حضور ﷺ کو اصحابِ بدر سے بے پناہ محبت اور خصوصی تعلق تھا کیونکہ انہوں نے کفر و اسلام کے پہلے معرکہ میں اپنی جانیں خطرے میں ڈال کر اسلام کی بقا کی جنگ لڑی آپ ﷺ نے ان کی فضیلت بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ جو فرشتے بدر میں شریک ہوئے ان کا درجہ بہت بلند ہے اور اہل بدر صحابہ بھی امت میں سب سے افضل ہیں۔(بخاری، 3/17، حدیث: 3992)

اصحاب بدر غزوہ بدر میں شریک 313 صحابہ اسلام کے وہ عظیم المرتبت مجاہدین ہیں جنہیں اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے بخشش مغفرت اور اعلی درجے کی بشارت دی ہے۔

اصحاب بدر کی شان میں قران پاک کی کئی ایات نازل ہوئیں جن میں ان کی ایمانداری اللہ کی نصرت اور غلبے کا ذکر ہے اور احادیث مبارکہ میں بھی ان کے فضائل کا ذکر ہے۔

پیارے آقا ﷺ نے فرمایا: بےشک اللہ پاک اہل بدر سے واقف ہے اور اس نے فرما دیا کہ تم اب جو عمل چاہو کرو بلا شبہ تمہارے لیے جنت واجب ہو چکی ہے اور ایک روایت میں ہے کہ میں نے تمہیں بخش دیا۔ (بخاری، 3/12، حدیث:3983)

اور جبرائیل علیہ السلام نے نبی کریم ﷺ سے پوچھا کہ آپ لوگ اپنے درمیان اہل بدر کو کیسے سمجھتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا: مسلمانوں میں سب سے افضل۔ جبرائیل علیہ السلام نے کہا کہ جو فرشتے بدر کی لڑائی میں شریک ہوئے تھے ان کا بھی یہی درجہ ہے۔ (بخاری، 3/17، حدیث: 3992)

نبی کریم ﷺ نے ان 313 صحابہ کرام کو اسلام کے پہلے معرکہ میں حق و باطل کا فرق کرنے پر خصوصی تعظیم و محبت دی۔ ان احادیث اور ایات مبارکہ سے ثابت ہوا کہ اللہ پاک اور نبی کریم ﷺ اصحاب بدر سے بہت محبت کرتے ہیں کیونکہ انہوں نے پیارے آقا ﷺ کی کافروں کے خلاف بہت مدد کی اور معلوم ہوا کہ بدر والے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سب سے افضل مانے جاتے ہیں اور نبی کریم ﷺ کی نظر میں ان کا بہت بلند مقام ہے۔علما کے مطابق اصحاب بدر کے ناموں کا ورد کرنا اور ان کے وسیلے سے دعا کرنا پریشانیوں کے ٹلنے اور مشکلات میں کمی کا ذریعہ بنتے ہیں۔