محمد غفران رضا عطاری (درجۂ سابعہ مرکزی جامعۃ المدینہ
فیضان مدینہ کراچی، پاکستان)
اسلام ایک
ایسا کامل اور بہترین دین ہے جو انسان کی انفرادی و اجتماعی زندگی کے تمام طرح سے
رہنمائی فراہم
کرتا ہے
۔ اس دینِ نے انسانیت کی کامیابی کے لیے
جہاں عبادات کی تعلیم دی، وہیں معاملات میں انصاف، آسانی اور ہمدردی کی بھی تعلیم
دی ۔ چنانچہ قرآن مجید میں
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
وَ اِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ اِلٰى مَیْسَرَةٍؕ-وَ
اَنْ تَصَدَّقُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۸۰)
ترجمہ کنز العرفان: اور اگر مقروض تنگدست ہو
تو اسے آسانی تک مہلت دو اور تمہارا قرض کوصدقہ کردینا تمہارے لئے سب سے بہتر ہے
اگر تم جان لو ۔ (البقرۃ:280)
اس آیت کے
تحت تفسیر صراط الجنان میں ہے :وَ اِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ:اور اگر
مقروض تنگدست ہو: یعنی تمہارے قرضداروں میں سے اگر کوئی تنگ دستی کی وجہ سے تمہارا
قرض ادا نہ کر سکے تو اسے تنگ دستی دور ہونے تک مہلت دو اور تمہارا تنگ دست پر اپنا
قرض صدقہ کر دینا یعنی معاف کردینا تمہارے لئے سب سے بہتر ہے اگر تم یہ بات جان لو
کیونکہ اس طرح کرنے سے دنیا میں لوگ تمہاری اچھی تعریف کریں گے اور آخرت میں تمہیں
عظیم ثواب ملے گا ۔ (خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۲۸۰، ۱ / ۲۱۸)
نبیِّ کریم
علیہ الصلوۃ و السَّلام کاارشاد ہے: تم سے پہلے لوگوں میں ایک شخص تھا جس کے پاس
اس کی روح قَبْض کرنے فِرِشْتہ آیا تو اُس سے کہا گیاکہ کیا تو نے کوئی نیکی کی
ہے؟ وہ بولا: میں نہیں جانتا ۔ اس سے کہا
گیا:غور تو کر ۔ اس نے کہا: اس کے سِوا
اور کچھ نہیں جانتا کہ میں دنیا میں لوگوں سے تجارت کرتا تھا اور ان پر تقاضا کرتا
تھا تو امیر کو مہلت دے دیتا اور غریب کو مُعافی ۔ پس اللہ تعالیٰ نے اسے جنّت میں
داخل فرما دیا ۔ (بخاری،ج2،ص460،حدیث:3451)
(1) حضرت
ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کا کسی آدمی پر قرض تھا جب اس کے پاس قرض لینے جاتے تو وہ
آگے پیچھے ہوجاتا ۔ ایک دن وہ اس کے گھر
گئے تو ایک بچہ نکلا حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے بچے سے اس آدمی کے بارے میں
دریافت کیا ۔ اس نے کہا وہ گھر میں
کھاناکھا رہا ہے انہوں نے آواز دی کہ اے فلاں! باہر آؤ مجھے پتہ چلا ہے کہ تم یہیں
ہو ۔ وہ آدمی آیا تو انہوں نے پوچھا کہ تو
مجھ سے کیوں غائب ہوجاتا ہے؟ اس نے کہا میں تنگدست ہوں اور میرے پاس کچھ بھی نہیں
۔ ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا اللہ کی
قسم! کیا تو واقعی تنگدست ہے؟ اس نے کہا ہاں ۔ ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے روتے ہوئے کہا میں نے اللہ کے رسول (ﷺ) سے سنا
ہے کہ جس شخص نے اپنے قرض دار پر نرمی کی یا اس کا قرض معاف کردیا تو وہ روز قیامت
عرش کے سایہ تلے ہوگا ۔ ( مسند احمد : کتاب باقی مسند الأنصار، باب
حدیث أبی قتادہ)
(2)حضرت ابوہریرہ
رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
مَنْ نَفَّسَ عَنْ مُؤْمِنٍ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ الدُّنْيَا، نَفَّسَ اللهُ
عَنْهُ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَمَنْ يَسَّرَ عَلَى مُعْسِرٍ،
يَسَّرَ اللهُ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِجس نے کسی مؤمن کی دنیاوی
تکلیف دور کی، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی تکلیف دور کرے گا، اور جس نے کسی
تنگدست پر آسانی کی، اللہ تعالیٰ اس پر دنیا و آخرت میں آسانی فرمائے گا ۔ (صحیح
مسلم، حدیث: 2699)
(3) حضرت
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ’’نرمی جس چیز میں
ہوتی ہے، اسے آراستہ کر دیتی ہے اور جس چیز سے نرمی الگ کر لی جاتی ہے، اسے بدنما
بنا دیتی ہے‘‘ ۔ ( مسلم، رقم ۲۵۹۴، مجمع
الزواید ،۸/۱۸)
(4) ایک
اور روایت میں آپ ﷺ نے فرمایا: كَانَ تَاجِرٌ
يُدَايِنُ النَّاسَ، فَإِذَا رَأَى مُعْسِرًا قَالَ لِفِتْيَانِهِ: تَجَاوَزُوا
عَنْهُ، لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يَتَجَاوَزَ عَنَّا، فَتَجَاوَزَ اللَّهُ عَنْه ترجمہ : ایک
تاجر لوگوں کو قرض دیتا تھا، جب کسی تنگدست کو دیکھتا تو اپنے خدام سے کہتا: اسے
چھوڑ دو، شاید اللہ ہمیں بھی معاف کر دے ۔ تو اللہ تعالیٰ نے بھی اسے معاف فرما دیا ۔ (صحیح بخاری، حدیث: 2078، صحیح
مسلم، حدیث: 1562)
قرآن
و حدیث کی روشنی میں یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ مقروض پر نرمی، مہلت اور درگزر نہ
صرف اخلاق کا تقاضہ ہے بلکہ یہ عمل انسان کو اللہ کی رحمت، مغفرت اور جنت کے قریب
کر دیتا ہےاسلام نے انسانی زندگی میں باہمی ہمدردی، نرمی اور آسانی کو بنیاد کے
طور پر متعارف کرایا ہے ۔ نبی کریم ﷺ کی سیرتِ
طیبہ سے یہ واضح رہنمائی ملتی ہے کہ مالی معاملات میں بھی رحم و کرم اور درگزر کا
جذبہ برقرار رہنا چاہیے ۔ آپ ﷺ نے مقروض
پر نرمی، مہلت دینے اور معافی کے عمل کو نہ صرف پسند فرمایا بلکہ اسے عظیم اجر و
ثواب کا ذریعہ قرار دیا ۔ احادیثِ مبارکہ
سے معلوم ہوتا ہے کہ جو شخص کسی تنگدست پر آسانی کرے، اللہ تعالیٰ اس پر دنیا و
آخرت میں آسانی فرماتا ہے ۔ لہذا اس دور میں
اس بات کی بہت زیادہ ضرورت ہے کہ اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لیے آپنے مسلمان بھائی
کے ساتھ ہمدردی اور مشکل وقت میں پریشانی دور کرنے کے لیے حسب توفیق مدد کرنی چاہیے
اور اس بات سے بھی بچا جائے کہ لوگوں میں میری واہ واہ ہو میرا نام ہو اور دوسرے
مسلمان بھائی کی بھی عزت نفس کا خیال کرنا چاہتے ۔ آمین بجاہ سید المرسلین ﷺ
Dawateislami