پیارے اسلامی بھائیو! ہمارا دین اسلام بڑا پیارا دین ہے جو ہمیں ہر طرح کی رہنمائی عطا کرتا ہے ہر چیز کا کوئی نہ کوئی حق ہوتا ہے اسی طرح صحبت و ہم نشینی کے حقوق کی بھی دین اسلام کے اندر بہت زیادہ اہمیت ہے یہاں تک کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ انسان اپنے دوست کے طریقہ پر ہوتا ہے تو ہر ایک سوچ لے کہ کس سے محبت کرتا ہے۔(مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:6 ،حدیث نمبر:5019 )

تو آئیے میں آپ کے سامنے صحبت و ہم نشینی کے چند حقوق ذکر کرتا ہوں :

(1) ذکر کرنے والوں کی مجلس : حضرت ابو رزین رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ ان سے نبی علیہ السلام نے ارشاد فرمایا کہ کیا میں تمہیں اس چیز کی اصل پر رہبری نہ کروں جس سے تم دنیا و آخرت کی بھلائی پالو ، تم ذکر کرنے والوں کی مجلس اختیار کرو ۔ (شعب الایمان باب فی مقاربہ الحدیث 9024 ج 6 صفحہ 492)

(2)راز داری کرنا: نبی کریم ﷺ نے فرمایا:دو شخصوں کا آپس میں بیٹھنا امانت ہے ان میں سے کسی کےلئے حلال نہیں کہ اپنے ساتھی کی ایسی بات (لوگوں کے سامنے) ظاہر کرے جس کا ظاہر ہونا اسے پسند نہ ہو ۔ (الزہد لابن المبارک، باب ما جاء فی الشح، ص 240 ، حدیث 4880)

(3)سب سے اہم چیز: امام غزالی رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں: دوست کی محبت بڑھانے میں سب سے اہم یہ ہے کہ اس کی عدم موجودگی میں جب کوئی اس کی برائی بیان کرے یا صراحتًا یا اشارتًا اس کی عزت کے درپے ہوتو اس کا دفاع کیا جائے، اپنے دوست کی مدد و حمایت کے لئے کمر بستہ ہوجائے، اس بد گو کو خاموش کروایا جائے اور اس سے سخت کلام کیا جائے۔ ( احیاءالعلوم، 2/656، مکتبۃ المدینہ )

(5) در گزر کرنا: دوست جب آپس میں مل کر ایک معاشرے میں رہتے ہیں تو عموماً ان کے درمیان لغزشیں ہو جاتی ہیں لہٰذا یہ دوستوں کے حقوق میں سے ہے کہ ان لغزشوں کو درگزر کیا جائے اور معاف کر دیا جائے ۔