ہمیں زندگی گزارنے کے لیے دوسروں
کی صحبت حاصل کرنا پڑتی ہے اور ان کے ساتھ مصاحبت رکھنا پڑتی ہے مگر اس ہم نشینی
اور مصاحبت کے چند حقوق ہیں کہ جن کو ادا کرنا لازمی ہے تاکہ بندہ اس مصاحبت کے ذریعے
گناہ کا مرتکب نہ ہو جائے چنانچہ آئیے ہم بھی مصاحبت و ہم نشینی کے چند حقوق پڑھتے
ہیں:
(1) مومن کو مصاحب بنانا : جیسا کہ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا
: مصاحبت نہ کرو مگر مومن کی۔ ( یعنی صرف مومن کامل کے پاس بیٹھا کرو۔)(سنن ابی
داود ‘‘ ،کتاب الادب، باب من یؤمران یجالس،الحدیث: 2832 ،ج 2،ص 321)
(2)فاجر سے مصاحبت نہ رکھنا : حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ
نے فرمایا: ایسی چیز میں نہ پڑو جو تمہارے لیے مفید نہ ہو اور دشمن سے الگ رہو اور
دوست سے بچتے رہو مگر جبکہ وہ امین ہو کہ امین کے برابر کوئی نہیں اور امین وہی ہے
جو اﷲ (عزوجل) سے ڈرے اور فاجر کے ساتھ نہ رہو کہ وہ تمہیں فجور سکھائے گا اور اس
کے سامنے بھید کی بات نہ کہو اور اپنے کام میں ان سے مشورہ لو جو اﷲ (عزوجل) سے
ڈرتے ہیں ۔ (شعب الایمان ‘‘ ، باب فی حفظ اللسان، فصل فی فضل السکوت عمالایعنیہ،الحدیث:
2995 ،ج 2 ، ص 257)
(3) اللہ کی رضا کے لیے محبت
کرنا : جیسا کہ حدیث قدسی میں ہے:
اللہ تعالی ٰ قیامت کے دن فرمائے گا: کہاں ہیں جو میرے جلال کی وجہ سے آپس میں
محبت رکھتے تھے آج میں ان کو اپنے سایہ میں رکھوں گا، آج میرے سایہ کے سوا کوئی سایہ
نہیں ۔(صحیح مسلم ‘‘ ،کتاب البر والصلۃ ۔۔۔ إلخ،باب فضل الحب فی اللہ تعالٰی،الحدیث:
37 (2566) ،ص 1388)
(4) ضرورت کے وقت مال خرچ کرنا : اﷲ تعالی ارشاد فرماتا ہے: جو
لوگ میری وجہ سے آپس میں محبت رکھتے ہیں اور میری وجہ سے ایک دوسرے کے پاس بیٹھتے
ہیں اور آپس میں ملتے جلتے ہیں اور مال خرچ کرتے ہیں ، ان سے میری محبت واجب ہوگئی۔(الموطأ
للامام مالک،کتاب الشعر،باب ماجاء فی المتحابین فی اللہ ، الحدیث: 1828 ،ج 2 ،ص
238)
(5) حقارت سے نہ دیکھنا : جیسا کہ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا: ایسے کے ساتھ نہ رہو جو
تمہاری فضیلت کا قائل نہ ہو، جیسے تم اس کی فضیلت کے قائل ہو۔ ( یعنی جو تمہیں نظر
حقارت سے دیکھتا ہو اس کے ساتھ نہ رہو یا یہ کہ وہ اپنا حق تمہارے ذمہ جانتا ہو
اور تمہارے حق کا قائل نہ ہو۔) (حلیۃ الاولیاء ، رقم: 12335 ،ج 10 ، ص 22)
اللہ پاک ہمیں ان حقوق کو ادا
کرنے اور انہیں دوسروں تک پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
Dawateislami