حضور
کی عشرہ مبشرہ سے محبت از بنت محمد اکمل شکیل، فیضان خدیجۃ الکبری کنگ سہالی
تاریخ اسلام
جن نفوس سے قدسیہ سے روشن ہیں ان میں صحابہ کرام کو ایک مرکزی حیثیت حاصل ہے ان
میں خاص طور پر عشرہ مبشرہ وہ منتخب نفوس ہیں جن کے بارے میں نبی پاک ﷺ نے واضح
طور پر جنت کی خوشخبری عطا فرمائی نبی کریم ﷺ کی ان صحابہ سے محبت کسی وقتی یا
جذباتی تعلق کا نام نہیں بلکہ ایمان اعتماد تربیت اور رضائے الہی پر مبنی ایک کامل
محبت تھی جو ہر ہر صحابی کے ساتھ جداگانہ انداز میں ظاہر ہوتی ہے۔
عشرہ
مبشرہ کون؟ حضور
ﷺ کے وہ 10 اصحاب جن کے جنتی ہونے کی دنیا میں خبر دی گئی انہیں عشرہ مبشرہ کہتے
ہیں۔ اعلیٰ حضرت فتاوی رضویہ شریف میں صحابہ کرام میں افضلیت کی ترتیب بیان کرتے
ہوئے فرماتے ہیں اہل سنت و جماعت کا اجماع ہے کہ مرسلین، ملائکہ، رسول و انبیاء
بشر کے بعد حضرات خلفائے اربعہ تمام مخلوق الہی سے افضل ہیں۔ (فتاویٰ رضویہ، 28/478)
صدر الشریعہ بدر
الطریقہ حضرت مولانا مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: خلفائے اربع
راشدین کے بعد بقیہ عشرہ مبشرہ و حضرات حسنین اصحاب بدر اصحاب بیعت الرضوان کے لیے
افضلیت ہے اور یہ سب قطعی جنتی ہیں۔ (فیضان صحابہ، ص 11)
دس
صحابہ کرام: عشرہ
مبشرہ میں چار تو خلفائے راشدین یعنی حضرت صدیق اکبر حضرت فاروق اعظم حضرت عثمان
غنی حضرت علی المرتضی ہیں ان کے علاوہ باقی حضرات کے اسمائے گرامی یہ ہیں: حضرت
طلحہ حضرت زبیر، حضرت عبدالرحمن بن عوف ،حضرت سعد بن ابی وقاص ،حضرت سعید بن زید ،حضرت
ابو عبیدہ بن جراح۔
1۔
صدیق اکبر سے محبت: نبی کریم ﷺ اور حضرت صدیق کے اکبر رضی اللہ عنہ کی
محبت بہت گہری تھی، ترمذی میں ہے کہ آقائے دو عالم ﷺ نے حضرت ابوبکر صدیق سے
فرمایا: غار ثور میں تم میرے ساتھ رہے حوض کوثر پر بھی تم میرے ساتھ رہو گے۔ (ترمذی،
5/378، حدیث: 3690)
2۔حضرت
عمر فاروق سے محبت: حضرت عمر سے بھی رسول اکرم ﷺ کی محبت بہت باکمال
تھی طبرانی اوسط میں حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سرکار اقدس ﷺ
نے فرمایا: جس نے عمر سے دشمنی رکھی اس شخص نے مجھ سے دشمنی رکھی اور جس نے عمر سے
محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی۔ (تاریخ الخلفاء، ص 81)
3۔حضرت
عثمان سے محبت: ترمذی
شریف میں حضرت انس سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ جب رسول اکرم ﷺ نے مقام حدیبیہ
میں بیعت رضوان کا حکم دیا اس وقت حضرت عثمان غنی حضور اکرم ﷺ کے قاصد کی حیثیت سے
مکہ معظمہ میں تھے تو ہم نے حضور ﷺ کے ہاتھ پر بیعت کی جب سب لوگ بیعت کر چکے تو
رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: یہ عثمان خدا اور رسول خدا کے کام سے گئے ہوئے ہیں پھر
اپنا ایک ہاتھ دوسرے ہاتھ پر مارا یعنی حضرت عثمان کی طرف سے خود بیعت فرمائی۔ (ترمذی،
5/392، حدیث: 3722)
حضرت شیخ
عبدالحق محدث دہلوی اس حدیث کے تحت فرماتے ہیں کہ سرکار اقدس ﷺ نے اپنے دست مبارک
کو حضرت عثمان غنی کا ہاتھ قرار دیا یہ وہ فضیلتیں جو حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ
کے ساتھ ہے۔ (اشعۃ اللمعات،4/668)
کیسا انداز
الفت ہے کہ خود اپنے دست مبارک سے آقا دو جہاں ﷺ نے حضرت عثمان غنی کی طرف سے بیعت
فرمائی اور اس فضیلت سے ان کے سوا اور کوئی دوسرا صحابی کبھی مشرف نہیں ہوا۔
4۔حضرت
علی سے محبت: حضور
ﷺ کی حضرت علی سے محبت کا پہلو کئی احادیث مبارکہ میں نمایاں ہے یوم غدیر میں حضور
ﷺ نے فرمایا: میں جس کا مولا ہوں علی بھی اس کے مولا ہیں، یا اللہ جو شخص علی سے
محبت رکھے تو بھی اس سے محبت رکھ اور جو شخص علی سے عداوت رکھے تو بھی اس سے عداوت
رکھ۔ (خلفائے راشدین، ص 278)
5۔
حضرت طلحہ بن عبید اللہ: حضرت موسی بن طلحہ اپنے والد سے روایت
کرتے ہیں کہ ارشاد نبی ﷺ ہے: طلحہ نے اپنے عمل سے جنت کو واجب کرلیا۔ (ترمذی، 5/412،
حدیث:3759)اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے
فرمایا: جو شخص زمین پر چلتے ہوئے شہید کو دیکھنا چاہے وہ طلحہ بن عبید اللہ کو
دیکھ لے۔ (ترمذی، 5/413، حدیث: 3760
یہ عظیم
ارشادات نبویہ اس محبت کا اظہار ہے جو حضور ﷺ کے قلب انور میں حضرت طلحہ کے لیے
موجزن تھی اور ان کے بلند مقام کی واضح دلیل ہے۔
6۔
حضرت زبیر سے محبت: حواری انتہائی قریبی جانثار اور مخلص مددگار کو
کہتے ہیں نبی کریم ﷺ کا حضرت زبیر کو اپنا حواری قرار دینا ان سے بےمثال محبت
اعتماد اور قربت کی دلیل ہے، چنانچہ حضرت جابر بن عبداللہ روایت کرتے ہیں کہ نبی
کریم ﷺ نے فرمایا: ہر نبی کا ایک خاص مددگار حواری ہوتا ہے اور میرا حواری زبیر ہے۔
(بخاری، 2/539، حدیث:3719)
7۔حضرت
عبدالرحمن سے محبت: حضرت عبدالرحمن فرماتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے مجھے دومۃ
الجندل کی طرف لشکر کا امیر بنا کر بھیجا اور اپنے دست مبارک سے میرے سر پر عمامہ باندھا۔
8۔حضرت
سعد سے محبت: حضور
ﷺ کی حضرت سعد بن ابی وقاص سے محبت واضح ہے کہ ان کے جنتی ہونے کی صراحت فرما دی
ایک موقع پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اے اللہ سعد کے تیر کو ٹھیک نشانے پر لگا دے
اور اس کی دعا قبول فرما۔
9۔
حضرت سعید بن زید: حضرت سعید بن زید اولین اسلام قبول کرنے والوں میں
سے ہیں اور انہیں نام لے کر جنتی قرار دینا نبی اکرم ﷺ کی انتہائی محبت کی قطعی
دلیل ہے۔ 10۔حضرت ابو عبیدہ سے محبت: حضرت ابو
عبیدہ سے محبت کے متعلق حدیث مبارکہ ملاحظہ فرمائیں ایک موقع پر نبی اکرم ﷺ نے
فرمایا: ہر امت کا ایک امین ہوتا ہے اور اس امت کے امین ابو عبیدہ بن جراح ہیں۔ (بخاری،
2/545، حدیث:3744)
Dawateislami