مصاحبت اور ہم نشینی انسانی زندگی کا ایک اہم حصہ ہے اور اس کی اہمیت کو قرآن و سنت میں بڑی وضاحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ انسان فطری طور پر معاشرتی مخلوق ہے، جو دوسروں کے ساتھ تعلقات اور تعلقات کی ضرورت محسوس کرتا ہے۔ اسی لیے اسلام میں معاشرتی روابط اور ہم نشینی کو بہت اہمیت دی گئی ہے۔ اس مضمون میں ہم قرآن و سنت کی روشنی میں مصاحبت و ہم نشینی کے حقوق اور ان کی اہمیت پر روشنی ڈالیں گے۔

(1) قرآن کریم سے مصاحبت و ہمنشینی کے حقوق

قرآن میں دوستوں اور ساتھیوں کے ساتھ سلوک اور ہم نشینی کی اہمیت بھی واضح کی گئی ہے: اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَةٌ ترجمۂ کنز الایمان: مسلمان مسلمان بھائی ہیں ۔(پ26، الحجرات: 10)

یہ آیت اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ مسلمانوں کے درمیان محبت، ایثار، اور تعاون کا رشتہ ہونا چاہیے۔

(2) مصاحبت و ہم نشینی کے حقوق

اسلام میں مصاحبت و ہم نشینی کے کچھ اہم حقوق درج ذیل ہیں:

(۱) حسن سلوک: اسلام میں ہم نشینی کا اولین حق حسن سلوک ہے۔ چاہے آپ کا تعلق اپنے اہل خانہ، دوستوں یا کسی بھی دوسرے فرد سے ہو، آپ کو ان کے ساتھ حسن سلوک کرنا ہے۔ یہ بات قرآن اور حدیث دونوں میں آئی ہے۔

(۲) ایک دوسرے کی مدد کرنا : دوسروں کے ساتھ مدد کرنا اور ان کے دکھ درد میں شریک ہونا بھی اسلام میں مصاحبت کا ایک اہم حق ہے۔

(۳) عیب پوشی اور معافی: ہم نشینی میں دوسروں کے عیبوں کو چھپانا اور معاف کرنا بہت ضروری ہے۔

(۴) حقوق کی پاسداری: ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھنا اور ان کی پاسداری کرنا بھی اسلام میں ہم نشینی کا اہم جز ہے۔ اس میں مالی حقوق، جسمانی حقوق اور اخلاقی حقوق شامل ہیں۔

(۵) صبر و تحمل: مصاحبت میں صبر اور تحمل کا مظاہرہ کرنا بھی ضروری ہے۔ زندگی کے مختلف مراحل میں ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ صبر سے پیش آنا پڑتا ہے، خصوصاً جب کسی کے ساتھ اختلافات یا مشکلات پیش آئیں ۔

(۶) معاشرتی ہم آہنگی اور برکت: مصاحبت و ہم نشینی کا مقصد صرف فرد کی فلاح نہیں، بلکہ معاشرتی ہم آہنگی بھی ہے۔ جب افرد ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھتے ہیں اور اپنے روابط میں حسن سلوک اختیار کرتے ہیں، تو معاشرہ بھی امن اور سکون کا گہوارہ بنتا ہے ۔

اسلام میں مصاحبت و ہم نشینی کو بہت زیادہ اہمیت دی گئی ہے، اور اس کے حقوق کی پاسداری ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے۔ قرآن و سنت کی روشنی میں ہمیں سکھایا گیا ہے کہ ہم ایک دوسرے کے ساتھ حسن سلوک کریں، ایک دوسرے کی مدد کریں، حقوق کا خیال رکھیں، اور عیب پوشی کی کوشش کریں۔ جب ہم ان اصولوں کو اپنی زندگی میں اپنائیں گے تو نہ صرف ہماری ذاتی زندگی بہتر ہوگی، بلکہ پورا معاشرہ بھی امن و سکون کا گہوارہ بنے گا۔ان شاءاللہ

اللہ پاک ہمیں ان حقوق کی ادائیگی کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین