مسلمانوں پر
ظلم اور امت مسلمہ کی خاموشی از بنت محمد ندیم صدیقی، سرجانی ٹاؤن کراچی
آج کے اس پُر
فتن دور میں جب دنیا کے ہر گوشے سے ظلم و ستم کی خبریں آرہی ہیں، سب سے زیادہ
مظلوم چہرے انہی کے ہیں جو لا الٰہ الا اللہ کا کلمہ پڑھتے ہیں۔ کہیں فلسطین کی
سرزمین لہو میں نہائی ہوئی ہے، کہیں کشمیر کے زخم تازہ ہیں، کہیں برما، شام اور
چین میں مسلمانوں کے گھروں پر قیامت ٹوٹی ہوئی ہے۔ مگر افسوس! امتِ مسلمہ کی
مجموعی کیفیت خاموش تماشائیوں کی سی ہو چکی ہے۔
یہ وہی امت ہے
جس کے بارے میں قرآن نے فرمایا: كُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ
لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ تَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ
تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِؕ- (پ 4، آل عمران: 110) ترجمہ: تم بہترین امت ہو جو لوگوں کے لیے نکالی گئی
ہے، تم نیکی کا حکم دیتے ہو، برائی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔
مگر آج یہ
امتِ خیر، امتِ خاموش بن چکی ہے۔ ظلم ہو رہا ہے، لاشیں گری پڑی ہیں، ماں کی گود
اجڑ رہی ہے، مگر ہم محض افسوس کے دو جملے کہہ کر مطمئن ہو جاتے ہیں۔ یہی خاموشی
مجرمانہ ہے۔ کیونکہ خاموشی کبھی ظلم کو کم نہیں کرتی، بلکہ ظالم کو مزید طاقتور
بناتی ہے۔
حضورِ اکرم ﷺ
نے فرمایا: لوگ جب ظالم كو ظلم کرتا ہوا دیکھیں اور اسے نہ روکیں تو قریب ہے کہ
اللہ کی طرف سے ان سب پر عذاب نازل ہوجائے۔ (ابو داود، 4/163، حدیث: 4338)
یعنی ظلم کے
مقابلے میں خاموش رہنا، دراصل ظلم کا ساتھ دینا ہے۔
اگر ہم آج بھی
امت کے اجتماعی درد سے غافل رہے تو یاد رکھیں! ظلم کا دائرہ کبھی صرف سرحدوں تک
محدود نہیں رہتا، یہ ایک دن ہمارے دروازے تک بھی پہنچ سکتا ہے۔ امتِ مسلمہ کو
چاہیے کہ اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرے، باہمی تعصب اور مفاد پرستی کو چھوڑ کر
مظلوموں کے لیے آواز بلند کرے۔ قرآن نے فرمایا: وَ اِنِ اسْتَنْصَرُوْكُمْ فِی
الدِّیْنِ فَعَلَیْكُمُ النَّصْرُ (پ 10، الانفال: 72) ترجمہ: اگر وہ تم
سے دین کے معاملے میں مدد مانگیں تو تم پر مدد کرنا لازم ہے۔
یہی قرآنی ذمہ
داری ہے۔ آج امت کی اکثریت سوشل میڈیا کے شور تک محدود ہو چکی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ
ہم دعاؤں، مالی مدد، اور شعوری بیداری کے ذریعے عملی کردار ادا کریں۔ اپنے گھروں،
تعلیمی اداروں، مساجد اور میڈیا میں امت کی وحدت کا پیغام عام کریں۔
ہم اگر متحد
ہو جائیں تو دنیا کی کوئی طاقت ہمیں دبا نہیں سکتی۔ مگر جب تک ہم ذاتی مفاد کے
غلام اور امت کے درد سے خالی رہیں گے، ظلم کی آگ سلگتی رہے گی۔
آخر میں ایک
شعر امتِ مسلمہ کے ضمیر کو جگانے کے لیے:
امت
کے جسد میں درد ہے باقی کہاں؟
جو
چیخ اُٹھے مظلوم، تو خوابیدہ ہیں جہاں
اللہ تعالیٰ
ہمیں امت کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھنے، مظلوموں کے لیے آواز بننے، اور ظلم کے خلاف
مؤمنانہ جرات کے ساتھ کھڑا ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔
Dawateislami