مصیبت
زدہ کو پریشان مت کیجیے از بنت سید رضوان علی، جامعۃ المدینہ پاکپورہ سیالکوٹ
کسی مسلمان
بھائی کی حوصلہ افزائی کرنے کی بجائے اس کی پریشانی میں اضافہ نہ کیا جائے مثال کے
طور پر کوئی مسلمان بھائی مالی اعتبار سے مشکلات کا سامنا کر رہا ہے تو اس کو
غریبی کا طنز کرنا،یہ کہنا کہ اب ان حالات میں تو گھر کیسے چلائے گا تیرا کیا ہوگا
اگر تو ہمیشہ ایسا ہی رہے گا وغیرہ۔ ہر مسلمان کو چاہیے کہ اپنے مسلمان بھائی کو
مزید پریشان کرنے کی بجائے اسے صبر کی تلقین کرے اور اپنی زبان سے اسکو تکلیف نہ
دے جیسا کہ:
نبی اکرم ﷺ نے
فرمایا: بہترین مسلمان وہ ہے جس کی زبان یا ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔ (بخاری، 1/16، حدیث: 11)
مصیبت زدہ کو
زیادہ پریشان نہ کیا جائے کہ ہو سکتا ہے کہ کل کو ہم پر بھی وہی مصیبت یا تکلیف آ
جائے ہمیں انہیں صبر کی تلقین کرنی چاہئے اور اللہ پاک سے شکوہ کرنے سے منع کرنا
چاہئے۔
آج کل کوئی
بیمار ہو تو اس کی بیماری کا مذاق بنایا جاتا ہے کہ ہر وقت بیمار رہتا ہے، اس کو
کچھ نہیں ہوا، سب ڈرامہ ہے وغیرہ وغیرہ۔ اس سے بھی ہمیں بچنا لازم ہے کہ آیا اگر اللہ
پاک اس بیماری،مصیبت پر ہمیں مبتلا کر دے تو ہمارا کیا ہوگا! ہم اکثر اوقات مصیبت
زدہ شخص کو اپنے لہجے سے مزید پریشان کر دیتے ہیں اور ہمیں لگتا ہے کہ ہم سے زیادہ
ان کا کوئی ہمدرد ہی نہیں، ہم ان کو اللہ کی رضا کے لئے صبر کی تلقین کرنے کی
بجائے غلط الفاظ کہہ دیتے ہیں کہ تمہارے پر ہی مصیبت آتی ہے، تمہارے ساتھ ہی ایسے
ہوتا ہے وغیرہ وغیرہ۔ ہماری وجہ سے وہ اپنے رب سے شکوہ شکایت شروع کر دیتا ہے جو
رب کی ناراضگی کا سبب بن جاتا ہے لہٰذا ہمیں چاہئے کہ مصیبت زدہ کو پریشان کرنے کی
بجائے اس کو سمجھائیں کہ بعض اوقات مصیبت کے ذریعے انسان اللہ کا قرب پا لیتا ہے۔
حضرت ابو
ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ جس کے
ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے تو اسے تکالیف میں مبتلا کرتا ہے۔ (بخاری، 4/4،
حدیث: 5646)
Dawateislami