب الذكر والدعا، باب فضل الاجتماع
على تلاوة القرآن ، ص 1447 حدیث: 2699) (2) حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی
عَنْہُ سے روایت ہے، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :جس نے تنگ دست کو مہلت دی یا اس کا قرض معاف کر دیا اللہ
تعالیٰ قیامت کے دن اسے عرش کے سائے میں رکھے گا جبکہ اس کے سوا کوئی سایہ نہ ہو
گا ۔ (ترمذی، کتاب البیوع، باب ما جاء فی انظار المعسرالخ،3 / 52 الحدیث: 1310)
(3) جس نے کسی تنگ دست کو مہلت دی تو اُس کے لئے
ہر روز اُس قرض کی مثل صدقہ کرنے کا ثواب ہے ۔ راوی کہتے ہیں کہ پھر میں نے سرکارِ مدینہ ﷺ کو
فرماتے ہوئے سنا : “ جس نے کسی تنگ دست کو مہلت دی تو اُسے روزانہ اتناہی مال دو
مرتبہ صدقہ کرنے کا ثوا ب ملے گا ۔ “ میں
نے عرض کی : ’’یارسولَ اللہ ﷺ !پہلے تو میں نے آپ کویہ فرماتے ہوئے سناتھا کہ
جس نے کسی تنگدست کو مہلت دی اُس کے لئے ہر روز اس قر ض کی مثل صدقہ کرنے کاثواب
ہے پھر آپ ﷺ نے یہ فرمایاکہ جس نے کسی تنگد ست کو مہلت دی
اُس کے لئے ہر روز اس قر ض سے دوگنا صدقہ کرنے کا ثواب ہے ۔ ‘‘ آپ ﷺ نے ارشادفرمایا : “ اُسے روزانہ
قر ض کی مقدار کے برابر مال صدقہ کرنے کا ثو اب تو قر ض کی ادا ئیگی کا وقت آنے سے
پہلے ملے گااور جب ادائیگی کا وقت ہوگیا
پھر اُس نے قرض د ار کو مہلت دی تو اُسے روزانہ اتنا مال دو مرتبہ صدقہ کرنے کاثوا
ب ملے گا ۔ “ ( مسند احمد ، حدیث بریدۃ الاسلمی ، 9 / 32 ، حدیث : 23108)(فیضانِ ریاض الصالحین صفحه 369 تا 370 )
قرضدار کو
مہلت دینے اور قرضہ معاف کرنے کے فضائل: اگر تنگ دست یا نادار ہو تو اس کو مہلت دینا یا
قرض کا کچھ حصہ یا پورا قرضہ معاف کردینا اجرِ عظیم کا سبب ہے ۔ احادیث میں بھی اس کے بہت فضائل بیان ہوئے ہیں
، چنانچہ ا س کے چند فضائل درجِ ذیل ہیں :
(1) حضرت
ابو قتادہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:جو شخص یہ چاہتا ہو کہ اللہ تعالیٰ اس کو قیامت کے دن کی تکلیفوں سے نجات
دے وہ کسی مُفلِس کو مہلت دے یا اس کا قرض معاف کردے ۔ (مسلم،کتاب المساقاۃ
والمزارعۃ، باب فضل انظار المعسر، ص845 الحدیث: 32(1563))
(2)حضرت
جابر بن عبد اللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روآیت ہے، حضورِ اقدس ﷺ نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم کرے جو بیچنے اور خریدنے اور تقاضا
کرنے میں آسانی کرے ۔ (بخاری، کتاب البیوع،
باب السہولۃ والسماحہ فی الشراء والبیع، 2 / 12 الحدیث: 2076 )
(3) اور صحیح
مسلم کی ایک اور روایت میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی بارگاہ میں حاضر اُس معاف کرنے والے، مالدار پر آسانی کرنے
اور تنگدست کو مہلت دینے والے شخص سے فرمایا:میں تجھ سے زیادہ معاف کرنے کا حقدار
ہوں ، اے فرشتو! میرے اس بندے سے درگزر کرو ۔ (مسلم،کتاب المساقاۃ والمزارعۃ،
باب فضل انظار المعسر، ص۸۴۴، الحدیث:29(1560)
Dawateislami