حضور
کی عشرہ مبشرہ سے محبت از بنت نصیر احمد،جامعۃ المدینہ خالد ٹاؤن اوکاڑہ
عشرہ کے معنیٰ
ہیں ”دس“ اور مبشرہ کے معنی ہیں ”خوشخبری دیے ہوئے“۔ یعنی وہ دس جلیل القدر،عظیم
اور خوش نصیب صحابہ جنہیں پیارے آقا ﷺ نے دنیا ہی میں نام بنام جنتی ہونے کی نوید
دی۔ یوں تو ہر صحابی کی ہی بہت شان ہے لیکن عشرہ مبشرہ کی شجاعت، ایثار، وفاداری،جذبہ
عشق و محبت اور جس انداز سے راہ خدا میں انہوں نے اپنا تن من دھن قربان کیا اس کی
مثال نہیں ملتی۔
چنانچہ حضرت
عبدالرحمٰن بن حمید رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت سعید بن زید
رضی اللہ عنہ نےایک مجلس میں انہیں یہ حدیث بیان کی کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:
دس آدمی جنّتی ہیں: ابوبکر جنّتی ہیں، عمر جنّتی ہیں،عثمان،علی، زبیر، طلحہ،عبد الرّحمٰن
بن عوف، ابوعبیدہ بن جراح اور سعد بن ابی وقاص جنّتی ہیں۔
حضرت سعید بن
زید رضی اللہ عنہ نو افراد کے نام بتا کر دسویں پر خاموش ہوگئے، لوگوں نے کہا:اے
ابو الاعور! ہم آپ کو اللہ کی قسم دےکر پوچھتے ہیں کہ دسواں کون ہے؟ فرمایا: تم
نے مجھے قسم دی ہے تو سنو! دسواں فرد ابوالاعور ہے (ابوالاعور حضرت سعید بن زید کی
کنیت ہے) ۔
عشرہ مبشرہ کا
شرف پانے والےحضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ نہایت،متقی، پرہیزگار، باوقار شخصیت
کے حامل یہ وہ صحابی ہیں کہ جنہوں نے اپنی ساری عمر دین حنیف پر قربان کر دی۔دنیا
سے بے نیاز اور عشق مصطفی میں ہر لمحہ سرگرداں رہنے والے یہ وہ صحابی ہیں کہ جن کے
اندازِ عشق و محبت نے رسول اللہ ﷺ کا دل مبارک جیت لیا آپ نے فرمایا: اور سعید بن
زید جنتی ہے۔ (ترمذی، 5/416، حدیث: 3768)
خلیفہ
اول حضرت ابوبکر صدیق: ان شان والے صحابی سے کون واقف نہ ہو گا جو سخاوت
کے دریا، پیکر صدق و وفا، یار غار ہیں کہ جن کی اداؤں پہ فرشتے بھی عاشق ہیں۔ ان
کی عظیم قربانیوں کو یاد کرتے ہوئے سیدی رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: انسانوں میں
جس نے سب سے زیادہ میرا ساتھ دیا اور مجھ پر مال خرچ کیا وہ ابوبکر ہیں اللہ کے
سوا اگر میں کسی کو دوست بناتا تو ابوبکر کو دوست بناتا وہ میرے اسلامی بھائی ہیں۔(بخاری،
1/162، حدیث: 466)
خلیفہ
دوم حضرت عمر فاروق: بارعب اور پروقار شخصیت کہ جن سے شیطان بھی ڈرتا
تھا۔خشیت الہی میں ہر لمحہ ڈوبے ہوئے یہ وہ صحابی ہیں کہ جن کے قبول اسلام کے لیے
خصوصاً حضور ﷺ نے دعا فرمائی۔ آپ ﷺ ان سے اپنی محبت کا اظہار کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
جس نے عمر کو ناراض کیا اس نے مجھے ناراض کیا اور جس نے عمر کے ساتھ محبت کی اس نے
میرے ساتھ محبت کی۔ اللہ عرفہ والوں پر بالعموم اور حضرت عمر پر بالخصوص فرشتوں کے
سامنے فخر کرتا ہے۔ اللہ تعالی نے جو بھی نبی بھیجا اس کی امت میں محدث ہوا ہے اور
اگر میری امت میں کوئی شخص محدث ہے تو وہ حضرت عمر ہیں۔ صحابہ کرام نے عرض کی: یا
رسول اللہ ﷺ! محدث کیسے ہوتا ہے؟ فرمایا: جس کی زبان سے فرشتے کلام کرتے ہیں۔ (معجم
اوسط، 5/102، حدیث:6726)
مشہور جلیل
قدر تابعی کبیر امام مسروق بن الاجدع رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ابوبکر اور عمر
سے محبت کرنا اور ان کی فضیلت پہچاننا سنت ہے۔
خلیفہ
سوم حضرت عثمان غنی: حسن و جمال کے پیکر، شرم و حیا کے خوگر باکمال
اخلاق کے حامل وہ صحابی کہ جن سے فرشتے بھی حیا کرتے تھے۔سیدی رسول اللہ ﷺ کو اس
قدر عزیز تھے کہ آپ انہیں محبت بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے فرماتے ہیں: اے عثمان!
اگر میری 40 بیٹیاں بھی ہوتیں تو میں یکے بعد دیگرے ان سب کا نکاح تم سے کر دیتا
یہاں تک کہ ان میں سے ایک بھی باقی نہ رہتی۔ ابن عدی اور ابن عساکر نقل کرتے ہیں
کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ہم حضرت عثمان
کو اپنے باپ حضرت ابراہیم سے مشابہ پاتے ہیں۔
خلیفہ
چہارم حضرت علی: شاہ
مرداں، فاتح خیبر،،علم و حکمت کے میدان کے شہسوار،شیر خدا یہ وہ صحابی ہیں جو رسول
اللہ ﷺ کو اتنے پیارے تھے کہ ان کو محبت سے یاد کرتے ہوئے فرمایا: علی مجھ سے ہیں
میں علی سے ہوں۔ (ترمذی، 5/401، حدیث:3740)
امام بخاری
اور امام مسلم نقل کرتے ہیں، حضرت سعد بن ابی وقاص سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے
غزوہ تبوک میں آپ رضی اللہ عنہ کو مدینہ منورہ میں رہنے کا حکم دیا۔آپ نے عرض کی: یا
رسول اللہ! کیا آپ مجھے یہاں عورتوں اور بچوں میں چھوڑ کر جا رہے ہیں؟ سیدی رسول
اللہ ﷺ نے ان پر مبارک نگاہیں جمائےفرمایا: کیا تم اس بات سے راضی نہیں ہو کہ
تمہارا مرتبہ میرے ہاں وہی ہو جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ہاں حضرت ہارون کا تھا،
البتہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ (تاریخ
الخلفاء، ص 132، 133 ماخوذاً
حضرت
زبیر بن العوام: حاملین
عشرہ مبشرہ میں سے ایک ہستی حضرت زبیر بن العوام رضی اللہ عنہ نہایت جری، ہمت و
شجاعت کے پیکر وہ دلیر صحابی ہیں کہ تقوی و پرہیز گاری جن کا خاصہ تھا حضور پر نور
کے پھوپھی زاد بھائی تھے۔ حضور ﷺ کی ان سے محبت محض رشتے داری کی بنیاد پر نہیں
تھی بلکہ ان کی قربانیوں،دین اسلام سے محبت اور وفا نے سیدی رسول اللہ ﷺ کو اتنا
متاثر کیا کہ جوش محبت سے آپ نے فرمایا: ہر نبی کا ایک حواری ہوتا ہے، میرا حواری
زبیر ہے۔
حضرت
طلحہ بن عبیداللہ: سیدی رسول اللہ ﷺ سے طلحۃ الخیر، طلحۃالفیّاض اور
طلحۃالجود کے القابات پانے والے وہ عظیم صحابی ہیں کہ عشق مصطفیٰ میں جن کا قلب
اطہر ہر لمحہ جھومتا رہتا تھا۔
غزوہ احد کے
موقع پر جب حضور علیہ الصلوۃ والسلام کا سر اقدس زخمی ہوا حضرت علی رضی اللہ عنہ
نے ہاتھ پکڑا سیدنا طلحہ نے کمر مبارک کو سہارا دیا سیدہ فاطمۃ الزہرا نے خون
دھویا کمزوری کے باعث پہاڑی پر نہ چڑھ سکے تو حضرت طلحہ نے اپنے کندھے پیش کیے
حضور نے ان کندھوں پر قدم رکھے اور اوپر چڑھ گئے۔ ان کی عقیدت کو دیکھ کر آپ ﷺ نے
محبت بھرے انداز میں فرمایا: طلحہ نے اپنے اوپر جنت لازم کر لی۔ (ترمذی، 5/412، حدیث:3759)
حضرت
عبد الرحمٰن بن عوف: عشرہ مبشرہ کے ایک روشن چراغ حضرت عبدالرحمن بن عوف
رضی اللہ عنہ امامتِ رسول کا شرف پانے والے، حضور کے ظاہری وصال کے بعد امہات
المومنین کی کفالت کرنے والے اور بارگاہ رسالت سے الصّادق البار کا لقب پانے والے
یہ وہ عظیم صحابی ہیں کہ جن کی سخاوت و فیاضی اور باکمال تجارت کے مد نظر سیدی
رسول اللہ ﷺ نے انہیں اللہ پاک کے تاجروں میں سے قرار دیا۔
سیدی رسول
اللہ ﷺ اور اہلِ بیت سے محبت حضرت عبدالرحمن بن عوف کا عقیدہ تھا۔ ایک مرتبہ سرکار
دوجہاں ﷺ نے لوگوں کو صدقہ دینے کی ترغیب دلائی تو حضرت عبد الرحمٰن بن عوف رضی
اللہ عنہ نے آدھا مال گھر والوں کے لئے چھوڑا اور بقیہ آدھا مال راہ خدا میں پیش
کردیا۔اس پر نبی کریم ﷺ نے آپ کو دعا سے نوازا کہ اللہ کریم اس میں برکت عطا
فرمائے جو تم نے دیا اور اس میں بھی جو اہل و عیال کے لئے رکھ چھوڑا۔ (خازن،2/265)
آپ ﷺ کی اس
محبت بھری دعا کا یہ اثر ہوا کہ آپ اپنے دور کے امیر اور کامیاب ترین تاجر ٹھرے۔
حضرت
سعد بن ابی وقاص: انہیں
عشرہ مبشرہ میں سے ایک نامور شخصیت حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ میدان جنگ
میں ہمت و شجاعت اور دلیری کے بے تاج بادشاہ، تیر اندازی کے زبردست ماہر اور محبوب
خدا ﷺ پر جان نچھاور کر دینے والے یہ وہ باکمال،قدیم الاسلام صحابی ہیں کہ جن
کیلئے حضور اقدس ﷺ نے اپنی محبت کا اظہار کرتے ہوئے خاص طور پر یہ دعا فرمائی: اے
اللہ! ان کے تیر کے نشانہ کو درست فرمادے اور ان کی دعا کو مقبول فرما۔
غزوہ احد کے
موقع پر آپ ﷺ نے اپنے تمام تر تیر حضرت سعد بن ابی وقاص کے سپرد کر دیئے اور
فرمایا: اے سعد! میرے ماں باپ تجھ پر قربان ہوں تیر اندازی کرو۔ (بخاری،3/37، حدیث:4055)
حضرت علی
فرماتے ہیں: سعد بن ابی وقاص کے علاوہ حضور نے کسی کو یہ الفاظ نہیں فرمائے۔
حضرت
ابوعبیدہ بن الجراح: عشرہ مبشرہ کے آخری ستارے حضرت ابو عبیدہ بن الجراح
رضی اللہ عنہ نہایت ذہین و فطین، عابد و زاہد، جنگی امور کے ماہر یہ وہ خوش نصیب
صحابی ہیں جنہیں بارگاہ رسالت سے امین الامت کا خطاب ملا۔ چنانچہ حضرت انس بن مالک
روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ہر امت کا ایک امین ہوتا ہے اور اس امت
کے امین ابو عبیدہ بن الجراح ہیں۔ (بخاری، 2/545، حدیث:3744)
دامن
مصطفی سے جو لپٹا یگانہ ہو گیا جس
کے حضور ہو گئے، اس کا زمانہ ہو گیا
بے شک یہ وہ
صحابی ہیں جنہوں نے دامنِ مصطفی کو یوں تھاما کہ رہتی دنیا تک کائنات کی ہر شے ان
کا ذکر خیر کرتی رہے گی۔
Dawateislami