انسانی معاشرت میں ہمدردی اور باہمی تعاون وہ ستون ہیں جن پر ایک پرامن اور متوازن معاشرے کی بنیاد قائم ہوتی ہے۔ اسلام جو کہ ایک مکمل ضابطہ حیات ہے، اپنے ماننے والوں کو نہ صرف انفرادی عبادات کی تلقین کرتا ہے بلکہ سماجی معاملات اور حقوق العباد کی ادائیگی پر بھی غیر معمولی زور دیتا ہے۔ ان سماجی فرائض میں سب سے حساس اور اہم پہلو مصیبت زدہ کو تکلیف نہ دینا اور اسے کسی بھی قسم کی پریشانی سے بچانا ہے۔

جب کوئی انسان کسی آزمائش، بیماری، نقصان یا صدمے سے گزر رہا ہوتا ہے، تو وہ نفسیاتی اور جذباتی طور پر انتہائی نازک صورتحال میں ہوتا ہے۔ ایسے میں دین اسلام کی تعلیمات، قرآنی آیات اور احادیث مبارکہ کی روشنی میں یہ واضح ہوتا ہے کہ مصیبت زدہ کو پریشان کرنا نہ صرف اخلاقی پستی ہے بلکہ یہ ایک سنگین گناہ اور اللہ و رسول ﷺ کی ناراضگی کا باعث بھی ہے۔

سرکار دوعالم ﷺ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے سوال کیا: کیا تم جانتے ہو کہ مسلمان کون ہے؟ انہوں نے عرض کی: اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول ﷺ زیادہ جانتے ہیں۔ ارشاد فرمایا: مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے (دوسرے) مسلمان محفوظ رہیں۔ ارشاد فرمایا: تم جانتے ہو کہ مومن کون ہے؟ صحابہ کرام نے عرض کی: اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں۔ ارشاد فرمایا: مومن وہ ہے جس سے ایمان والے اپنی جانیں اور اموال محفوظ سمجھیں۔ (مسند امام احمد،2/654، حدیث:6942)

اسلامی نظریہ حیات میں مصیبت محض ایک حادثہ نہیں بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بندے کی آزمائش اور امتحان کا ایک ذریعہ ہے۔ قرآن کریم نے واضح طور پر بیان فرمایا ہے کہ انسان کو مختلف حالات کے ذریعے آزمایا جائے گا تاکہ اس کے صبر اور ایمان کی پختگی ظاہر ہو سکے۔

دوسروں کو تکلیف دینا،ناجائز و حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔

مشہور تابعی مفسر مجاہد رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: جہنمیوں پرخارش مسلط کردی جائے گی تو وہ اپنے جسم کو کھجلائیں گے حتی کہ ان میں سے ایک کی (کھال اور گوشت اترنے سے) ہڈی ظاہر ہو جائے گی۔ اسے پکار کر کہا جائے گا: اے فلاں! کیا تمہیں اس سے تکلیف ہوتی ہے؟ وہ کہے گا: ہاں۔ پکارنے والا کہے گا: تو مسلمانوں کو تکلیف پہنچایا کرتا تھا یہ اس کی سزا ہے۔ (احیاء العلوم،2/242)

وہ اہم نکات درج ذیل ہیں جن کا خیال رکھنا ہر مسلمان پر لازم ہے تاکہ وہ کسی مصیبت زدہ کے لیے اذیت کا باعث نہ بنے: شادی بیاہ یا دیگر تقریبات میں رات گئے شور شرابا نہ کریں تاکہ کسی بیمار یا غمزدہ کی نیند خراب نہ ہو۔

آتش بازی اور پٹاخوں سے گریز کریں کیونکہ اس سے خوف و ہراس پھیلتا ہے۔

ہسپتالوں یا مریضوں کے گھروں کے پاس ہارن نہ بجائیں۔

مریض کی عیادت کے وقت لمبی گفتگو نہ کریں بلکہ مختصر قیام کریں۔

مریض کے سامنے اس کی بیماری کی ہولناکی کا ذکر نہ کریں۔

کسی کے معذور بچے یا فرد کا مذاق نہ اڑائیں۔

مالی نقصان ہونے والے کو تمہاری اپنی غلطی تھی کہہ کر مزید دکھی نہ کریں۔

کسی کی فوتگی پر پرانی باتوں یا لڑائی جھگڑوں کا تذکرہ نہ کریں۔

ہسپتال میں داخل مریض کے لواحقین کی اخلاقی اور مالی مدد کریں۔

راستہ چلتے ہوئے کسی پریشان حال شخص کو راستہ دیں۔

حدیث مبارک میں ارشاد فرمایا: تم لوگوں کو (اپنے)شر سے محفوظ رکھو، یہ ایک صدقہ ہے جو تم اپنے نفس پر کرو گے۔ (بخاری،2/150، حدیث:2518)