حضور
کی اصحاب بدر سے محبت از بنت اصغر علی، جامعۃ المدینہ پاکپورہ سیالکوٹ
غزوۂ بدر
اسلام کی تاریخ کا پہلا اور عظیم معرکہ تھا جو 17 رمضان المبارک 2 ہجری کو پیش
آیا۔ اس جنگ میں صرف 313 صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے تین گنا بڑے لشکر کا مقابلہ
کیا۔ یہ وہ خوش نصیب ہستیاں ہیں جنہیں اصحاب بدر کہا جاتا ہے۔ رسول اکرم ﷺ کو ان
جاں نثار صحابہ سے بے پناہ محبت تھی، کیونکہ انہوں نے دین اسلام کی سربلندی کے لیے
اپنی جانیں ہتھیلی پر رکھ دیں۔
قرآن کریم میں
اللہ تعالیٰ نے اہل بدر کی مدد کا ذکر فرمایا:
وَ لَقَدْ
نَصَرَكُمُ اللّٰهُ بِبَدْرٍ وَّ اَنْتُمْ
اَذِلَّةٌۚ- (پ
4، آل عمران: 123) ترجمہ: اور بے شک اللہ نے بدر میں تمہاری مدد فرمائی جبکہ تم
کمزور تھے۔
اسی طرح ایک
اور مقام پر ارشاد ہوا: اِذْ تَسْتَغِیْثُوْنَ رَبَّكُمْ فَاسْتَجَابَ لَكُمْ
اَنِّیْ مُمِدُّكُمْ بِاَلْفٍ مِّنَ الْمَلٰٓىٕكَةِ مُرْدِفِیْنَ(۹) (پ 9،
الانفال: 9) ترجمہ: جب تم اپنے رب سے فریاد کر رہے تھے تو اس نے تمہاری دعا قبول
کی کہ میں تمہاری مدد ایک ہزار فرشتوں سے کروں گا جو لگاتار آئیں گے۔
ان آیات سے
معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بدر والوں کو خاص مدد اور فضیلت عطا فرمائی اور
نبی کریم ﷺ ان کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد فرماتے تھے۔
احادیث مبارکہ
میں بھی اصحاب بدر کی فضیلت واضح طور پر بیان ہوئی ہے۔ صحیح بخاری و مسلم کی روایت
ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اہل بدر کو دیکھا اور فرمایا: جو چاہو
کرو، میں نے تمہیں بخش دیا۔ (بخاری، 2/312، حدیث: 3007)
یہ حدیث اس
بات کی دلیل ہے کہ اہل بدر کو اللہ تعالیٰ کی خاص مغفرت اور رضا حاصل تھی اور رسول
اکرم ﷺ ان کی عظمت بیان فرمایا کرتے تھے۔
ایک اور موقع
پر جب حضرت حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ سے ایک اجتہادی خطا ہوئی تو بعض صحابہ
نے سختی کا ارادہ کیا۔ اس پر حضور ﷺ نے فرمایا: یہ بدر والوں میں سے ہیں، اور
تمہیں کیا معلوم کہ اللہ نے اہل بدر کے بارے میں فرمایا کہ جو چاہو کرو، میں نے
تمہیں بخش دیا۔ (بخاری، 2/312، حدیث: 3007)
اس واقعے سے
ظاہر ہوتا ہے کہ حضور ﷺ کو بدر کے صحابہ سے خصوصی شفقت اور محبت تھی اور آپ ﷺ ان
کا مقام و مرتبہ سب کے سامنے بیان فرماتے تھے۔
نبی کریم ﷺ کی
محبت کا اندازہ اس بات سے بھی ہوتا ہے کہ آپ ﷺ بدر کے شہداء کو بہت عزت دیتے، ان
کے لیے دعا فرماتے اور ان کی یاد کو زندہ رکھتے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: بدر میں شریک
ہونے والا شخص جہنم میں داخل نہ ہوگا۔(مسلم،ص 1041، حدیث:6403)
اصحاب بدر کی قربانیاں
اسلام کی بقا کا سبب بنیں۔ انہوں نے اپنے مال، جان اور عزت سب کچھ اللہ اور اس کے
رسول ﷺ پر قربان کر دیا۔ حضور ﷺ ان کی وفاداری، اخلاص اور ثابت قدمی کو قدر کی
نگاہ سے دیکھتے تھے۔
آج ہمیں بھی
چاہیے کہ ہم اصحاب بدر سے محبت رکھیں، ان کے نقش قدم پر چلیں اور دین کے لیے
قربانی کا جذبہ پیدا کریں۔ جو شخص صحابۂ کرام سے محبت کرتا ہے وہ دراصل رسول اکرم
ﷺ سے محبت کرتا ہے، کیونکہ آپ ﷺ نے فرمایا: میرے صحابہ کو برا نہ کہو۔ (بخاری، 2/522،
حدیث:3673)
Dawateislami