حضور
کی عشرہ مبشرہ سے محبت از بنت طاہر محمود، جامعۃ المدینہ پاکپورہ سیالکوٹ
پیارے آقاﷺ کی
عشرہ مبشرہ سے محبت ان کی اسلام کے لئے بے شمار قربانیوں اور تقوی کی بنیاد پر تھی،
رسول ﷺ کا ان صحابہ کرام سے رشتہ نہایت مضبوط تھا۔ عشرہ مبشرہ سے محبت دراصل رسولﷺ
سے محبت کی علامت ہے ان کا مقام رسولﷺ کی محبت کی وجہ سے بلند ہے عشرہ مبشرہ وہ دس
صحابہ ہیں جنہیں پیارے رسولﷺ نے دنیا ہی میں جنت کی بشارت دے دی تھی۔
عشرہ
مبشرہ کی تعداد اور نام: عشرہ مبشرہ کی تعداد دس ہے جن کے نام
یہ ہیں: حضرت ابوبکر صدیق، حضرت عمر فاروق اعظم، حضرت عثمان غنی، حضرت علی المرتضی،
حضرت طلحہ بن عبیداللہ، حضرت زبیر بن عوام، حضرت عبد الرحمن بن عوف، حضرت سعد بن
ابی وقاص، حضرت سعید بن زید، حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہم اجمعین۔
اللہ پاک نے
قرآن پاک میں بھی صحابہ کرام کی فضیلت کو واضح فرمایا ہے: وَ السّٰبِقُوْنَ
الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُهٰجِرِیْنَ وَ الْاَنْصَارِ وَ الَّذِیْنَ
اتَّبَعُوْهُمْ بِاِحْسَانٍۙ-رَّضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ (پ
11، التوبۃ، 100) ترجمہ: اور سبقت کرنے والے مہاجرین و انصار اور ان کے پیروکار جو
نیکی کے ساتھ ان کے ساتھ ہوئے، اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے۔
اِنَّ الَّذِیْنَ سَبَقَتْ لَهُمْ
مِّنَّا الْحُسْنٰۤىۙ-اُولٰٓىٕكَ عَنْهَا مُبْعَدُوْنَۙ(۱۰۱) (پ 17،
الانبیاء: 101) ترجمہ کنز الایمان: بیشک وہ جن کے لئے ہمارا وعدہ بھلائی کا ہو چکا
وہ جہنّم سے دور رکھے گئے ہیں۔
ان صحابہ کرام
کی فضیلت پر احادیث مبارکہ بھی متواتر ہیں جن سے حضور کی ان اصحاب سے محبت کا
بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
آپ ﷺ نے
فرمایا: اگر میں اللہ کے سوا کسی کو خلیل بناتا تو ابو بکر کو بناتا۔ (بخاری، 1/162،
حدیث: 466)
اسی طرح حضرت
عمر کے بارے میں فرمایا: میرے بعد اگر کوئی نبی ہوتا تو عمر ہوتا۔ (ترمذی،5/385،
حدیث: 3706)
حضرت عثمان کے
بارے میں حضور ﷺ کی محبت اس قدر تھی کہ آپ ﷺ نے ان کی حیا کو پسند فرمایا اور ارشاد
فرمایا:کیا میں اس شخص سے حیا نہ کروں جس سے فرشتے حیا کرتے ہیں؟ (مسلم، ص 1004،
حدیث: 6209)
حضرت علی سے
محبت کے بارے میں حضور ﷺ نے فرمایا: علی سے محبت ایمان ہے اور علی سے بغض نفاق۔ (مسلم،
ص 55، حدیث:78 ماخوذاً)
ایک مرتبہ نبی
کریم علیہ السلام حضرت ابو بکر اور عمر فاروق اعظم کے ساتھ نکلے تو آپ نے راستے
میں فرمایا: ہم تینوں جنت میں اسی طرح داخل ہونگے جس طرح دنیا میں ساتھ ہیں۔
فرمانِ حضور
ﷺ: میرے صحابہ ستاروں کی مانند ہیں تم ان میں سے جن کی بھی اقتدا کرو گے ہدایت
پاجاؤ گے۔
یہ احادیث اور
آیات تمام صحابہ کرام کی عظمت و شان پر واضح دلیل ہیں اس سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے
کہ ہم بھی ان عظیم ہستیوں کے نقش قدم پر چلیں،ان سے محبت رکھیں اور ان کے اخلاق و
کردار کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔
اللہ پاک ہمیں
صحابہ کرام کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمارا سینہ پیارے آقا ﷺ کی
یاد میں مدینہ بنائے۔ آمین
Dawateislami