مصیبت کے معنی سخت تکلیف، کڑی مشکل، دکھ، رنج،صدمہ اور حادثہ کے ہیں۔مصیبت میں مبتلا ہونے کے بہت سے اسباب ہیں۔ اللہ پاک قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے: وَ مَاۤ اَصَابَكُمْ مِّنْ مُّصِیْبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ اَیْدِیْكُمْ وَ یَعْفُوْا عَنْ كَثِیْرٍؕ(۳۰) (پ 25، الشوریٰ:30) ترجمہ کنز العرفان: اور تمہیں جو مصیبت پہنچی وہ تمہارے ہاتھوں کے کمائے ہوئے اعمال کی وجہ سے ہے اور بہت کچھ تو (اللہ) معاف فرما دیتا ہے۔

اسلام دین رحمت و شفقت ہے۔ شریعت مطہرہ نے مسلمانوں کو حکم دیا ہے کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ نرمی، ہمدردی اور خیرخواہی کا معاملہ کریں، خصوصاً اس وقت جب کوئی شخص مصیبت، غم یا آزمائش میں مبتلا ہو۔ ایسے موقع پر کسی مصیبت زدہ کو پریشان کرنا، دل دکھانا، طعنہ دینا یا اس کی مجبوری کا مذاق اڑانا سخت ناجائز اور گناہ ہے۔

قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: وَ تَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَ التَّقْوٰى ۪-وَ لَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ۪- (پ 6، المائدۃ: 2) اس آیت مبارکہ سے معلوم ہوا کہ نیکی اور تقویٰ میں مدد کرنا لازم ہے اور گناہ و زیادتی سے بچنا فرض۔ مصیبت زدہ کو پریشان کرنا گناہ اور زیادتی میں داخل ہے، کیونکہ یہ اس کے دکھ میں اضافہ ہے، نہ کہ کمی۔

نبی کریم ﷺ نے فرمایا: من نفّس عن مؤمنٍ كربةً من كرب الدّنيا نفّس اللّه عنه كربةً من كرب يوم القيامة (مسلم، ص 1049، حدیث: 2580) جب کسی مومن کی پریشانی دور کرنے پر اتنا بڑا اجر ہے تو اس کی پریشانی بڑھانا یقیناً سخت وعید کا سبب ہوگا۔

مسلمان کا دل دکھانا حرام ہے، اور خصوصاً اس حال میں جب وہ مصیبت میں ہو، کیونکہ مومن کا دل اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں بڑی حرمت رکھتا ہے۔

ایذائے مسلم (مسلمان کو اذیت دینا) حرام ہے، چاہے وہ اذیت زبان سے ہو، عمل سے ہو یا رویّے سے، اور غم کے وقت یہ گناہ اور زیادہ شدید ہو جاتا ہے۔

اسی طرح کسی مصیبت زدہ کو طعنہ دینا، اس کی آزمائش کو اس کے گناہوں سے جوڑ کر تذلیل کرنا، یا اسے حقیر سمجھنا قساوت قلب کی علامت ہے اور ایسا شخص اللہ کی رحمت سے دور ہو جاتا ہے۔

مسلمان کا دل دکھانا اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا سبب ہے، کیونکہ مومن کا دل اللہ کے نزدیک محترم ہے۔

مصیبت زدہ آدمی کو صبر کی تلقین کرنا تعزیت کہلاتا ہے اور یہ مسنون(یعنی سنّت)ہے۔ کوئی بھی مصیبت پہنچے اس پر صبر کی تلقین تعزیت کے زمرے میں آئے گی۔ پہلے کے مسلمان دوسروں کے غم کو اپنا غم سمجھتے تھے۔ اب یہ تاثر ختم ہوتا جارہا ہے اور تعزیت محض رسم کی حیثیت اختیار کرتی جارہی ہے۔

حضرت اعمش رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ہم جنازوں میں شریک ہوتے تھے مگر مجمع میں ہر شخص کے رنج و غم کی تصویر نظر آنے کے سبب ہمیں سمجھ نہیں آتا تھا کہ کس سے تعزیت کریں؟ (احیاء العلوم، 5/235)

فرامینِ مصطفےٰ ﷺ: جو کسی مصیبت زدہ کی تعزیت کرے، اس کے لئے اس مصیبت زدہ جتنا ثواب ہے۔ (ترمذی، 2/338، حديث:1075)

جو کسی مصیبت زدہ سے تعزیت کرے گا اللہ پاک اسے جنّت کے جوڑوں میں سے دو ایسے جوڑے پہنائے گا جن کی قیمت دنیا بھی نہیں ہوسکتی۔ (معجم اوسط، 6/429، حدیث: 9292)

امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اپنے بھائی کے غم میں شریک ہو اور اسے اذیت نہ دے۔