غزوہ بدر 17
رمضان المبارک، 2 ہجری کو پیش ایا۔ اس معرکے میں شریک 313 صحابہ کرام کو اصحاب بدر
کہا جاتا ہے۔ اللہ پاک کے پیارے حبیب ﷺ کو اصحاب بدر سے بےحد محبت تھی۔ کیونکہ وہ
جانثار تھے کہ جنہوں نے 313 کی تعداد میں 1000 مشرکین کا سامنا کیا۔ صرف یہی نہیں
بلکہ آپ ﷺ کی محبت کا یہ عالم تھا کہ نبی کریم ﷺ نے ان صحابہ کرام کو جنت کی بشارت
دی۔ اور ان کی جگہوں کی نشان دہی فرمائی اور ان کے ایمان و اخلاص کی وجہ سے ان
صحابہ کرام کو قیامت تک کے مسلمانوں کے لیے مشعل راہ قرار دیا۔
چنانچہ نبی
کریم ﷺ کی اصحاب بدر سے محبت کے متعلق چند واقعات ملاحظہ کیجیئے۔
ایک موقع پر
حضرت حاطب بن ابی بلتعہ ( جو بدری صحابی تھے ) سے ایک لغزش ہوئی تو حضرت عمر رضی
اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے سزا کی اجازت چاہی۔ تو حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا: یہ بدری
صحابی ہے اور تم نہیں جانتے کہ اللہ پاک نے اہل بدر کے بارے میں کیا فیصلہ فرمایا
ہے۔ (بخاری، 2/312، حدیث: 3007)
یہ واقعہ اس
بات کا ثبوت ہے کہ نبی کریم ﷺ اصحاب بدر سے بے حد محبت اور ان کا احترام کرتے تھے۔
میٹھی میٹھی
اسلامی بہنو! محبت کا ایک پہلو احترام کرنا بھی ہے۔مصطفیٰ جان رحمت ﷺ غزوہ بدر میں
حاضر ہونے والے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی بہت عزت فرماتے تھے چنانچہ ایک روز
چند بدری صحابہ کرام ایسے وقت پر پہنچے جب کہ مجلس شریف بھر چکی تھی انہوں نے
پیارے آقا ﷺ کے سامنے کھڑے ہو کر سلام عرض کیا۔ نور والے آقا ﷺ نے سلام کا جواب
دیا۔ پھر انہوں نے حاضرین کو سلام کیا تو انہوں نے جواب دیا۔ پھر وہ اس انتظار میں
کھڑے رہے کہ ان کے لیے مجلس شریف میں جگہ بنائی جائے مگر کسی نے جگہ نہ دی۔ تو
سرکار دو عالم ﷺ نے اپنے قریب والوں کو اٹھا کر ان کے لیے جگہ بنا دی۔ اٹھنے والوں
کو اٹھنا شاق ہوا تو اس پر سورت مجادلہ کی ایت نمبر 11 نازل ہوئی۔ چنانچہ ارشاد
فرمایا: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْۤا اِذَا قِیْلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوْا فِی الْمَجٰلِسِ فَافْسَحُوْا
یَفْسَحِ اللّٰهُ لَكُمْۚ-وَ اِذَا قِیْلَ انْشُزُوْا فَانْشُزُوْا یَرْفَعِ اللّٰهُ
الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْۙ-وَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍؕ-وَ اللّٰهُ
بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ(۱۱)ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو جب تم سے کہا جائے مجلسوں میں
جگہ دو تو جگہ دو اللہ تمہیں جگہ دے گا اور جب کہا جائے اٹھ کھڑے ہو تو اٹھ کھڑے
ہو اللہ تمہارے ایمان والوں کے اور ان کے جن کو علم دیا گیا درجے بلند فرمائے گا
اور اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے۔ (تفسیر خازن، 4/240 )
اس واقعے سے
بھی معلوم ہوا کہ نبی کریم ﷺ اصحاب بدر سے کس قدر محبت فرماتے تھے اور ان کی تعظیم
کرتے تھے۔
شہدائے بدر کی
فضیلت پر دلالت کرنے والی حدیث مبارکہ ملاحظہ کیجئے، چنانچہ
جنتی صحابی
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ غزوہ بدر کے دن حضرت حارثہ رضی اللہ عنہ شہید
ہو گئے تو ان کے والدہ نے آخری نبی ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہو کر عرض کی: یا رسول
اللہ! آپ کو بخوبی معلوم ہے کہ مجھے حارثہ کتنا پیارا تھا اگر وہ جنت میں ہے تو
میں صبر کروں اور ثواب کی امید رکھوں اور اگر خدانخواستہ معاملہ برعکس ہے تو آپ
دیکھیں گے کہ میں کیا کرتی ہوں۔ اللہ پاک کی عطا سے غیب دان آخری نبی ﷺ نے ارشاد
فرمایا: تجھ پر افسوس ہے کیا تو پگلی ہو
گئی ہے کیا خدا کی ایک ہی جنت ہے اس کی جنتیں تو بہت ساری ہیں اور بے شک حارثہ جنت
الفردوس میں ہیں۔ (بخاری، 3/12، حدیث: 3982)
حضرت جابر رضی
اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیوں کے سردار رحمت عالم ﷺ نے فرمایا: بدر میں شریک ہونے والوں میں سے کوئی بھی جہنم
میں داخل نہ ہوگا۔ (مسلم،ص 1041، حدیث:6403)
غزوہ بدر کے
موقع پر نبی کریم ﷺ اپنے سائبان میں تشریف فرما تھے اور سائبان میں یار غار صدیق
اکبر رضی اللہ عنہ کے علاوہ کوئی نہ تھا۔ اس وقت نبی کریم ﷺ بارگاہ الٰہی میں یوں
دعا مانگ رہے تھے: اے اللہ! تو نے مجھ سے
جو وعدہ فرمایا آج اسے پورا کردے۔ اس وقت نبی کریم ﷺ پر بہت زیادہ رقت اور محویت
طاری تھی۔ کبھی آپ ﷺ سجدے میں سر رکھ کر اس طرح دعا فرماتے۔ کہ الٰہی اگر یہ چند
نفوس ہلاک ہو گئے تو پھر قیامت تک روئے زمین پر تیری عبادت کرنے والے نہ رہیں گے۔
(مواہب لدنیۃ، 2/278)
میٹھی میٹھی
اسلامی بہنو! ان واقعات سے معلوم ہوا کہ نبی کریم ﷺ اصحاب بدر سے کس قدر محبت
فرماتے تھے اور نبی کریم ﷺ کا اصحاب بدر کے لیے دعا کرنا اور ان کا احترام کرنا
نبی کریم ﷺ کی محبت کو ظاہر کرتا ہے۔
Dawateislami