مصیبت
زدہ کو پریشان مت کیجیے از بنت رمضان احمد،فیضان عائشہ صدیقہ نندپور سیالکوٹ
اس حقیقت سے
کوئی انسان انکار نہیں کرسکتا کہ دنیا میں ہر امیر غریب،نیک و بد کو قانون قدرت کے
تحت دکھوں،غموں اور پریشانیوں سے کسی نہ کسی شکل میں ضرور واسطہ پڑتا ہے،اس کا سبب
یہ ہے کہ یہ دنیا دارالعمل اور امتحان گاہ ہے، انسان یہاں آزمائش کے لئے بھیجا گیا
ہے۔ اسے آزادی سے نیکی اور بدی کرنے کی قوت دی گئی ہے جسے بروئے کار لا کر وہ نیکی
کی صورت میں اجر و ثواب اور نافرمانی کی صورت میں عذاب و سزا کا مستحق ٹھہرتا ہے۔
اس
متعلق قرآنی آیت اوراسکی تفسیر: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا یَسْخَرْ قَوْمٌ
مِّنْ قَوْمٍ عَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنُوْا خَیْرًا مِّنْهُمْ وَ لَا نِسَآءٌ مِّنْ
نِّسَآءٍ عَسٰۤى اَنْ یَّكُنَّ خَیْرًا مِّنْهُنَّۚ-وَ لَا تَلْمِزُوْۤا اَنْفُسَكُمْ
وَ لَا تَنَابَزُوْا بِالْاَلْقَابِؕ-بِئْسَ الِاسْمُ الْفُسُوْقُ بَعْدَ الْاِیْمَانِۚ-وَ
مَنْ لَّمْ یَتُبْ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ(۱۱) (پ 26،
الحجرات: 11) ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو نہ مرد مردوں سے ہنسیں عجب نہیں کہ
وہ ان ہنسنے والوں سے بہتر ہوں اور نہ عورتیں عورتوں سے دور نہیں کہ وہ ان ہنسے
والیوں سے بہتر ہوںاور آپس میں طعنہ نہ کرو اور ایک دوسرے کے برے نام نہ رکھو کیا
ہی برا نام ہے مسلمان ہوکر فاسق کہلانا اور جو توبہ نہ کریں تو وہی ظالم ہیں۔
حضر ت ضحاک
رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: یہ آیت بنی تمیم کے ان افراد کے بارے میں نازل ہوئی جو
حضرت عمار،حضرت خباب،حضرت بلا ل،حضرت صہیب،حضرت سلمان اور حضرت سالم وغیرہ غریب
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی غربت دیکھ کر ان کا مذاق اڑایا کرتے تھے۔ ان کے بارے
میں یہ آیت نازل ہوئی اور فرمایا گیا کہ مرد مردوں سے نہ ہنسیں، یعنی مال دار
غریبوں کا، بلند نسب والے دوسرے نسب والوں کا،تندرست اپاہج کا اور آنکھ والے اس کا
مذاق نہ اڑائیں جس کی آنکھ میں عیب ہو،ہوسکتا ہے کہ وہ ان ہنسنے والوں سے صدق اور
اخلاص میں بہتر ہوں۔ (خازن، 4/ 169)
احادیث
مبارکہ:
رسول اللہ ﷺ نے
فرمایا: ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے، پس اس پر ظلم نہ کرے اور نہ ظلم
ہونے دے۔ جو شخص اپنے بھائی کی ضرورت پوری کرے، اللہ تعالیٰ اس کی ضرورت پوری کرے
گا۔ جو شخص کسی مسلمان کی ایک مصیبت کو دور کرے، اللہ تعالیٰ اس کی قیامت کی
مصیبتوں میں سے ایک بڑی مصیبت کو دور فرمائے گا۔ اور جو شخص کسی مسلمان کے عیب کو
چھپائے اللہ تعالیٰ قیامت میں اس کے عیب چھپائے گا۔ (بخاری، 2/126، حدیث: 2442)
سنن ترمذی کی
حدیث ہے: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اپنے بھائی کے ساتھ شماتت اعدا نہ کرو، ہو سکتا
ہے کہ اللہ تعالیٰ اس پر رحم کرے اور تمہیں آزمائش میں ڈال دے۔ (ترمذی، 4/227، حدیث: 2514)
کسی کو مصیبت
میں دیکھ کر اسے مزید پریشان کرنا بد اخلاقی، بے رحمی اور اسلامی تعلیمات کے منافی
ہے، جس کی مذمت کی جاتی ہے، اور اس کے بجائے شریعت میں مصیبت زدہ کو دیکھ کر دعا
پڑھنے اور ہمدردی کا اظہار کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔
جب کوئی شخص
مشکل میں ہو تو اس کے دکھ درد کو سمجھیں، اسے مزید تکلیف دینے سے بچیں، بلکہ
ہمدردی، حوصلے اور دعاؤں سے اس کا سہارا بنیں، کیونکہ مصیبت میں صبر اہم ہے اور اس
وقت ہمیں اپنے اعمال پر غور کر کے اللہ کی طرف رجوع کرنا چاہیے، نہ کہ مصیبت میں
پھنسے شخص پر طعن و تشنیع کریں یا اسے مزید اذیت دیں۔
انسان کی
زندگی آزمائشوں کا مجموعہ ہے، جس میں خوشیاں اور غم، آسانی اور تنگی ساتھ ساتھ
چلتی ہیں. جب کوئی شخص مصیبت میں گھر جاتا ہے، تو وہ پہلے ہی ذہنی، جذباتی اور بعض
اوقات جسمانی طور پر کمزور ہوتا ہے، ایسے وقت میں ہمارا فرض بنتا ہے کہ ہم اس کی
مدد کریں، اسے سہارا دیں، اور اسے مزید پریشان کرنے سے گریز کریں۔
کیوں
نہیں پریشان کرنا چاہیے؟
انسانیت
کا تقاضا: ہر
انسان کو مشکل وقت میں ہمدردی اور تعاون کی ضرورت ہوتی ہے.
دینی
فریضہ: اسلام
ہمیں صبر کرنے اور مصیبت زدوں سے ہمدردی کرنے کی تلقین کرتا ہے۔ اللہ پاک خود
فرماتا ہے کہ مصیبتیں تمہارے اعمال کی وجہ سے آتی ہیں، اور ہم سے بہت کچھ معاف بھی
کرتا ہے۔
صبر
کی اہمیت: مصیبت
زدہ شخص کو صبر کی تلقین کرنی چاہیے، نہ کہ اس پر مزید بوجھ ڈالنا چاہیے. صبر کرنے
والوں کے لیے اللہ نے خوشخبری دی ہے۔
کیا
کرنا چاہیے؟
ہمدردی
اور دعا: اس
کا ہاتھ تھامیں، اسے تسلی دیں، اور اس کے لیے دعا کریں کہ اللہ اسے اس مشکل سے
نکالے۔
مدد
پیش کریں: اگر
ممکن ہو تو اس کی عملی مدد کریں، چاہے وہ مالی ہو یا کوئی اور تعاون۔
صبر
کی تلقین: اسے
یاد دلائیں کہ یہ وقت بھی گزر جائے گا اور اللہ پر بھروسہ رکھے۔
ذمہ
داری یاد دلائیں: اسے
یہ احساس دلائیں کہ جب مصیبت آئے تو انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھ
کر اللہ کی طرف رجوع کرنا ہے۔
کیا
نہیں کرنا چاہیے؟
طنز
اور طعن: اس
کے حالات کا مذاق نہ اڑائیں اور طعنہ نہ دیں۔
ذمہ
دار ٹھہرانا: اسے
اس کی مصیبت کا براہ راست ذمہ دار نہ ٹھہرائیں، بلکہ اس کے ساتھ کھڑے ہوں۔
دکھ
میں اضافہ نہ کریں: کوئی ایسا کام نہ کریں جس سے اس کا دکھ اور بڑھ
جائے۔
یاد رکھیں ہر
شخص کی زندگی میں اتار چڑھاؤ آتے ہیں، اور آج جو مصیبت میں ہے، کل شاید ہمیں خود
ضرورت پڑ جائے، اس لیے ہمیں ہمیشہ دوسروں کے ساتھ ایسا ہی سلوک کرنا چاہیے جیسا ہم
اپنے لیے چاہتے ہیں۔
Dawateislami