بعض اوقات کوئی انسان کسی تکلیف یا بیماری میں مبتلا ہوتا ہے جب ہم اسکی مزاج پرسی کرنے جاتے ہیں تو بلا ضرورت زیادہ تکلیف کا باعث بن جاتے ہیں ہم زیادہ دیر بیٹھتے ہیں تو اسے کوئی نہ کوئی چیز ہمارے لئے مہمان ہونے کی صورت میں پیش کرنے کی ضرورت پیش آتی ہیں اور اسطرح ہم اسکی عیادت پوچھنے کے بجائے اسے پریشانی میں ڈال دیتے ہیں۔

مصیبت زدہ کو دیکھ کر یہ دعا پڑھنے کی بڑی فضیلت ہے: الحمد لله الذي عافاني مما ابتلاك به وفضلني على كثير ممن خلق تفضيلا ترجمہ: شکر ہے اللہ کا جس نے مجھے اس چیز (دکھ تکلیف) سے عافیت میں رکھا جس میں تجھے مبتلا کیا ہے اور بہت سی مخلوق پر مجھے نمایاں طور پر فضیلت دی۔

حضرت مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃ الحنان اس حدیث پاک کے تحت لکھتے ہیں: بلا خواہ جسمانی ہو جیسے کوڑھ، اندھا پن یا اور کوئی بیماری، مالی جیسے قرض، فقر، تنگ رزق وغیرہ یا دینی کفر، فسق، ظلم، بدعت وغیرہ کہ ہر مصیبت زدہ کو دیکھ کر یہ دعا آہستہ کہے کہ وہ مصیبت زدہ نہ سنے تا کہ اسے رنج نہ ہو۔ (مراۃ المناجیح، 2/247)

یہ دین اسلام ہمارا اتنا پیارا مذہب ہے جو ہمیں پیار، محبت، ہمدردی کا درس دیتا ہے ہمارا مذہب ہمیں یہ تعلیم دیتا ہے کہ کوئی بھی مسلمان جو کسی دکھ اور پریشانی میں مبتلا ہے ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ اسکے دکھ، پریشانی کو دور کر سکے اگر اسے ہم دور نہیں کر سکتے تو اس کے لئے اللہ کے حضور میں پیش ہو کر دعا کرے کہ اے اللہ میری فلاں مسلمان بہن کی جو بھی پریشانی ہے اسے دور فرما دے اور میرے حق میں ان دعاؤں کو قبول فرما۔

زندگی ایک مومن کے لئے قید خانہ ہے ہمیں زندگی میں پریشانی اور مشکل میں قدم سے قدم ملا کر اس انسان کی مدد کرنی چاہیے جو پریشان ہیں جسے مدد کی ضرورت ہے جو یہ چاہتا ہے کہ کوئی اس کی زندگی میں فرشتے کی صورت میں آکر اسکا مسئلہ حل کر دے۔

لیکن یہ صرف اسی صورت میں ممکن ہے کہ ہم یہ سب دعائیں اپنے رب کی بارگاہ میں حاضر ہو کر مانگیں وہی تو ہے جسکے سامنے جب بندہ سچے دل سے گڑ گڑا کر معافی مانگتا ہے وہ معاف کر دیتا ہے اور اپنے بندے کو اپنی رحمت میں ڈھانپ لیتا ہے۔ وہی ذات تو ہے جو اپنے بندے کو کئی آزمائش میں ڈال کر اسے قریب کرتی ہے۔ بعض وقت ایسی پریشانی ہوتی ہے کہ سارے راستے بند ہو جاتے ہیں سب اکیلا چھوڑ دیتے ہیں لیکن وہ ذات جسکے قبضے میں میری جان ہے اسکی بارگاہ میں ایک سچی توبہ گناہوں کو دھو دیتی ہے۔ مشکلات آسان کر دیتی ہے اور ہر تکلیف ہر پریشانی سے باہر نکال دیتی ہے۔

جب دنیا والے طعنے دیتے ہیں دل دکھاتے ہیں اسوقت وہ رب کی ذات انسان کے دل میں حوصلہ دیتا ہے اسے گرتے ہوئے سنبھال لیتا ہے۔ اسکی کرم نوازی اپنے بندوں کو اپنے سائے میں پناہ دیتی ہے اور اسکی مدد کرتی ہے۔

ہمارا پیارا دین اسلام یہ تعلیم دیتا ہے کہ کسی کی بھی بیمار کی عیادت کو جائے یا کسی کے غم میں شریک ہو اسکی عیادت کرے تو وہاں مزاج پرسی کرنے کے بعد زیادہ دیر وہاں نہ رکے ہاں اگر میزبان کو برا لگ رہا ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں لیکن زیادہ دیر رکنا مناسب نہیں بلکہ اگلے کے دل میں ہمت حوصلہ دیکر اور اسے دعائے خیر کرکے واپسی آنا بہتر ہے۔

میں اپنے موضوع کو اختتام کی طرف لاتے ہوئے ایک بات کہنا چاہوں گی کہ کوئی بھی شخص جو کسی بھی مصیبت میں مبتلا ہو یا پریشانی اسکے لئے دعا کرنا مومن کا فرض ہے اور اسکی مدد کرنا ہم مسلمانوں کا اولین عمل ہونا چاہیے

اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمیں مصیبت زدہ شخص کی مدد کرنے، پریشانی دور کرنے والوں کی مدد کرنے اور ایسا بنا دے جسکے نیک کام کرنے پر وہ راضی ہوتا ہے ان کے صدقے ہمیں بھی نیک بنا دے۔ آمین