پیارے پیارے اسلامی بھایو!جو شخص مشکل وقت میں قرض دار کے ساتھ رحم کرے، اللہ اس پر رحم کرے گادوسروں کے دکھ میں ساتھ دینا انسانیت کی علامت ہے، قرض دار کے ساتھ نرمی بھی یہی ہے  ۔ قرض دار کی مشکلات کو سمجھنا اور ان کے مطابق رویہ اختیار کرنا عقل مند کی نشانی ہے آئیے قرض دار پر نرمی کے متعلق کچھ احادیث کا مطالعہ کرتے ہیں:

(1) قرضوں میں آسانی کرو:عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: «مَنْ سَهْلَ عَلَى مُسْلِمٍ فِي دَيْنِهِ سَهْلَ اللَّهُ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ ترجمہ:حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:جو کسی مسلمان کے قرض میں آسانی کرے گا، اللہ تعالیٰ اس کے لیے دنیا اور

آخرت میں آسانیاں پیدا فرمائے گا ۔ ( سنن ابی داؤد، كتاب البيوع، حدیث نمبر 3098)

(2) بلاؤں سے نجات :عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ الله ﷺ: مَنْ أَعْطَى الْمُدِينَ مُهْلَةً أَوْ سَهْلَ عَلَيْهِ نَجَّاهُ اللَّهُ مِنَ الْبَلَاءِترجمہ :حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روآیت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:جو قرض دار کو مہلت دے یا اس پر آسانی کرے، اللہ تعالیٰ اسے بلاؤں سے نجات دے گا ۔ ( سنن الترمذى كتاب البيوع، حدیث نمبر 1322)

(3) قیامت کے دن مہلت :عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: مَنْ أخَّرَ دَيْنَ مُسْلِمٍ لَهُ أَخَّرَ اللَّهُ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ترجمہ:حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:جو کسی مسلمان کے قرض کی ادائیگی میں مہلت دے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے لیے مہلت دے گا ۔ (سنن ابی داؤد، كتاب البيوع، حدیث نمبر 3147 )

(4) قرض اچھے طریقے سے ادا کرنا :إِنَّ خِيَارَكُمْ أَحْسَنُكُمْ قَضَاءًترجمہ:رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو قرض کی ادائیگی میں سب سے اچھا ہو ۔ (صحیح بخاری جلد2 باب حُسْن الْقَضَاءِ حدیث نمبر 2393)

(5) قرض دار کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا ساتھ :إِنَّ اللَّهَ مَعَ الدَّائِنِ حَتَّى يَقْضِيَ دَيْنَهُ مَا لَمْ يَكُنْ فِيمَا يُكْرَهُ الله ترجمہ:رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:بے شک اللہ تعالیٰ قرض دینے والے کے ساتھ ہوتا ہے، جب تک وہ اپنا قرض ادا نہ کرے، بشرط یہ کہ وہ قرض کسی ایسی چیز کے لیے نہ ہو جسے اللہ نآپسند کرتا ہو ۔ (سنن ابن ماجہ،باب مَن أَخَذَ قَرْضًا وَهُوَ يُنْوِي تَسْدِيدَهُ ،جلد 3 صفحہ 270 حدیث نمبر2409)

پیارے پیارے اسلامی بھایو! یہ حدیثیں ہمیں سکھاتی ہے کہ مالی معاملات میں سختی نہیں بلکہ نرمی اور ہمدردی ہونی چاہیے ۔ آج کے دور میں جہاں لوگ معمولی مالی جھگڑوں پر دلوں میں نفرت بھر لیتے ہیں، وہاں یہ تعلیم ہمیں انسانیت بردباری اور سماجی سکون کا راستہ دکھاتی ہے ۔ اگر ہم قرض داروں کے ساتھ نرمی مہلت اور خیر خواہی کا برتاؤ کریں تو نہ صرف ہمارے دلوں میں سکون آئے گا بلکہ معاشرہ بھی محبت تعاون اور عدل سے بھر جائے گا ۔ اللہ پاک ہمیں عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔