اسلامی تاریخ میں غزوۂ بدر کو ایک عظیم الشان اور فیصلہ کن معرکہ کی حیثیت حاصل ہےیہ وہ پہلا معرکہ تھا جس میں حق و باطل آمنے سامنے آئے اور اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب ﷺ اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کو عظیم فتح عطا فرمائی اس غزوہ میں شریک ہونے والے صحابہ کو اصحاب بدرکہا جاتا ہے حضور نبی اکرم ﷺ کو ان جان نثار صحابہ سے خاص محبت تھی کیونکہ انہوں نے انتہائی کم تعداد اور بے سروسامانی کے باوجود دین اسلام کی سربلندی کے لیے اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال دیا۔

اللہ تعالیٰ نے اہل بدر کی فضیلت کو قرآن مجید میں عمومی طور پر صحابہ کی تعریف کے ضمن میں بیان فرمایا، احادیث مبارکہ میں بھی اصحاب بدر کی عظمت اور حضور ﷺ کی محبت کا واضح اظہار ملتا ہے صحیح بخاری میں روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اہل بدر کی طرف نظر رحمت فرمائی اور فرمایا: تم جو چاہو عمل کرو میں نے تمہیں بخش دیا ہے۔ (بخاری، 2/312، حدیث: 3007)یہ حدیث اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ حضور ﷺ کو اپنے ان جانثار ساتھیوں پر فخر تھا اور آپ ﷺ ان کی عظمت بیان فرمایا کرتے تھے

ایک اور روایت میں ہے کہ جب کسی شخص کے بارے میں شکایت آئی تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ دیکھووہ بدری صحابی ہے شاید اللہ نے اہل بدر کو خاص مغفرت عطا فرمائی ہے۔

حضور ﷺ کا طرز عمل بھی اس محبت کی دلیل تھا۔ آپ ﷺ اصحاب بدر کا خصوصی احترام فرماتےان کے مشوروں کو اہمیت دیتے اور انہیں امت میں ممتاز مقام عطا فرماتے بعد کے ادوار میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ بھی بدری صحابہ کو بیت المال میں زیادہ وظیفہ عطا فرماتے تھےجو ان کی فضیلت کا اعتراف تھا۔

اصحاب بدر وہ خوش نصیب جماعت ہے جنہوں نے اسلام کی بنیادوں کو اپنے خون سے مضبوط کیا حضور نبی اکرم ﷺ کی ان سے محبت دراصل ان کی قربانیوں اخلاص اور وفاداری کا اعتراف تھی ہمیں بھی چاہیے کہ ہم صحابۂ کرام خصوصاً اصحاب بدر سے محبت رکھیں ان کی سیرت کو اپنائیں اور دین کی خاطر قربانی دینے کا جذبہ اپنے اندر پیدا کریں یہی حضور ﷺ کی محبت کا تقاضا اور کامیابی کا راستہ ہے۔