اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو ایسی جماعت عطا فرمائی جو ایمان، اخلاص، قربانی اور وفاداری میں بے مثال تھی۔ ان ہی خوش نصیب صحابہ کرام میں سے دس عظیم ہستیاں وہ ہیں جنہیں حضور ﷺ نے دنیا ہی میں جنت کی بشارت عطا فرمائی۔ یہ حضرات عشرہ مبشرہ کہلاتے ہیں۔ حضور ﷺ کی ان مقدس ہستیوں سے محبت محض زبانی نہیں بلکہ عملی، قلبی اور مسلسل تھی، جو قرآن، حدیث اور سیرت کے واقعات سے واضح ہوتی ہے۔

عشرہ مبشرہ کے نام: حضرت ابو بکر صدیق، حضرت عمر فاروق، حضرت عثمان غنی، حضرت علی المرتضیٰ، حضرت طلحہ، حضرت زبیر، حضرت عبدالرحمن بن عوف، حضرت سعد بن ابی وقاص، حضرت سعید بن زید اور حضرت ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہم۔

حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ابو بکر جنتی ہیں، عمر جنتی ہیں، عثمان جنتی ہیں، علی جنتی ہیں، طلحہ جنتی ہیں، زبیر جنتی ہیں، عبدالرحمن بن عوف جنتی ہیں، سعد بن ابی وقاص جنتی ہیں، سعید بن زید جنتی ہیں اور ابو عبیدہ بن الجراح جنتی ہیں۔ (ترمذی، 5/610، حدیث: 3747)

یہ حدیث خود اس بات کی دلیل ہے کہ حضور ﷺ کو ان حضرات سے کتنی محبت اور اعتماد تھا کہ سب کے نام ایک ساتھ لے کر جنت کی بشارت دی۔

قرآن کی روشنی میں صحابہ کا مقام:

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: وَ السّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُهٰجِرِیْنَ وَ الْاَنْصَارِ وَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُمْ بِاِحْسَانٍۙ-رَّضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ (پ 11، التوبۃ، 100) ترجمہ: اور سبقت کرنے والے مہاجرین و انصار اور ان کے پیروکار جو نیکی کے ساتھ ان کے ساتھ ہوئے، اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے۔

مفسرین کے مطابق اس آیت میں سب سے اعلیٰ درجہ انہی جلیل القدر صحابہ کا ہے جن میں عشرہ مبشرہ سرفہرست ہیں۔ حضور ﷺ کی محبت دراصل اللہ تعالیٰ کی رضا کے مطابق تھی۔

حضرت ابو بکر صدیق سے خصوصی محبت: حضور ﷺ نے فرمایا: اگر میں اللہ کے سوا کسی کو خلیل بناتا تو ابو بکر کو بناتا۔ (بخاری، 1/162، حدیث: 466)

یہ حدیث اس بے مثال محبت اور قرب کو ظاہر کرتی ہے جو عشرہ مبشرہ کے سردار حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو حاصل تھا۔

حضرت عمر فاروق کے بارے میں محبت بھرے الفاظ: نبی کریم ﷺ نے فرمایا: عمر جس راستے سے چلتے ہیں، شیطان اس راستے سے ہٹ جاتا ہے۔ (بخاری، 4/205، حدیث: 3683)

یہ حدیث حضور ﷺ کے دل میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے مقام اور محبت کو واضح کرتی ہے۔

حضرت عثمان غنی سے حیا اور محبت: ایک موقع پر حضور ﷺ نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے لیے اپنی نشست درست فرمائی اور فرمایا: کیا میں اس شخص سے حیا نہ کروں جس سے فرشتے حیا کرتے ہیں؟ (مسلم، ص 1004، حدیث: 6209)

یہ محبت احترام، ادب اور عظمت کا اعلیٰ نمونہ ہے۔

حضرت علی المرتضیٰ سے قلبی تعلق: نبی کریم ﷺ نے فرمایا: علی مجھ سے ہے اور میں علی سے ہوں۔ (ترمذی، 5/401، حدیث:3740)

یہ حدیث عشرہ مبشرہ میں شامل حضرت علی رضی اللہ عنہ سے حضور ﷺ کی گہری محبت کی روشن دلیل ہے۔

دیگر عشرہ مبشرہ سے محبت کے واقعات: غزوۂ تبوک میں حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی اقتدا میں نماز پڑھنا، حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے لیے میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں کہنا، اور حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کو اس امت کا امین قرار دینا، یہ سب واقعات اس عظیم محبت کے آئینہ دار ہیں۔

عشرہ مبشرہ سے حضور ﷺ کی محبت ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ صحابہ کرام کا احترام اور محبت ایمان کا حصہ ہے۔ جو ان سے محبت کرے وہ نبی کریم ﷺ سے محبت کرتا ہے اور جو ان کے راستے پر چلے وہ کامیاب ہے۔

اے اللہ! ہمیں عشرہ مبشرہ اور تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی سچی محبت نصیب فرما، ان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرما اور ہمیں نبی کریم ﷺ کی شفاعت نصیب فرما۔