1۔تمہید:

دنیا میں بہت سی قومیں آئیں، اللہ پاک نے ان قوموں کی طرف انبیاء کو ہدایت کے لئے بھیجا، جو قوم اپنے نبی علیہ السلام پر ایمان لے آتی، وہ کامیاب ہو جاتی اور جو نافرمانی کرتی، وہ عذابِ الٰہی کی مستحق ٹھہرتی، انہی قوموں میں سے ایک قوم قومِ ثمود بھی ہے۔

2۔قومِ ثمود کس نبی علیہ السلام کی قوم تھی:

قومِ ثمود حضرت صالح علیہ السلام کی قوم تھی، جب حضرت صالح علیہ السلام کو قومِ ثمود کی طرف مبعوث فرما یا گیا تو آپ نے قومِ ثمود کو اللہ پاک کا فرمان سنا کر ایمان کی دعوت دی تو اس سرکش قوم نے آپ سے معجزہ طلب کیا۔

3۔ ثمود بھی عرب کا ہی ایک قبیلہ تھا، یہ لوگ ثمود بن رام بن سام بن نوح علیہ السلام کی اولاد میں سے تھے اور حجاز و شام کے درمیان سرزمینِ حِجر میں رہتے تھے۔

4۔حضرت صالح علیہ السلام کی اُونٹنی:

معجزہ یہ طلب کیا کہ آپ اس پہاڑ کی چٹان سے ایک گابھن اُونٹنی نکالئے، جو خُوب فربہ اور ہر قسم کے عیوب و نقائص سے پاک ہو، چنانچہ آپ نے چٹان کی طرف اشارہ فرمایا تو وہ فوراً ہی پھٹ گئی اور اس میں سے ایک نہایت ہی خوبصورت اور تندرست اور کو بلند قامت اُونٹنی نکل پڑی، جو گابھن تھی اور نکل کر اس نے ایک بچہ بھی جنا اور یہ اپنے بچے کے ساتھ میدانوں میں چرتی پھرتی رہی، اس بستی میں ایک ہی تالاب تھا، جس میں پہاڑوں کے چشموں سے پانی گر کر جمع ہوتا تھا۔

آپ نے فرمایا: اے لوگو! دیکھو یہ معجزہ کی اونٹنی ہے، ایک روز تمہارے تالاب کا سارا پانی یہ پی ڈالے گی اور ایک روز تم لوگ پینا"، قوم نے اس کو مان لیا، پھر آپ نے قومِ ثمود کے سامنے یہ تقریر فرمائی:

ترجمہ کنزالایمان:"اے میری قوم!اللہ کو پوجو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں، بے شک تمہارے پاس تمہارے ربّ کی طرف سے روشن دلیل آئی، یہ اللہ کا ناقہ ہے، تمہارے لئے نشانی تو اسے چھوڑ دو کہ اللہ کی زمین میں کھائے اور اسے برائی سے ہاتھ نہ لگاؤ کہ تمہیں دردناک عذاب آئے گا۔"( پ8،اعراف:73)

چنددن تو قومِ ثمود نے اس تکلیف کو برداشت کیا کہ ایک دن ان کو پانی نہیں ملتا تھا، کیونکہ اس دن تالاب کا سارا پانی اُونٹنی پی جاتی تھی، اس لئے ان لوگوں نے طے کر لیا کہ اس اونٹنی کو قتل کر ڈالیں۔

چنانچہ اس قوم میں قدار بن سالف جو سُرخ رنگ کا بھوری آنکھوں والا پستہ قد آدمی تھا اور ایک زنا کار عورت کا لڑکا تھا، ساری قوم کے حکم سے اُونٹنی کو قتل کرنے کے لئے تیار ہو گیا، حضرت صالح علیہ السلام منع فرماتے رہے، لیکن پھر بھی اس شخص نے بات نہ سُنی اور اُونٹنی کے چاروں پاؤں کاٹ ڈالے، پھر اس کو ذبح کر دیا اور اِنتہائی سرکشی کے ساتھ حضرت صالح علیہ السلام سے بے ادبانہ گفتگو کرنے لگا۔

چنانچہ خداوند قُدُّوس کا اِرشاد ہے:

ترجمہ کنزالایمان:"پس نا قہ کی کوچیں کاٹ دیں اور اپنے ربّ کے حکم سے سرکشی کی اور بولے اے صالح! ہم پر لے آؤ، جس کا تم وعدہ دے رہے ہو، اگر تم رسول ہو۔"(پ8، اعراف:77)

قومِ ثمود کی اس سرکشی پر عذابِ خداوندی کا ظہور ہوا، ایک زبردست چنگھاڑ کی خوفناک آواز آئی، پھر شدید زلزلہ آیا، جس سے پوری آبادی تباہ ہوگئی، تمام عمارتیں بھی تہس نہس ہوگئیں اور قومِ ثمود کا ایک ایک آدمی گھٹنوں کے بل اوندھا گر کر مر گیا۔

5۔اس قوم کی نافرمانیاں:

حضرت صالح علیہ السلام نے قومِ ثمود کو اللہ پاک کی نعمتیں یاد دلاکر بھی سمجھایا کہ اے قومِ ثمود!تم اس وقت کو یاد کرو، جب اللہ پاک نے تمہیں قومِ عاد کے بعد ان کا جانشین بنایا، قومِ عاد کو ان کے گناہوں کے سبب ہلاک کرکے تمہیں ان کی جگہ بسایا، اللہ نے تمہیں زمین میں رہنے کو جگہ عطا کی، تمہارا حال یہ ہے کہ تم گرمی کے موسم میں آرام کرنے کے لئے ہموار زمین میں محلات بناتے ہو اور سردی کے موسم میں پہاڑوں کو تراش کر مکانات بناتے ہو، لہذا تم اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو اور نافرمانی نہ کرو، لیکن یہ قوم کفر پر قائم رہی، چند لوگ اُونٹنی والا معجزہ دیکھ کر ایمان لے آئے اور باقی لوگ اپنے وعدے سے پھر گئے۔

آپ علیہ السلام کی قوم میں سے ایک شخص نے کہا: اے صالح!اگر تم رسول ہو تو ہم پر وہ عذاب لے آؤ، جس کی وعیدیں سناتے رہتے ہو۔"

انہوں نے بدھ کے دن جب اونٹنی کی کوچیں کاٹیں تو حضرت صالح علیہ السلام نے ان سے فرمایا: کہ تم تین دن بعد ہلاک ہوجاؤگے، پہلے دن تمہارے چہرے زرد، دوسرے دن سُرخ اور تیسرے دن سیاہ ہوجائیں گے"، چنانچہ ایسا ہی ہوا، وہ لوگ اتوار کے دن دوپہر کے وقت اولاً ہولناک آواز میں گرفتار ہوئے، جس سے ان کے جگر پھٹ گئے اور وہ ہلاک ہوگئے۔

عذاب کی زمین منحوس:

روایت ہے کہ جب جنگِ تبوک کے موقع پر سفر میں حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم قومِ ثمود کی بستیوں کے کھنڈرات کے پاس سے گزرے تو آپ نے فرمایا کہ خبردار! کوئی شخص اس گاؤں میں داخل نہ ہو اور نہ ہی اس گاؤں کے کنویں کا کوئی شخص پانی پئے اور تم لوگ اس عذاب کی جگہ سے خوفِ الہی میں ڈوب کر روتے ہوئے اور مُنہ ڈھانپے ہوئے جلدی سے گزر جاؤ۔

6۔درسِ ہدایت:

اس قوم کی ہلاکت سے ہمیں عبرت پکڑنی چاہئے اور اللہ پاک کی نافرمانی والے کام نہیں کرنے چاہئیں اور نبیِ کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی سنتوں پر عمل کرکے اپنی زندگی بسر کرنی چاہئے۔

اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمیں اپنا اور اپنے پیارے حبیب صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا مطیع و فرمانبردار بنا دے۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ والہ وسلم