اسلام دین
رحمت ہے۔ یہ صرف نماز، روزہ اور عبادت کا نام نہیں، بلکہ بندوں کے ساتھ حسن سلوک،
نرمی، ہمدردی اور دلجوئی کا درس بھی دیتا ہے۔ ایک اچھے مسلمان کی خوبی یہ ہے کہ وہ
دوسروں کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھتا اور ایسے شخص کے لیے سہارا بنتا ہے جو مصیبت اور
مشکل میں گرفتار ہو۔ کسی غم زدہ شخص کی غمگساری کرنا بے حد اجر و ثواب کا باعث ہے
کہ
حضرت جابربن
عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی پاکﷺنے ارشادفرمایا: جو کسی غمزدہ شخص سے غمخواری کرے گا اللہ اسے
تقویٰ کا لباس پہنائے گا اور روحو ں کے درمیان اس کی روح پر رحمت فرمائے گا اور جو
کسی مصیبت زدہ سے غمخواری کرےگا اللہ اسے جنت کے جوڑوں میں سے دوایسے جوڑے عطا
کرےگا جن کی قیمت دنیا بھی نہیں ہو سکتی۔ (1)
اس کے برعکس
کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو دوسروں کی مصیبت میں انکی مدد کرنے کی بجائے انہیں مزید
ستاتے ہیں جیسے اس کے موجودہ حالات پر طنز کرنا، اسے اپنے حالات کا قصور وار ٹھہرا
کر نیچا دکھاتے رہنا، طرح طرح کے سوالات کر کے شرمندہ کرنا اور طرح طرح کے سخت
جملے استعمال کر کے اسے تکلیف دیتے ہیں یاد رکھئے کہ کسی مسلمان کو تکلیف دینے کی
سخت وعيدات وارد ہوئی ہیں چنانچہ
سیّدعالمﷺ
فرماتے ہیں: جس نے مسلمان کو تکلیف دی اس نے مجھے تکلیف دی اور جس نے مجھے تکلیف
دی اس نے اللہ تعالیٰ کو تکلیف دی۔ (2) یعنی جس نے اللہ تعالیٰ کو تکلیف دی بالآخر
اللہ تعالیٰ اسے عذاب میں گرفتار فرمائے گا۔
یاد رکھئے
ایسا شخص جو پہلے ہی دکھ، بیماری، قرض، غربت، صدمے یا بے بسی سے ٹوٹا ہوا ہو اسکو
مزید تکلیف دینے کی بجائے اللہ کی رضا اور احترام مسلم کی خاطر اسکو تسلی دیں اور
جہاں تک ممکن ہو اسکی مدد کریں کیونکہ
دوجہاں کے
تاجور ﷺ کا فرمان عالیشان ہے: مسلمان
مسلمان کا بھائی ہے، نہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ ہی اسے بے یارومدد گار چھوڑتاہے۔(3)
حضرت ابراہیم
بن ادہم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: جو شخص اپنے مال، کھانے اور پانی کے
ذریعےلوگوں کے ساتھ غمخواری کرنے کی قدرت نہ رکھتا ہوتو اسے چاہئے کہ وہ لوگوں کی
خندہ پیشانی اور اچھے اخلاق کے ذریعے غمخواری کرے۔(4)
اگر بالفرض آپ
اسکی مدد نہ کر سکیں،اسے دلاسہ نہ دے سکیں تو کم از کم اسکی دل آزاری بھی نہ کریں
کہ حدیث مبارکہ میں ہے: کامل مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھوں سے دوسرے مسلمان
محفوظ رہیں۔ (5)
یاد رکھئے یہ
دنیا امتحان گاہ ہے، ہر انسان اپنی اپنی آزمائش سے گزر رہا ہے، کوئی بھی خوشی یا
کوئی بھی غم سدا نہیں رہتا۔ آج جو مصیبت دوسرے پر آئی ہے ہوسکتا ہے کل یہی مصیبت
ہم پر بھی آجائے۔ لہٰذا انسانیت کے تقاضے کے مطابق دوسروں کی تکلیف کو محسوس کریں
اور کسی غم میں ڈوبے ہوئے دل کو مزید دکھ دینے کی بجائے اس مصیبت زدہ کے لیے آسانی
پیدا کریں، اس کے دکھ بانٹیں اور اسے امید دلائیں کہ جلد یہ آزمائش دور ہوجائے گی
یہی بہترین عمل ہے اور یہی دین اسلام کی تعلیمات ہیں کہ نبی کریم علیہ السلام نے
فرمایا:
لوگوں میں سے بہتر
وہ ہے جو لوگوں کو نفع پہنچائے۔ (6)
اللہ کریم
ہمیں دوسروں کے دکھ درد کا احساس کرنے کی توفیق عطا فرمائے
حوالہ
جات:
(1)معجم اوسط،
6/ 429، حدیث:9292
(2) معجم
اوسط، 2/ 386، حدیث: 3607
(3) مسلم، ص
1394، حدیث: 2580
(4)حلیۃ
الاولیاء، 7/446، رقم: 11158
(5) (بخاری، 1/16، حدیث: 11)
(6)کنز
العمال، 8/53، حدیث: 44147
Dawateislami