بدر سے مراد وہ خوش نصیب صحابہ ہیں جنہوں نے دو ہجری 17 رمضان میں حق و باطل کے پہلے معرکہ غزوہ بدر میں نبی کریم ﷺ کے ساتھ شرکت کی۔ان عظیم ہستیوں کو اللہ پاک نے بخشش اور جنت کی بشارت دی ہے اور یہ تمام مسلمانوں میں سب سے بلند مقام رکھتے ہیں اصحاب بدر اسلام کے اولین محافظین اور سابقون الاولون میں سے ہیں۔جن کی قربانیوں کی وجہ سے اسلام کو ابتدائی طور پر مضبوطی ملی۔

حضور ﷺ نے بدری صحابہ کو تمام صحابہ رضی اللہ عنہم میں سب سے افضل قرار دیا ہے ان کو اللہ نے نصرت عطا فرمائی۔

حضور اکرم ﷺ کی اصحاب بدر سےمحبت اور ان کا بلند مقام ومرتبہ قرآن کی متعدد آیات اور حدیث میں بیان کیا گیا ہے۔بدر کے مجاہدین اللہ تعالی کی رضا کے طلبگار کافروں پر سخت اور آپس میں نرم دل اور سجدوں کے نشان کے ساتھ پہچانے جاتے تھے یہ وہ جماعت ہے جس کے ساتھ آقا ﷺ کی محبت کا یہ عالم تھا کہ وہ ان کے ساتھ ہمیشہ رہتے تھے۔

اللہ پاک قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے: مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِؕ-وَ الَّذِیْنَ مَعَهٗۤ اَشِدَّآءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَآءُ بَیْنَهُمْ تَرٰىهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا یَّبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانًا٘- (پ 26، الفتح: 29) ترجمہ کنز الایمان: محمد اللہ کے رسول ہیں اور ان کے ساتھ والے کافروں پر سخت ہے اور آپس میں نرم دل تو انہیں دیکھے گا رکوع کرتے سجدے میں گرتے اللہ کا فضل و رضا چاہتے۔

انسان کی یہ فطرت ہے کہ وہ اپنے محبوب کے دشمنوں سے نفرت کرتا اور ان پرسختی کرتا ہے اور ان میں بھی جس کی محبت اتنی زیادہ ہو اس کی اپنے محبوب کے دشمن سے نفرت اور سختی بھی اتنی ہی زیادہ ہوتی ہے اور یہ چیز اس کے عشق و محبت کے علامت میں سے ایک اہم علامت شمار کی جاتی ہے۔

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم وہ مبارک ہستیاں ہیں جن کا اللہ تعالی اور ان کے پیارے حبیب ﷺ سے عشق و محبت بے مثال اور لازوال ہے سید المرسلین ﷺ کی ذات گرامی انہیں مال اولاد اہل و عیال حتی کہ اپنی جان سے بھی زیادہ محبوب اور عزیز تھی اس بے انتہا عشق و محبت کا نتیجہ یہ تھا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اپنےحبیب ﷺ کے دشمنوں یعنی کفار سے سخت نفرت کرتے اور ان پر انتہائی سختی فرمایا کرتے تھے۔ اسی وجہ سے قرآن کریم میں فرمایا ہے کہ یہ کافروں پر سخت ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ حضور ﷺ اصحاب بدر سے بے انتہا عشق و محبت فرمایا کرتے تھے کیونکہ صحابہ کرام آپس میں نرم دل اور محبت اور شفقت کرنے والے تھے۔

صحابہ کرام کی اس سیرت میں دیگر مسلمانوں کے لیے بھی نصیحت ہے کہ ایک مسلمان اپنے مسلمان بھائی سے نفرت نہ کرے۔اور اس کے ساتھ سختی سے پیش نہ آئے شفقت اور نرمی سے پیش اور ان کے ساتھ مہربانی سلوک کرے۔

حدیث میں ہے کہ تم مسلمانوں کو آپس کی رحمت باہمی محبت اور مہربانی میں ایک جسم کی طرح دیکھو گے کہ جب ایک عضو بیمار ہوجائے تو سارے جسم کے اعضاء بےخوابی اور بخار کی طرف ایک دوسرے کو بلاتے ہیں۔ (بخاری، 4/103، حدیث: 6011)

اللہ تعالی مسلمانوں کو آپس میں شفقت و نرمی سے پیش آنے اور ایک دوسرے پر مہربانی کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

حضور اکرم ﷺ صحابہ کرام سے محبت فرماتے تھے اور ان کے ساتھ والہانہ عقیدت کا تعلق تھا بدر کی لڑائی میں حاضر ہونے والوں کو خاص فضیلت حاصل ہے جنہیں اللہ کے رسول ﷺ نے مختلف مہمات پر بھیجا اور ان کی تعریف فرمائی کہ حدیث مبارکہ میں ہے: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میرے صحابہ کو گالی نہ دو قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر کوئی احد پہاڑ کے برابر سونا اللہ کی راہ میں سرف کر ڈالے تو ان میں کسی کے ایک مد یا آدھے مد کے برابر بھی ثواب نہ پائے گا۔ (بخاری، 2/ 522، حدیث: 3673)

حضور اکرم ﷺ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو افضل قرار دیا اور ان میں بھی اصحاب بدر کو خاص مقام حاصل ہے یہ احادیث اصحاب بدر کی محبت اور ان کے بلند مرتبے اور حضور ﷺ کی ان پر خصوصی شفقت کی عکاسی کرتی ہے۔