اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے، جو انسان کو زندگی کے ہر شعبے میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ اس دینِ رحمت نے جہاں حقوقُ اللہ کی تاکید فرمائی، وہیں حقوقُ العباد کی ادائیگی کو بھی کامیاب مؤمن کی علامت قرار دیا۔ ان ہی حقوق میں سے ایک اہم مصاحبت و ہم نشینی یعنی صحبت کے آداب اور حقوق ہیں ، جس کا تعلق انسان کی روز مرّہ زندگی، اخلاق، تعلقات، اور معاشرتی حسن سلوک سے ہے۔

صحبت یا مجلس محض ایک بیٹھک نہیں بلکہ دلوں کے جُڑنے اور کردار سازی کا ذریعہ ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی تعلیمات میں نیک صحبت اختیار کرنے اور بُری صحبت سے بچنے کے واضح احکامات موجود ہیں۔ صحبت کے ذریعے انسان نیکیوں کی طرف بھی بڑھتا ہے اور خدانخواستہ گمراہیوں میں بھی جا سکتا ہے۔ اس لیے صحبت کے حقوق، آداب، اور اثرات کو سمجھنا، ہر مسلمان کے لیے نہایت ضروری ہے۔

(1) اللہ پاک کے لئے دوستی: تاجدار کائنات ﷺ نے ارشاد فرمایا: بلا شبہ جنت میں یاقوت کے ستون ہیں جن پر زبرجد کے بالا خانے ہیں ان کے دروازے کھلے ہوئے ہیں وہ ایسے چمکتے ہیں جیسے بہت روشن ستارہ چمکتا ہے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کیا: یا رسول اللہ ﷺ ان بالا خانوں میں کون خوش نصیب رہیں گے ؟ ارشاد فرمایا: جو اللہ پاک ہی کے واسطے آپس میں بیٹھتے ہیں اور جو اللہ پاک ہی کے واسطے آپس میں ملاقات کرتے ہیں ۔(شعب الایمان للبیہقی ، جلد 6 ، حدیث نمبر 9002 صفحہ 487)

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسولِ خدا ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ پاک قیامت کے دن فرمائے گا کہ کہاں ہیں وہ لوگ جو میرے جلال کی وجہ سے آپس میں محبت رکھتے تھے ، آج میں انہیں اپنے سائے ( یعنی سایہ رحمت) میں جگہ دوں گا ، جب کے میرے سائے کے سوا آج کوئی سایہ نہیں ہے ۔(صحیح مسلم، باب فی فضل الحب فی اللہ ، حدیث نمبر 2566 ، صفحہ 1377)

(2) بد مذہبوں کی صحبت سے بچنا: انسان اپنے ہم نشین کی عادات ، اخلاق اور عقائد سے ضرور متاثر ہوتا ہے، اسی لئے مسلمانوں کو بد مذہبوں کی صحبت سے منع فرمایا گیا ہے ، جس کا رات دن کا مشغلہ اسلام ، پیغمبر اسلام اور قرآن کریم پر طعن و تشنیع کرنا ہے لہذا ایسے خطرناک اور بھیانک قسم کے قبیح ناسور سے آلودہ مریضوں کی صحبت سے بچو ورنہ کہیں ایسا نہ ہو کہ تم بھی اس ناپاک مرض میں مبتلا ہو جاؤ ۔ سید الکونین خاتم النبیین ﷺ نے ارشاد فرمایا: بچ اس بات سے جو کان کو بری لگے۔(مسند امام احمد بن حنبل ، جلد 5 ، صفحہ 605 ، حدیث نمبر 16701)

اور بالخصوص دینی معلومات اور عقائد کے متعلق تو بری صحبت سے اجتناب انتہائی ضروری ہے ، چنانچہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: اَلْمَرْءُ عَلٰی دِیْنِ خَلِیلِہٖ فَلْیَنْظُرْ اَحَدُکُمْ مَنْ یُّخَالِلُ ترجمہ: آدمی اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے لہذا ضروری ہے کہ وہ دیکھے کس سے دوستی رکھتا ہے ۔(مسند امام احمد بن حنبل ، جلد 3 ، صفحہ 233 ، حدیث نمبر 7425)

حضرت محمد بن سیرین رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : إِنَّ هٰذَا العِلْمَ دِينٌ، فَانْظُرُوا عَمَّنْ تَأْخُذُونَ دِينَكُمْ ترجمہ: یعنی یہ علم دین ، ہے ، پس تم دیکھو کس سے اپنا دین حاصل کر رہے ہو ۔ (صحیح مسلم ، مقدمہ ، صفحہ 11)

پیارے اسلامی بھائیو! بری صحبت سے دین و دنیا تباہ و برباد ہو جاتے ہیں ، برے ماحول میں انسان کی عادات و اطوار بگڑ جاتے ہیں ، اللہ پاک کی نافرمانی زیادہ ہونے لگتی ہے ، رسول اللہ ﷺ کی پیاری پیاری سنتیں پامال ہونے لگتی ہیں ، آہستہ آہستہ انسان فسق و فجور کا مجسمہ بن جاتا ہے ۔ لہذا ہمیں چاہیے بد مذہبوں کی صحبت میں نہ بیٹھیں ۔

(3) عزت و احترام کرنا: صحبت و ہم نشینی کا اہم ترین حق عزت و اکرام ہے ، دوستوں کی صحبت میں دل آزاری یا تَحقیر کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی ، رسولِ اکرم و نورِ مجسم ﷺ کا ارشاد پاک ہے : لَیْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ یُوَقِّرْ کَبِیرَنَا وَ یَرْحَمْ صَغِیرَنَا ترجمہ: وہ ہم میں سے نہیں جو ہمارے بڑوں کی تعظیم اور چھوٹوں پر رحم نہ کرے۔ (مسند احمد، جلد 2، حدیث: 23488)

جب دوستی میں عزت و محبت ہو تو وہ باعثِ رحمت بن جاتی ہے ، کبھی کبھار مجلس میں مذاق اور طنز کے پردے میں عزتِ نفس مجروح کی جاتی ہے، جو کہ اخلاقاً اور شرعاً درست نہیں ۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری صحبتوں میں برکت ہو تو ہمیں ایک دوسرے کی عزت لازمًا کرنی ہوگی۔

(4) خوش اخلاقی و خندہ پیشانی سے ملنا: وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّی اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَبَسُّمُكَ فِي وَجْهِ أَخِيْكَ صَدَقَةٌ ترجمہ: حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسولِ ذیشان ﷺ نے ارشاد فرمایا : تیرا اپنے بھائی کے سامنے مسکرا دینا صدقہ ہے ۔ (مشکوٰۃ المصابیح ،جلد 3 ، حدیث نمبر: 1911)

معلوم ہوا خوشی کا مسکرانا جس سے سامنے والا سمجھے کہ میرے آنے سے اسے خوشی ہوئی اس سے وہ بھی خوش ہو جائے، تَمَسّخُر کا مسکرانا مراد نہیں جس سے آنے والے کو تکلیف ہو کہ یہ تو گناہ ہے۔

(5) راز داری اور خیانت سے بچنا:صحبت کے حقوق میں سے ایک یہ بھی ہے کہ جو باتیں مجلس میں ہوں، اُنہیں باہر افشا نہ کیا جائے، مگر یہ کہ وہ بات دین یا اصلاح کے لیے ضروری ہو۔ عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ الْمَجَالِسُ بِالْأَمَانَةِ، إِلَّا ثَلَاثَةَ مَجَالِسَ: مَجْلِسًا يُسْفَكُ فِيهِ دَمٌ حَرَامٌ، أَوْ يُسْتَحَلُّ فِيهِ فَرْجٌ حَرَامٌ، أَوْ يُسْتَحَلُّ فِيهِ مَالٌ بِغَيْرِ حَقٍّ

ترجمہ: حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مجالس امانت ہوتی ہیں، سوائے تین مجلسوں کے:(1) ایسی جس میں ناحق خون بہانے کا ارادہ ہو (2) یا ناجائز جنسی فعل جائز کیا جائے(3) یا کسی کے مال کو ناحق ہتھیایا جائے ۔(سننِ ابی داؤد، باب المجالس ، حدیث نمبر 4869)

مصاحبت و ہم نشینی کا معاملہ محض دنیاوی تعلقات کا نہیں بلکہ یہ ایک دینی و اُخروی ذمہ داری بھی ہے۔ جس طرح اچھے دوست انسان کو جنت کی راہ دکھاتے ہیں، ویسے ہی بُری صحبت جہنم کی طرف لے جا سکتی ہے۔ اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے تعلقات کی بنیاد تقویٰ، اخلاص، دین داری اور پر رکھیں۔ نہ صرف دوسروں کے حقوق کا خیال رکھیں بلکہ خود بھی ایسی صحبت اختیار کریں جو دین و دنیا میں کامیابی کا ذریعہ ہو۔

اللہ تعالیٰ ہمیں نیک صحبت نصیب فرمائے اور ہمیں ان حقوق کی ادائیگی کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین بجاہِ خاتم النبیین ﷺ