اس کا مطلب ہے
کہ جب کوئی شخص مصیبت یا پریشانی میں مبتلا ہو تو ہمیں اس کے ساتھ نرمی اور ہمدردی
کا معاملہ کرنا چاہیے نہ کہ اسے مزید پریشان کرنا چاہیے اس تعلیم کے کچھ اہم پہلو
یہ ہیں:
ہمدردی
اور نرمی: مصیبت
زدہ شخص کے ساتھ ہمدردی اور نرمی کا معاملہ کرنا چاہیے۔
تعاون
اور مدد: مصیبت
زدہ شخص کی مدد کرنی چاہیے اور اس کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے۔
حوصلہ
افزائی: مصیبت
زدہ شخص کو حوصلہ دینا چاہیے اور اسے مایوس نہیں کرنا چاہیے۔ اسلام میں مصیبت زدہ
لوگوں کے ساتھ حسن سلوک کی بہت تاکید کی گئی ہے، حضور ﷺ نے فرمایا: مومن مومن کے
لیے آئینہ ہے اور مومن مومن کا بھائی ہے وہ اس کے نقصان کو دور کرتا ہے اور اس کے
پیچھے اس کی حفاظت کرتا ہے۔ (ابو داود، 4/365،
حدیث: 4918)
مصیبت
زدہ کو پریشان مت کیجئے! اسلام ہمیں دوسروں کے دکھ درد کو
سمجھنے اور ان کے ساتھ ہمدردی کرنے کی ترغیب دیتا ہے، اسلام میں مصیبت زدہ افراد
کے ساتھ حسن سلوک اور ہمدردی کا مظاہرہ کرنے کی بہت تاکید کی گئی ہے، حضور ﷺ نے
فرمایا: مومن مومن کا بھائی ہے وہ اس پر ظلم نہیں کرتا نہ اسے بے یارو مددگار
چھوڑتا ہے اور نہ ہی اسے حقیر جانتا ہے۔
مصیبت زدہ کو
پریشان نہ کرنے کے چھ طریقے ہیں: ہمدردی اور تعزیت: مصیبت زدہ کے دکھ درد کو
سمجھیں ان کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کریں۔ مدد و تعاون: مصیبت زدہ کی مدد کریں اور
ان کے ساتھ تعاون کا مظاہرہ کریں۔ خاموشی اور احترام: مصیبت زدہ کے سامنے خاموشی
اختیار کریں ان کے جذبات کا احترام کریں۔ دعا اور تسلی: مصیبت زدہ کے لیے دعا کریں
اور انہیں تسلی دیں۔
Dawateislami