انسان ایک سماجی مخلوق ہے جو معاشرے میں دوسروں کے ساتھ مل جل کر رہنے پر مجبور ہے ، زندگی کے بہت سے کام ایسے ہوتے ہیں جن میں لوگوں کا ساتھ ضروری ہوتا ہے۔ اس لیے انسان کو مختلف لوگوں کی صحبت میں رہنا پڑتا ہے۔ اگر انسان نیک اور اچھے لوگوں کے ساتھ بیٹھے، تو اُس کا دل صاف ہوتا ہے، اخلاق اچھے بنتے ہیں اور زندگی میں سکون آتا ہے۔ لیکن اگر وہ برے لوگوں کے ساتھ بیٹھے، تو وہ بھی بُری عادتیں سیکھ لیتا ہے۔ دینِ اسلام ہمیں نیک لوگوں کے ساتھ رہنے اور برے لوگوں کی صحبت سے بچنے کا حکم دیتا ہے کیونکہ اچھی صحبت انسان کو سنوارتی ہے، اور بری صحبت بگاڑ دیتی ہے۔

صحبت و ہم نشینی کو بہتر کرنے کے لیے ذیل میں اس کے متعلق چند حقوق و فرائض ذکر کیے جاتے ہیں:

(1) برائی سے بچانے والی مجلس : مصاحبت و ہم نشینی کا دوسرا حق یہ ہے انسان اپنے آپ کو برے دوستوں اور ان کی صحبت سے بچائے ورنہ اس کی شخصیت میں بگاڑ آسکتا ہے اور کل بروز قیامت سوائے پچھتاوے کے کچھ ہاتھ نہ آئے گا چنانچہ الله پاک قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے: یٰوَیْلَتٰى لَیْتَنِیْ لَمْ اَتَّخِذْ فُلَانًا خَلِیْلًا(۲۸) ترجمۂ کنز العرفان: ہائے میری بربادی! اے کاش کہ میں نے فلاں کو دوست نہ بنایا ہوتا۔(پ19، الفرقان: 28)

(2) حسنِ اخلاق : مصاحبت و ہم نشینی کا تیسرا اور اہم حق یہ کہ انسان اپنے دوستوں کے ساتھ اچھے اخلاق کے ساتھ پیش آئے کثیر احادیث مبارکہ میں حسن اخلاق اپنانے کی ترغیب دی گئی چنانچہ الله پاک کے آخری نبی محمد عربی ﷺ نے ارشاد فرمایا: أكملُ المؤمنين إيماناً أحسنُهم خُلُقاً ایمان والوں میں سب سے کامل ایمان والا وہ ہے جس کا اخلاق سب سے اچھا ہے۔ (جامع الترمذی ابواب الرضاع عن رسول اللہ ﷺ حدیث:1162)

(3) باہمی عزت و احترام : دوسروں کی عزت کرنا انسان کو دوسروں کی نظر میں با عزت بنا دیتا ہے، مشہور مقولہ ہے”عزت دو عزت لو“ بالخصوص وہ افراد جن کا انسان کے ساتھ تعلق ہے ان سے عزت و احترام کے ساتھ پیش آئے حدیث پاک میں پیارے آقا ﷺ نے ارشاد فرمایا:

ليس منَّا من لم يوقِّرْ كبيرَنا، ويرحمْ صغيرَنا، ويعرفْ لعالمِنا حقَّهُ وہ ہم میں سے نہیں جو بڑوں کا احترام نہ کرے، چھوٹوں پر رحم نہ کرے اور عالم کا حق نہ پہچانے۔ (سنن ابی داؤد باب اول کتاب الادب، حدیث 4943)

(4) بدگمانی و غیبت سے پاک مجلس : جب بھی کسی مجلس میں بیٹھیں تو اس صحبت کو ہر طرح کے گناہ مثلا بدگمانی،غیبت وغیرہ سے بچائیں، قرآن و حدیث میں ان سے بچنے کی تاکید فرمائی گئی ، بد گمانی کے بارے میں الله پاک قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اجْتَنِبُوْا كَثِیْرًا مِّنَ الظَّنِّ٘-اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ ترجمہ کنزالعرفان: اے ایمان والو! بہت زیادہ گمان کرنے سے بچو بیشک کوئی گمان گناہ ہوجاتا ہے۔ (پ26، الحجرات:12)

غیبت کے متعلق ارشاد ہوتا ہے: وَ لَا یَغْتَبْ بَّعْضُكُمْ بَعْضًاؕ- ترجمہ کنزالایمان:ایک دوسرے کی غیبت نہ کرو ۔(پ26، الحجرات:12)

اور حدیث پاک میں ہے: إياكم والظن فإن الظن أكذب الحديث بدگمانی سے بچو کیونکہ بدگمانی سب سے جھوٹی بات ہے۔ (صحیح البخاری کتاب النکاح حدیث 5144)

الله تبارک و تعالیٰ ہمیں برے لوگوں کی صحبت سے بچنے اور نیک لوگوں کی ہم نشینی اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین