مصیبت
زدہ کو پریشان مت کیجیے از بنت محمد طفیل، جامعۃ المدینہ پاکپورہ سیالکوٹ
مصیبت
زدہ کون: جو
شخص کسی مشکل،دکھ، غم یا ازمائش سے گزر رہا ہو وہ مصیبت زدہ ہے۔
زندگی
آزمائشوں کا نام ہے اور ہر انسان زندگی میں دکھ، غم اور پریشانی کے مرحلے سے گزرتا
ہے۔ ایسے لمحوں میں کچھ الفاظ مرہم بن جاتے ہیں اور کچھ رویے زخموں کو گہرا کر
دیتے ہیں۔
ہمیں یہ بھی
یاد رکھنا چاہیے کہ مصیبت اللہ کی طرف سے آزمائش ہوتی ہے، سزا نہیں۔ کسی کی مشکل
پر طنز کرنا یا اسے کمزور سمجھنا دراصل اپنی اخلاقی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے۔ آج
اگر کوئی مصیبت میں ہے تو کل ہم بھی اسی مقام پر ہو سکتے ہیں۔ایسے وقت میں ہمیں
مصیبت زدہ کے ساتھ اچھا برتاؤ اور ممکنہ حد تک اس کی مدد کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
ہمارا دین
اسلام بھی ہمیں اسی بات کی تلقین کرتا ہے۔
کسی مسلمان کو
تکلیف پہنچانے پر وعیدیں اور اس کی مدد کرنے پر بشارتیں ہیں۔ قرآن پاک میں اللہ
پاک فرماتا ہے: وَ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ بِغَیْرِ مَا
اكْتَسَبُوْا فَقَدِ احْتَمَلُوْا بُهْتَانًا وَّ اِثْمًا مُّبِیْنًا۠(۵۸) (پ 22،
الاحزاب:58) ترجمہ کنز الایمان: اور جو ایمان والے مردوں اور عورتوں کو بے کئے
ستاتے ہیں انہوں نے بہتان اور کھلا گناہ اپنے سر لیا۔
اس کا شان
نزول اگرچہ خاص ہے لیکن اس کا حکم تمام مسلمان مردوں اور عورتوں کو عام ہے۔ آیت کا
خلاصہ یہ ہے کہ جولوگ ایمان والے مردوں اور عورتوں کے ساتھ ایسا سلوک کرتے ہیں جس
سے انہیں اذیّت پہنچے حالانکہ انہوں نے ایسا کچھ نہیں کیا ہوتا جس کی وجہ سے انہیں
اذیت دی جائے۔ توان لوگوں نے بہتان اور کھلے گناہ کا بوجھ اٹھالیا اور خود کو
بہتان کی سزا اور کھلے گناہ کے عذاب کا حق دار ٹھہرا لیا ہے۔
کسی مسلمان کو
ناحق تکلیف پہنچانا اس پر کس قدر وعید سنائی گئی ہے۔ تو جو کوئی پہلے ہی سے پریشان
ہو مصیبت میں مبتلا ہو اس کو مزید پریشان کرنا اس کی دل آزاری کرنا اس پر کتنا
گناہ ہوگا۔
ایسے وقت میں
ہمیں مصیبت زدہ کی مدد کرنی چاہیے۔یقینا اس پر ہم اجر و ثواب کے حقدار ہوں گے۔
حضرت ابو ذر
رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: تم لوگوں کو (اپنے) شر سے
محفوظ رکھو،یہ ایک صدقہ ہے جو تم اپنے نفس پر کرو گے۔ (بخاری، 2/150، حدیث: 2518)
مصیبت زدہ شخص
نہ صرف ظاہری مشکل میں مبتلا ہوتا ہے۔ بلکہ اندرونی طور پر بھی شدید اذیت سے گزر
رہا ہوتا ہے۔ ایسے وقت میں اس کی مدد کرنا ہمارے لیے بھی صدقہ ہے۔
بدقسمتی سے
ہمارا معاشرہ اس حقیقت کو نظر انداز کر دیتا ہے۔ ہم مصیبت میں مبتلا شخص سے بار
بار یہ پوچھتے ہیں: یہ سب کیسے ہوا؟ تم نے پہلے کیوں خیال نہ رکھا؟ میں نے تو پہلے
ہی کہا تھا۔ یہ جملے بظاہر عام لگتے ہیں مگر مصیبت زدہ دل پر خنجر کی مانند لگتے
ہیں۔
لہٰذا چاہیے کہ
ہم مصیبت زدہ کو پریشان کرنے کے بجائے اس کے لیے سہارا بنیں، اس کے غم کو محسوس
کریں۔ یہی دین اسلام کی اصل تعلیم ہے۔ اللہ پاک ہر مصیبت زدہ کو صبر، سکون اور
آسانی عطا فرمائے اور ہمیں دوسروں کے لیے باعث راحت بنائے۔آمین
Dawateislami