محمد یاسر عطاری (درجہ سابعہ جامعۃ المدینہ
گلزارِ حبیب سبزہ زار لاہور ،پاکستان)
مصاحبت اور ہم نشینی کے حقوق وہ
بنیادی اصول ہیں جو ایک خوشگوار اور باہمی احترام پر مبنی رشتے کی بنیاد فراہم
کرتے ہیں۔ یہ حقوق اس لیے اہم ہیں کہ انسان معاشرتی مخلوق ہے اور وہ تنہائی میں
زندگی نہیں گزار سکتا۔ اس لیے ہر شخص کو اپنے دوستوں، رشتہ داروں اور ساتھ کام
کرنے والوں کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔
ان حقوق کو سمجھنے اور ان پر
عمل کرنے سے نہ صرف باہمی تعلقات مضبوط ہوتے ہیں بلکہ معاشرے میں امن اور سکون بھی
قائم ہوتا ہے۔ یہ تعلقات ہر شخص کی اخلاقی، جذباتی اور سماجی ضروریات کو پورا کرتے
ہیں ۔ مصاحبت کے حقوق ہمیں یہ سکھاتے ہیں کہ ہمیں دوسروں کی عزت کرنی چاہیے، ان کی
باتوں کو توجہ سے سننا چاہیے اور مشکل وقت میں ان کا ساتھ دینا چاہیے۔
ان اصولوں کا مقصد یہ ہے کہ ہر
انسان دوسرے انسان کے ساتھ حسن سلوک کرے، کیونکہ یہ صرف ایک اخلاقی فریضہ نہیں
بلکہ ایک کامیاب معاشرتی زندگی کی ضمانت بھی ہے۔ مصاحبت و ہم نشینی کے حقوق کے
متعلق قرآن پاک کی ایک اہم آیت یہ ہے:جس میں اللہ تعالیٰ نے حقوق العباد کے بارے میں
بات کی ہے:
وَ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ لَا
تُشْرِكُوْا بِهٖ شَیْــٴًـا وَّ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا وَّ بِذِی
الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ الْجَارِ ذِی الْقُرْبٰى وَ
الْجَارِ الْجُنُبِ وَ الصَّاحِبِ بِالْجَنْۢبِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِۙ-وَ مَا
مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ مُخْتَالًا فَخُوْرًاۙ
(۳۶) ترجمۂ کنز العرفان: اور اللہ کی
عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ اور ماں باپ سے اچھا سلوک کرو اور
رشتہ داروں اور یتیموں اور محتاجوں اور قریب کے پڑوسی اور دور کے پڑوسی اورپاس بیٹھنے
والے ساتھی اور مسافر اور اپنے غلام لونڈیوں (کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔) بیشک اللہ ایسے
شخص کو پسند نہیں کرتا جو متکبر، فخرکرنے والا ہو۔(پ5، النسآء:36)
اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ
اور بندوں ،دونوں کے حقوق کی تعلیم دی گئی ہے۔
بندوں کے باہمی حقوق:
(1)والدین کے ساتھ احسان کرنا: ان کے ساتھ
احسان یہ ہے کہ والدین کا ادب اور اطاعت کرے، نافرمانی سے بچے، ہر وقت ان کی خدمت
کے لئے تیار رہے اور ان پر خرچ کرنے میں بقدرِ توفیق و استطاعت کمی نہ کرے۔
(2)رشتہ داروں سے حسنِ سلوک کرنا: ان سے حسن
سلوک یہ ہے کہ رشتہ داروں کے ساتھ صلۂ رحمی کرے اور قطع تعلقی سے بچے۔
(3،4)یتیموں اور محتاجوں سے حسنِ سلوک کرنا:
یتیم کے ساتھ حسنِ سلوک یہ ہے کہ ان کی پرورش کرے، ان کے ساتھ نرمی سے پیش آئے
اور ان کے سر پر شفقت سے ہاتھ پھیرے ۔ اور مسکین سے حسنِ سلوک یہ ہے کہ ان کی
امداد کرے اور انہیں خالی ہاتھ نہ لوٹائے ۔
(5)
ہمسائیوں سے حسنِ سلوک کرنا: قریب کے ہمسائے سے مراد وہ ہے جس کا گھر اپنے گھر سے
ملا ہوا ہوا ور دور کے ہمسائے سے مراد وہ ہے جو محلہ دار تو ہو مگر اس کا گھر اپنے
گھر سے ملا ہوا نہ ہو ۔
(6) پاس بیٹھنے والوں سے حسنِ سلوک کرنا: اس
سے مراد بیوی ہے یا وہ جو صحبت میں رہے جیسے رفیق ِسفر، ساتھ پڑھنے والایا مجلس و
مسجد میں برابر بیٹھے حتّٰی کہ لمحہ بھر کے لئے بھی جو پاس بیٹھے اس کے ساتھ بھی
حسنِ سلوک کا حکم ہے۔
(7) مسافر کے ساتھ حسنِ سلوک کرنا: اس میں
مہمان بھی داخل ہے۔
(8)لونڈی غلام کے ساتھ حسنِ سلوک کرنا: ان
سے حسنِ سلوک یہ ہے کہ انہیں اُن کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہ دے ، سخت کلامی نہ کرے اور کھانا کپڑا وغیرہ بقدرِ ضرورت دے۔
خلاصہ مصاحبت و ہم نشینی کے حقوق:
(1) باہمی احترام: ایک دوسرے کی عزت کرنا
اور ان کے خیالات، جذبات اور شخصیت کا احترام کرنا سب سے اہم ہے۔ کسی بھی رشتے کی
بنیاد اسی سے بنتی ہے۔
(2) خیر خواہی اور ہمدردی: اپنے دوست یا
ساتھی کی بھلائی چاہنا اور مشکل وقت میں اس کا ساتھ دینا۔ اس کی خوشی میں خوش ہونا
اور غم میں شریک ہونا ضروری ہے۔
(3) غلطیوں کو درگزر کرنا: انسان خطا کا
پتلا ہے۔ اپنے ساتھی کی چھوٹی موٹی غلطیوں کو معاف کرنا اور درگزر سے کام لینا
تعلقات کو مضبوط بناتا ہے۔
(4) راز داری: دوست کے راز کو امانت سمجھنا اور کسی بھی صورت میں اسے ظاہر نہ کرنا مصاحبت کا
بنیادی حق ہے۔
(5) حسن سلوک اور نرم گفتاری:
ہمیشہ نرمی سے پیش آنا اور سخت کلامی سے گریز کرنا چاہیے۔
(6) وعدہ: جو وعدہ کیا جائے اسے
پورا کرنا اور اپنی بات پر قائم رہنا اعتماد کی فضا پیدا کرتا ہے۔
(7) انصاف اور سچائی: دوستی اور
ہم نشینی میں ہمیشہ سچائی اور انصاف کا دامن تھامے رکھنا۔
(8) بے لوث محبت: اپنے دوست سے
کوئی ذاتی فائدہ حاصل کرنے کی بجائے صرف اللہ کی رضا کے لیے محبت کرنا۔
(9) اعتماد: ایک دوسرے پر
اعتماد کرنا اور اسے برقرار رکھنا۔
(10) ہمدردی: ایک دوسرے کی
مشکلات اور جذبات کو سمجھنا اور ہمدردی کرنا۔
(11) مواصلت: ایک دوسرے کے ساتھ
کھل کر بات کرنا اور اپنے جذبات اور خیالات کو شئیر کرنا۔
(12) وقت دینا: ایک دوسرے کے لیے
وقت دینا اور اسے اہمیت دینا۔
Dawateislami