حضور کی
عشرہ مبشرہ سے محبت از بنت عبدالوحید، جامعۃ المدینہ تلواڑہ مغلاں سیالکوٹ
سرکار ﷺ نے جنہیں
دنیا میں ہی جنت کی بشارت دی انہیں عشرہ مبشرہ کہتے ہیں، حضور نے خود ان کے فضائل
بیان فرمائے، انہیں اپنا قریبی ساتھی بنایا اور ان کی عظمت کو تمام صحابہ کرام میں
بلند کیا جیسے فتح خیبر کے دن حضرت علی رضی اللہ عنہ کو جھنڈا دیتے ہوئے فرمایا کہ
وہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتے ہیں ان کا مقام خاص تھا اور آپ نے ان کی
تعریف کی انہیں اپنی صحبت کے لیے منتخب کیا اور ان کے ذریعے اسلام کو پھیلایا۔
عشرہ
مبشرہ کون ہیں؟ یہ
وہ خوش نصیب دس صحابہ کرام ہیں جنہیں نبی اکرم ﷺ نے دنیا میں ہی جنت کی بشارت دی
تھی جن کے نام درج ذیل ہیں: حضرت ابوبکر صدیق، حضرت عمر فاروق، حضرت عثمان غنی،
حضرت علی المرتضیٰ، حضرت طلحہ بن عبیداللہ، حضرت زبیر بن عوام، حضرت عبد الرحمٰن
بن عوف، حضرت سعد بن ابی وقاص، حضرت سعید بن زید، حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ
عنہم
محبت
کی نشانیاں:
جنت
کی بشارت: آپ
نے انہیں خاص طور پر جنت کی خوشخبری دی جو کہ آپ کی ان سے خاص محبت کی علامت ہے۔
فضائل
بیان کرنا: حضور
نے ان کے بلند مقامات اور فضائل بیان کیے جیسے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی محبت اور
فتح خیبر کا واقعہ۔
خاص
رفاقت: یہ
صحابہ حضور ﷺ کے خاص تربیت یافتہ تھے اور دین کی خدمت کے لیے منتخب ہوئے جیسے حضرت
انس رضی اللہ عنہ کے والد عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے بارے میں آپ نے فرمایا:
ابھی ایک جنتی آدمی تم پر آئے گا۔
تربیت
اور تعلیم: آپ
نے ان کی ایسی تربیت فرمائی کہ وہ اعلیٰ درجات پر فائز ہوئے جیسا کہ حضرت عبد
الرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کا یہ قول کہ میں کسی مسلمان کے لیے بغض نہیں رکھتا
اور جو اللہ نے اسے دیا ہے اس پر حسد نہیں کرتا۔
دین
کا علمبردار بنانا: ان صحابہ کے ذریعے دین اسلام کو دنیا کے گوشے گوشے
میں پھیلایا گیا اور انہوں نے عظیم قربانیاں دیں۔
Dawateislami