عاکف علی (درجہ سابعہ جامعۃ المدینہ، گلزارِ حبیب، سبزہ زار، لاہور
،پاکستان)
مصاحبت، یعنی دوسروں کے ساتھ میل
جول، نشست و برخاست، اور ہم نشینی کے بھی خاص اسلامی آداب ہیں۔ چونکہ انسان فطری
طور پر معاشرتی مخلوق ہے، اسے دوسروں کے ساتھ اُنس، تعلق اور محبت کی ضرورت رہتی
ہے۔ اسلام نے نہ صرف بڑے معاملات بلکہ معمولی ملاقاتوں کے بھی آداب مقرر کیے تاکہ
محبت، عزت، خیر خواہی اور اعتماد پر مبنی معاشرہ وجود میں آئے۔ آئیے ہم نشینی کے
چند اہم حقوق کا مطالعہ کرتے ہیں:
(1) خوش اخلاقی سے پیش آنا: یہ بنیادی حق ہے کہ انسان اپنے
ہم نشین سے نرم لہجے، خندہ پیشانی، اور عزت سے پیش آئے۔ بدتمیزی، سختی یا دل
دکھانے والی گفتگو اسلامی اخلاق کے خلاف ہے۔ اِنَّ مِنْ خِيَارِكُمْ أَحْسَنَكُمْ أَخْلَاقًا تم میں سب سے بہتر وہ ہے جس کے
اخلاق سب سے اچھے ہوں۔ (صحیح بخاری، حدیث: 3559)
(2) سلام میں پہل کرنا: ملاقات کا آغاز سلام سے ہوتا ہے
اور سلام میں پہل کرنا سنت نبوی ﷺ ہے۔ یہ محبت، اخوت اور دعاؤں کا ذریعہ ہے۔ حدیث
میں ہے : وَأَفْشُوا السَّلَامَ
بَيْنَكُمْ اور آپس میں سلام کو عام کرو۔ (صحیح
مسلم، حدیث: 54)
(3) خیر خواہی کرنا: دوستی اور ہم نشینی کا اہم
تقاضا یہ ہے کہ اگر کوئی مشورہ مانگے تو مخلصانہ اور فائدہ مند مشورہ دیا جائے۔ دل
سے خیر خواہی ہو، ظاہری بناوٹ نہ ہو۔ الدِّينُ
النَّصِيحَةُ دین خیر خواہی کا نام ہے۔ (صحیح
مسلم، حدیث: 55)
(4) عزت اور رازداری کا لحاظ
رکھنا: مجلس اور دوستی کا تقاضا ہے کہ
ہم نشین کی عزت کا خیال رکھا جائے اور اس کی باتوں کو راز سمجھا جائے۔ مجلس کی بات
کو باہر بیان کرنا خیانت ہے۔ الْمَجَالِسُ
بِالْأَمَانَةِ "مجالس امانت ہوتی ہیں۔"
(سنن ابو داؤد، حدیث: 4868)
(5) مجلس میں عدل و برابری: ہم نشینوں کے ساتھ برابری کا
سلوک کرنا، کسی کو کم تر نہ سمجھنا، سب کو یکساں عزت دینا ایک اہم اسلامی تعلیم
ہے۔ حدیث: لَا يُقِيمُ الرَّجُلُ
الرَّجُلَ مِنْ مَجْلِسِهِ ثُمَّ يَجْلِسُ فِيهِ"کسی شخص کو اس کی جگہ سے اٹھا کر خود وہاں نہ بیٹھو۔"(صحیح
بخاری، حدیث: 6269)
اِذَا قِیْلَ لَكُمْ
تَفَسَّحُوْا فِی الْمَجٰلِسِ فَافْسَحُوْا یَفْسَحِ اللّٰهُ لَكُمْۚ- ترجمہ کنزالعرفان: جب تم سے کہا
جائے (کہ)مجلسوں میں جگہ کشادہ کرو تو جگہ کشادہ کردو ،اللہ تمہارے لئے جگہ کشادہ
فرمائے گا ۔(پ28، المجادلۃ: 11)
(6) وقت کا خیال رکھنا: ہم نشینی کے دوران یہ خیال
رکھنا کہ دوسرے کے قیمتی وقت کو ضائع نہ کیا جائے، بھی ایک اخلاقی فریضہ ہے۔ مختصر
اور مفید مجلس بہتر ہوتی ہے۔ مِنْ حُسْنِ
إِسْلَامِ الْمَرْءِ تَرْكُهُ مَا لَا يَعْنِيهِ "آدمی کے اسلام کی علامت یہ
ہے کہ وہ بے کار باتوں کو چھوڑ دے۔"(سنن ترمذی، حدیث: 2317)
(7) غیر ضروری گفتگو سے پرہیز: لغو، غیبت، اور چغلی سے بچنا
ضروری ہے، ورنہ مجلس بے برکت ہو جاتی ہے اور گناہ کا ذریعہ بنتی ہے۔لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ نَمَّامٌ "چغل خور جنت میں داخل نہ ہوگا۔"(صحیح بخاری،
حدیث: 6056)
نیک صحبت اور صالح ہم نشینی
انسان کے کردار، سوچ، اور انجام پر گہرا اثر ڈالتی ہے۔ اچھی صحبت دلوں کو جوڑتی
ہے، نیکی کی رغبت دلاتی ہے اور گناہوں سے دور رکھتی ہے۔ جبکہ بری صحبت انسان کو
غفلت، گناہ اور بگاڑ کی طرف لے جاتی ہے۔
اس لیے ایک سچے مسلمان کو چاہیے
کہ وہ اچھے دوست، بااخلاق ہم نشین اور فائدہ مند مجلس کی تلاش میں رہے، اور خود بھی
دوسروں کے لیے ایسا ہی بنے جو دین و دنیا میں کامیابی کا ذریعہ ہو۔
اللہ تعالیٰ ہمیں نیک صحبت،
صالح ہم نشینی اور ان کے حقوق کی مکمل ادائیگی کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب
العالمین
Dawateislami