حضور ﷺ کی اصحاب بدر سے محبت اور ان کی قدر و منزلت بہت اعلی تھی۔ یہ وہ خوش نصیب صحابہ کرام تھے جنہوں نے غزوہ بدر میں آپ ﷺ کے ساتھ مل کر اسلام کی پہلی بڑی جنگ لڑی اس جنگ میں ان کی قربانیاں، ثابت قدمی، اور اللہ پر توکل بے مثال تھا۔

آپ علیہ السلام ان اصحاب کو بہت اہمیت دیتے تھے کئی احادیث میں ان کی فضیلت بیان کی گئی ہیں اور انہیں جنت کی بشارت بھی دی گئی ہے آپ علیہ السلام نے کہا کہ بدر میں شریک ہونے والوں کو اللہ پاک نے معاف فرما دیا ہے آپ ان کے ساتھ ہر سکھ دکھ میں شریک ہوتے تھے ان کی دلجوئی کرتے اور انہیں بہترین ساتھی قرار دیتے تھے ان کی قربانیوں کی وجہ سے ہی اسلام کو ابتدائی دور میں مضبوطی ملی تمام صحابہ کرام کی طرح اصحاب بدر بھی امت مسلمہ کے لیے مشعل راہ ہیں اور ان سے محبت ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔

وَ  لَقَدْ  نَصَرَكُمُ  اللّٰهُ  بِبَدْرٍ  وَّ  اَنْتُمْ  اَذِلَّةٌۚ- (پ 4، آل عمران: 123) ترجمہ: اور بے شک اللہ نے بدر میں تمہاری مدد فرمائی جبکہ تم کمزور تھے۔

یہ آیت واضح طور پر غزوہ بدر کے شرکاء کی اللہ کی طرف سے مدد اور ان کے مقام کو ظاہر کرتی ہے۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ پیارے آقا علیہ السلام نے فرمایا شاید اللہ تعالی نے اہل بدر پر اپنے فضل کی نظر ڈالی اور فرمایا جو چاہو کرو میں نے تمہیں بخش دیا۔ (بخاری، 2/312، حدیث: 3007)

ایک اور جگہ فرمایا: کوئی شخص جہنم میں داخل نہیں ہوگا جو بدر اور حدیبیہ میں شریک ہوا۔ (مسلم،ص 1041، حدیث:6403)

اصحاب بدر وہ چمکتے ستارے ہیں جنہوں نے اسلام کی بنیادوں کو اپنے خون سے سینچا حضور اکرم ﷺ کی ان سے محبت نہ صرف ان کی شخصیت کے ہر پہلو میں عیاں تھی بلکہ اللہ نے بھی ان کی فضیلتوں قران و حدیث میں بیان فرمایا خلاصہ یہ ہے کہ حضور ﷺ کی اصحاب بدر سے محبت ایمان وفاداری قربانی اور اللہ کی رضا پر مبنی ایک گہری مثال اور لازوال محبت تھی یہ محبت امت کے لیے ایک درس ہے جو اللہ اور اس کے رسول کے لیے قربانی دیتے ہیں ان کا مقام کتنا بلند ہو جاتا ہے۔

اللہ پاک ہمیں بھی اصحاب بدر کی سچی محبت عطا فرمائے قربانیوں سے جو درس ملتا ہے اللہ پاک ہمیں اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمارا راستہ پیاری اسلام کی محبت میں میٹھا میٹھا مدینہ بنائے۔ آمین