حضور کی
عشرہ مبشرہ سے محبت از بنت رمضان احمد،فیضا ن عائشہ صدیقہ نندپور سیالکوٹ
حضورﷺ کی عشرہ
مبشرہ سے محبت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ آپﷺ نے انہیں زندگی میں ہی
جنت کی بشارت دی، جو کہ آپﷺ کی طرف سے ان پر اعتماد، شفقت اور خصوصی مقام کی عکاسی
ہے۔
عشرہ
مبشرہ قرآنی آیت کی تفسیر: حضرت علی المرتضی شیر خدا کرّم اللہ وجہہ
الکریم نے یہ آیت مبارکہ پڑھی: اِنَّ الَّذِیْنَ سَبَقَتْ لَهُمْ
مِّنَّا الْحُسْنٰۤىۙ-اُولٰٓىٕكَ عَنْهَا مُبْعَدُوْنَۙ(۱۰۱) (پ 17، الانبیاء: 101) ترجمہ کنز
الایمان: بیشک وہ جن کے لئے ہمارا وعدہ بھلائی کا ہو چکا وہ جہنّم سے دور رکھے گئے
ہیں۔ پھر حضرت علی المرتضی نے فرمایا: میں انہیں میں سے ہوں، سیدنا ابوبکر، عمر،
عثمان، اورطلحہ، زبیر، سعد، سعید، عبد الرحمن، ابو عبیدہ بن جراح رضوان اللہ علیہم
اجمعین انہیں میں سےہیں۔ (بیضاوی، 4/110)
عشرہ
مبشرہ محبوب حبیب خدا: حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ
میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کی: یارسول اللہ ﷺ! لوگوں میں سے آپ کو سب سے زیادہ
کون محبوب ہے؟فرمایا: عائشہ۔ میں نے عرض
کی: مردوں میں؟فرمایا: ابوبکر۔میں نے عرض
کی: ان کے بعد کون؟ فرمایا: عمر۔میں نے کہا: پھر کون؟ فرمایا: عثمان۔ میں نے
کہا: پھر کون؟ فرمایا: علی بن ابی
طالب۔حضرت عبد اللہ فرماتے ہیں کہ پھرمیں خاموش ہوگیا توآپ نے ارشاد فرمایا: اے عبد اللہ! جو پوچھنا چاہتے ہو پوچھو۔ میں نے
عرض کیا: یارسول اللہ ﷺ! علی بن ابی طالب کے بعد کون آپ کو زیادہ محبوب ہے؟
فرمایا: طلحہ، پھر زبیر، پھرسعد بن ابی وقاص، پھر سعید بن زید، پھر عبد الرحمن بن
عوف اور پھر ابوعبیدہ بن جراح۔ (الریاض النضرۃ، 1/33)
عبدالرحمن بن
عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:(۱)ابو
بکر(صدیق) جنت میں ہیں(۲) عمر جنت میں
ہیں(۳) عثمان جنت میں ہیں(۴)علی جنت میں ہیں(۵)طلحہ
جنت میں ہیں (۶) زبیر جنت میں ہیں(۷)عبدالرحمٰن بن عوف جنت میں ہیں(۸) سعد بن ابی وقاص جنت میں ہیں (۹)سعید بن زید جنت میں ہیں(۱۰) اور ابو عبیدہ بن الجراح جنت میں ہیں۔ رضی
اللہ عنہم اجمعین (ترمذی، 5/416، حدیث:3768)
حضرت عباس رضی
اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے محبوبﷺ نے
ارشاد فرمایا: میری ساری امت میں سب سے زیادہ رحم دل ابوبکر ہیں۔دین میں سب سے
زیادہ مضبوط عمر ہیں۔ حیا میں سب سے بڑھ کر عثمان اور سب سے زیادہ قوت فیصلہ کے
مالک علی ابن ابی طالب ہیں۔ہر نبی کے حواری(مددگار) تھے اور میرے حواری طلحہ و
زبیر ہیں۔ سعد بن ابی وقاص جہاں ہوں گے حق ان کے ساتھ ہوگا، سعید بن زید محبوبان
خدا میں سے ہیں۔ عبد الرحمن بن عوف اللہ کے تاجروں میں سے ہیں، ابوعبیدہ بن جراح
اللہ اور اس کے رسول کے امین ہیں۔ ہر نبی کا محرم راز ہوتا ہے اور میرا محرم راز
امیر معاویہ بن ابی سفیان ہے۔ ان سب سے محبت کرنے والا نجات پا گیا اور بغض رکھنے
والا تباہ ہوگیا۔ (الریاض النضرۃ، 1/36)
عشرہ
مبشرہ کے لیے رضائے مصطفےٰ کا پروانہ: حضرت سہل بن مالک روایت کرتے
ہیں کہ نبی رحمت ﷺ حدیبیہ سے لوٹے تو ممبر پر تشریف لا کر اللہ کی حمد وثنا کے بعد
ارشاد فرمایا: اے لوگو! ابوبکر نے مجھے کبھی بھی دکھ نہیں دیا۔اس بات کو اچھی طرح
سمجھ لو۔ اے لوگو! عمر، عثمان، علی، طلحہ، زبیر، سعد بن مالک، عبد الرحمن بن عوف
اور اوّل مہاجرین تمام سے میں راضی ہوں اور اس بات کوبھی اچھی طرح سمجھ لو۔ (معرفۃ
الصحابۃ لابی نعیم، 2/448)
عشرہ
مبشرہ کے جنت میں رفقاء انبیائے کرام: حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ
سے روایت ہے کہ حضور ﷺ ایک بار حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہاکے ہاں تشریف لائے
اور فرمایا: اے عائشہ! تمہیں ایک بشارت نہ دوں؟ عرض کیا: یارسول اللہﷺ! کیوں نہیں۔فرمایا: تمہارے والد
ابوبکر جنتی ہیں اور جنت میں ان کے رفیق حضرت ابراہیم علیہ السّلام ہوں گے۔ عمر
جنتی ہیں اور جنت میں ان کے رفیق حضرت نوح علیہ السّلام ہوں گے۔ عثمان جنتی ہیں
اور جنت میں ان کا رفیق میں خود ہوں گا۔علی جنتی ہیں اور جنت میں ان کے رفیق حضرت
یحیی علیہ السّلام ہوں گے۔ طلحہ جنتی ہیں اور جنت میں ان کے رفیق حضرت داودعلیہ
السّلام ہوں گے۔ زبیر جنتی ہیں اور جنت میں ان کے رفیق حضر ت اسماعیل علیہ السّلام
ہوں گے۔ سعد بن ابی وقاص جنتی ہیں اور جنت میں ان کے رفیق سلیمان بن داود علیہ
السّلام ہوں گے۔ سعید بن زید جنتی ہیں اور جنت میں ان کے رفیق حضرت موسی علیہ
السّلام ہوں گے۔ اور ابو عبیدہ بن جراح جنتی ہیں اور جنت میں ان کے رفیق حضرت
ادریس علیہ السّلام ہوں گے۔ پھر ارشاد فرمایا: اے عائشہ! میں سید المرسلین ہوں،
تمہارے والد افضل الصدیقین ہیں اور تم امّ المؤمنین ہو۔ (الریاض النضرۃ، 1/35)
عشرہ
مبشرہ سے بغض کا انجام: حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہادی
برحق ﷺ نے ارشاد فرمایا: اے مسلمانوں کے
گروہ! اگر تم اللہ کی عبادت کرو یہاں تک کہ تم کمان کی طرح ہو جاؤ اور خاموشی
اختیار کرو یہاں تک کہ تم کیلوں کی طرح ہوجاؤاور تم نماز پڑھو یہاں تک کہ تم سے
سوار ٹھہر جائے اور تم اصحاب عشرہ (مبشرہ)سے بغض بھی رکھو تو اللہ تمہیں اوندھے
منہ ضرور جہنم میں گرائے گا۔ (الریاض النضرۃ، 1/34)
Dawateislami