مصیبت
زدہ کو پریشان مت کیجیے از بنت اسماعیل عطاریہ، جامعۃ المدینہ فیضان عطار کراچی
پہلے یہ جان
لیں کہ مصیبت اللہ کی طرف سے آتی ہے اور اس کو وہی دور کرسکتا ہے لہذا مصیبت کے
وقت ہمیں چاہیے اللہ کی طرف رجوع کریں اور اسی سے مدد مانگیں کسی پر پریشانی کا
مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ واقعی برا آدمی ہے بلکہ اللہ کسی کو پریشانی میں مبتلا کرکے
اس کے ساتھ بہتری کا معاملہ کرتا ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ جس کے
ساتھ خیر و برکت کا ارادہ کرتا ہے اسے مصائب وآلام میں مبتلا کردیتا ہے۔(1)
مصیبت
زدہ کو پریشان مت کیجئے: کسی مصیبت زدہ کو دیکھ کر بدگمان ہونا،
اس کا مذاق اڑانا اور لوگوں میں اس کی مصیبت کا ذکرکرکے اس کی عزت اچھالنا مصیبت
زدہ کو مزید پریشان کرنا ایک اچھے مسلمان کی علامت نہیں ہے! ہمیں چاہیے کہ مصیبت
کی اس گھڑی میں اپنے مسلمان بھائی کا ساتھ دیں، اس کی پریشانی مصیبت اور تکلیف میں
اس کی مدد کریں دکھیارے کا دکھ بانٹیں کہ یہ نہایت اجرو ثواب کاباعث ہے۔
رسول اللہ ﷺ
نے فرمایا: جو شخص کسی مسلمان کی دنیاوی تکالیف میں سے کوئی تکلیف دور کر دے، تو
اللہ اس کی قیامت کی تکالیف میں سے کوئی تکلیف دور فرمائے گا، اور جس نے کسی نادار
و تنگ دست کے ساتھ آسانی و نرمی کا رویہ اپنایا تو اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ دنیا و
آخرت میں آسانی کا رویہ اپنائے گا، اور جو شخص کسی مسلمان کا عیب چھپائے گا تو
اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں اس کا عیب چھپائے گا، اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی مدد
میں رہتا ہے، جب تک کہ بندہ اپنے بھائی کی مدد میں رہتا ہے۔ (2)
یہ حدیث اس
قدر جامع ہے کہ اگر صرف اسی پر صحیح طریقے سے عمل پیرا ہوا جائے تو دنیا امن و
سلامتی کا گہوارہ بن سکتی ہے اسلام ہمدردی و ایثار کا درس دیتا ہے اور ایک دوسرے
کے ساتھ تعاون کرنا اہل ایمان کا شیوہ ہے۔
محمد بن عمر و
بن حزم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو کوئی مسلمان اپنے
مسلمان بھائی کو کسی مصیبت میں تسلی دے، تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے عزت کا
جوڑا پہنائے گا۔(3)
مسلمان
کی پریشانی دورکیجئے: اللہ پاک کے محبوب ﷺ نے فرمایا: جو کسی مسلمان کی
پریشانی دور کرے گا اللہ پاک قیامت کی پریشانیوں میں سے اس کی ایک پریشانی
دورفرمائے گا۔ (4)
قرض
کے ذریعے مسلمانوں کی مدد: ضرورت مند مسلمان بھائی کی قرض کے
ذریعےبھی مدد کی جا سکتی ہےچنانچہ اللہ پاک کے محبوب ﷺ نے فرمایا: تین طرح کے
مؤمنوں کو اجازت ہو گی کہ وہ جنت کے جس دروازے سے چاہیں داخل ہوجائیں اوران کاجنتی
حور کے ساتھ نکاح کیا جائے گا۔ ان میں سے ایک حاجت مند کو پوشیدہ قرض دینے والا
بھی ہے۔(5)
دعا
کے ذریعہ مسلمانوں کی مدد: ہمیں چاہیے اپنے مسلمان بھائیوں کو
اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں ان کی مصیبت دور ہونے کی اپنے رب سے دعائیں کریں یہ بہت
خوبصورت عمل ہے کہ اللہ پاک کے محبوب ﷺ نے فرمایا: مسلمان کی اپنے مسلمان بھائی کے
لیے اس کی غیر موجودگی میں کی گئی دعا قبول ہوتی ہے، اس کے سر کے قریب ایک فرشتہ
مقرر ہوتا ہے، وہ جب بھی اپنے بھائی کے لیے دعائے خیر کرتا ہے تو مقرر کیا ہوا
فرشتہ اس پر کہتا ہے: آمین، اور تمہیں بھی اسی کی طرح عطا ہو۔ (6)
امتِ
محبوب کا یا رب بنا دے خیر خواہ
نفس
کی خاطر کسی سے دل میں میرے ہو نہ بیر
اللہ پاک ہمیں
عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین
حوالہ
جات:
1۔ بخاری، 4/4، حدیث: 5645
2۔ ابو داود، 4/373، حدیث: 4946
3۔ ابن ماجہ، 2/269، حديث: 1601
4۔ مسلم، ص 1069،
حدیث:678
5۔ مسند ابی
یعلیٰ،2/196، حدیث: 1788 ملخصاً
6۔ مسلم، ص 1121، حدیث: 6929
Dawateislami