حضور
کی اصحاب بدر سے محبت از بنت محمد یونس، جامعۃ المدینہ پاکپورہ سیالکوٹ
حضور پر نور ﷺ
کی اصحاب بدر سے محبت ایمان اور وفاداری کی علامت سمجھی جاتی ہے۔
اصحاب بدر وہ
خوش نصیب صحابہ ہیں جنہوں نے 2 ہجری یعنی غزوہ بدر میں آقا ﷺ کے ساتھ شرکت کی۔ یہ
اسلام کی پہلی بڑی جنگ تھی جس میں تعداد اور وسائل کی کمی کے باوجود اللہ پاک نے
مسلمانوں کو عظیم فتح نصیب فرمائی۔
خصوصی
مغفرت کی بشارت: جب
حضرت حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ سے ایک لغزش ہوئی تو حضرت عمر نے سختی کی
اجازت چاہی۔ اس پر آقاجانﷺ نے فرمایا: تمہیں کیا معلوم! شاید اللہ نے اہل بدر کی
طرف نظرے رحمت فرمائی اور فرمایا: تم جو چاہو کرو، میں نےتمہیں بخش دیا۔ (بخاری، 2/312،
حدیث: 3007)
غزوہ بدر میں
آپﷺ نے صحابہ سے مشورہ فرمایا حضرت مقداد رضی اللہ عنہ اور حضرت سعاد بن معاذ رضی
اللہ عنہ کے ایمان افروز کلمات سن کر آپﷺ کا چہرہ مبارک خوشی سے چمک اٹھا۔ یہ اس
بات کی دلیل ہے کہ آپ ﷺ ان کی وفاداری اور اخلاص سے خوش ہوئے۔
حضرت عمر رضی
اللہ عنہ بھی اپنے دور خلافت میں اہل بدر کے وظائف کو مقدم رکھتے کیونکہ وہ جانتے
تھے کہ آپﷺ انہیں خاص مقام دیتے تھے۔
آپﷺ اپنے سب
صحابہ سے محبت فرماتے لیکن چونکہ اہل بدر اولین اور سخت آزما ئش میں ثابت قدم رہے
اس لیے آپﷺ انہیں خاص عزت دیتے تھے۔
آقا ﷺ نے
فرمایا: وہ مسلمانوں میں سب سے افضل ہیں، تو جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا: اس
طرح وہ فرشتے بھی جو بدر میں شریک ہوئے، فرشتوں میں سب سے افضل ہیں۔ (بخاری، 3/17،
حدیث: 3992)
اہل
بدر کی خصوصی عزت: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے
فرمایا: سب سے بہترین لوگ میرا زمانہ ہے۔ (بخاری، 2/193، حدیث: 2652)
روایات میں
آتا ہے کہ آپ ﷺ نے اہل بدر کیلئے خصوصی دعا فرمایا کرتے تھے اور انکا ذکر عزت و
احترام سے فرماتے تھے۔
Dawateislami